ایس ایچ او ودیگر پرمقدمہ کاحکم چیلنج کرنیکی درخواست خارج

لاہور (خصوصی رپورٹ)لاہور ہائیکورٹ نے ایڈیشنل سیشن جج پھالیہ کی جانب سے ایس ایچ او تھانہ پاہڑیانوالی سمیت 7 افراد کیخلاف اندراج مقدمہ سے متعلق حکم چیلنج کرنے کی آئینی درخواست خارج کردی۔ جسٹس شیریں عمران نے تحریری فیصلے میں قرار دیا کہ متنازعہ حکم میں شکایت کنندہ کا بیان ریکارڈ کرکے قانون کے مطابق کارروائی کرنے کی ہدایت کی گئی تھی، کسی کو قصوروار یا بے قصور قرار نہیں دیا گیا۔ پولیس فیصلے میں دی گئی آبزرویشنز سے متاثر ہوئے بغیر قانون کے مطابق کارروائی مکمل کرے۔ درخواست گزار ایس ایچ او پاہڑیانوالی، خاتون کشور رخسانہ اور دیگر نے25 اگست 2026 کو جاری ایڈیشنل سیشن جج پھالیہ کے حکم کو چیلنج کیا گیا تھا۔ وکیل حافظ مبشر نے مو?قف اختیار کیا کہ فریقین میں تنازع دیوانی نوعیت کا ہے جسکا تعلق وراثت، جائیداد اور نکاح نامے میں حق مہر اندراج معاملے سے ہے۔ پولیس اور متعلقہ یونین کونسل نے بھی شکایت کنندہ کے مو?قف کی تائید نہیں کی اسلئے متنازعہ حکم برقرار نہیں رہ سکتا۔ فیصلے کے مطابقدرخواست گزاروں کے اعتراضات متنازعہ حقائق کے تعین سے متعلق ہیں، جن میں نکاح نامے میں متنازعہ اندراج، گھر سے بیدخلی اور دستاویزات چھیننے کے الزامات شامل ہیں۔ ایسے معاملات کا فیصلہ عموماً شہادتیں ریکارڈ کیے بغیر یا جائزہ لیے بغیر نہیں کیا جاسکتا۔ عدالت نے قرار دیا کہ ایڈیشنل سیشن جج نے تفتیشی افسر کو شکایت کنندہ کا بیان قلمبند کرنے اور دونوں فریقین سے متعلقہ شواہد اکٹھے کرنے کی ہدایت کی تھی، لہٰذا آئینی دائرہ اختیار میں مداخلت کا کوئی جواز نہیں بنتا۔