(تحریک انصاف کااحتجاج)پورا ملک آج ہی جام
پنجاب ودیگر صوبوں سے ایف سی ، پولیس کے 30ہزار اہلکار اسلام آباد پہنچ گئے، لاہور رنگ روڈ ، ٹرانسپورٹ اڈے بھی بند ،میٹروبس کی بندش کا شیڈول جاری،میانوالی میں بھی رینجرز تعینات،پنجاب میں دفعہ 144تین دن تک نافذ رہے گی،لاہور 500،گوجرانوالہ میں 100سے زائد کارکنوں کو حراست میں لے لیا،چھاپے جاری، اسلام آباد ریڈ زون مکمل سیل کیا جائیگا
لاہور(کرائم رپورٹر)پاکستان تحریک انصاف کااحتجاج کل 24 نومبر کو ہوگا، احتجاج اور اسلام آباد کی طرف مارچ کو روکنے کیلئے پنجاب بھر میں جلسے ،جلوسوں پر پابندی، کنٹینرز لگ گئے، موٹرویز اور جی ٹی روڈ بھی بند کردی گئی، جبکہ پولیس کے چھاپوں میں سینکڑوں افراد کو گرفتار کرلیا گیا، وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا اسلام آباد میں کسی کو بھی جلسے، جلوس یا دھرنے کی اجازت نہیں دیں گے،اسلام آباد ہائیکورٹ کے حکم پر من وعن عمل ہوگا۔تفصیلات کے مطابق پی ٹی آئی کی جانب سے کل 24 نومبر کو اسلام آباد ڈی چوک میں احتجاج و دھرنے کیلئے کال دی گئی ہے، احتجاج سے نمٹنے کیلئے ریاستی ادار ے حرکت میں آگئے، پنجاب حکومت نے صوبہ بھر میں دفعہ 144 نافذ کر دی ، محکمہ داخلہ کے نوٹیفیکیشن کے مطابق پنجاب میں ہر قسم کے احتجاج، جلسے، جلوس، ریلیوں، دھرنوں اور ایسی تمام سرگرمیوں پر پابندی عائد کر دی گئی ہے،یہ پابندی آج ہفتہ 23 نومبر سے سوموار 25 نومبر تک 3 دن کیلئے نافذ کی گئی ہے۔پنجاب، سندھ اوردیگر صوبوں سے ایف سی سمیت 30 ہزار پولیس اہلکار اسلام آباد پہنچ گئے۔پنجاب سے 19ہزار اہلکار و افسران ،سندھ پولیس اور ایف سی کی 5 ،5ہزار نفری اور آزاد کشمیر کی ایک ہزار نفری اسلام آباد پہنچی ہے،ہر ضلع کی پولیس کی کمانڈ بھی ساتھ منگوائی گئی ہے۔ آئی جی پنجاب بھی اسلام آباد میں ہیں،اسلام آباد پہنچنے والی نفری کو پولیس لائنز، مختلف سکولوں اور عمارتوں میں ٹھہرایا گیا ہے۔پی ٹی آئی کے قافلوں کی اسلام آباد روانگی کے پیش نظر لاہور پولیس نے رنگ روڈ بند رکھنے کا مراسلہ کمانڈنٹ رنگ روڈ کو بھجوادیا،جس میں کہا گیا ہے کہ رنگ روڈ 23اور24نومبر کو صبح 8سے 6بجے تک ٹریفک کیلئے بند رکھا جائے۔راوی ٹول پلازہ کو دونوں اطراف سے کنٹینر لگا کر بند کر دیا گیا،شاہدرہ،امامیہ کالونی، برکت کالونی سے لاہور آنے والے راستے بھی بند کردئیے گئے۔ سگیاں کی جانب السعید چوک، شیخوپورہ روڈ بھی دونوں اطراف سے بند کردیا،نیو راوی پل کی جانب شاہدرہ بھی ٹریفک کے لئے مکمل طور پر بند ہے اور بابو صابو چوک جانب ٹھوکر اورامامیہ کالونی پھاٹک دونوں اطراف سے بند کردیا گیا۔دوسری جانب وزیرآبادچناب ٹول پلازہ کے مقام پر جی ٹی روڈ کو بندکردیا گیا،چناب ٹول پلازہ کنٹینر رکھ کر دونوں اطراف سے بند کیا گیا،اسلام آباد جانے کیلئے پبلک ٹرانسپورٹ کو جزوی بند کردیا گیا،دریائے چناب کے دونوں پل کے دونوں اطراف ضلع گجرات اور ضلع گوجرانوالہ کی پولیس کی بھاری نفری تعینات ہے۔سوہدرہ کے قریب پکی گڑھی کے مقام پر بھی رکاوٹیں کھڑی کر کے سیالکوٹ روڈ کو بند کردیا گیا۔احتجاج کے پیش نظر اسلام آبادریڈزون کومکمل طورپرسیل کیا جائیگا۔میٹرو بس انتظامیہ نے راولپنڈی میں میٹرو بس سروس 4 روز کیلئے بند کردی،انتظامیہ کے مطابق ٹریک کی بحالی کے باعث میٹروبس سروس 28 نومبرسے یکم دسمبرتک بند رہے گی۔ادھر حکومت نے رات 8بجتے ہی موٹرویز بند کر دئیے،موٹروے پولیس کے مطابق، ایم 1، ایم 2، ایم 3، ایم 4، ایم 11، اور ایم 14 کو روڈ مرمت کے باعث بند کیا جا رہا ہے،یہ بندش پشاور سے اسلام آباد اور لاہور سے اسلام آباد کی موٹرویز پر رہے گی،اس کے علاوہ، لاہور سے عبدالحکیم اور پنڈی بھٹیاں سے ملتان تک بھی موٹروے بند رہے گی۔اسلام آباد کی حدود میں قائم تمام ٹرانسپورٹ اڈے بھی رات 8بجتے ہی بند کر دئیے گئے،امن و امان برقرار رکھنے کیلئے ضلع میانوالی میں رینجرز کی ایک کمپنی بھی تعینات کر دی گئی ، حکم کی خلاف ورزی کرنے والے افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔یہ حکم 28 نومبر تک جاری رہے گا۔صوبائی دارالحکومت کوئٹہ سے پنجاب جانے والی تمام مسافر کوچز کے سفر پر پابندی عائد کردی گئی ٹرانسپورٹرز کا کہنا ہے کہ مذکورہ پابندی 25 نومبر تک عائد کی گئی کوچز پر پابندی کے باعث مسافروں کو شدید پریشانی اور مشکلات کاسامنا کرنا پڑرہا ہے۔ ادھر پولیس کی طرف سے کارکنوں کی گرفتاریوں کا سلسلہ شروع ہوگیا، لاہور پولیس ذرائع کے مطابق مختلف علاقوں میں چھاپہ مار کارروائیوں میں 500 سے زائد کارکنوں کو گرفتار کر لیا گیا ہے،ملت پارک، ہنجروال، منصورہ، قائد اعظم انڈسٹریل اسٹیٹ، گرین ٹائون ،شاہدرہ ٹائون، بادامی باغ اور تاجپورہ سے بھی گرفتاریاں کی گئی ہیں۔ رات گئے 14 کارکنوں کو ٹائون شپ اور گرین ٹاون سے گرفتار کیا گیا۔گوالمنڈی پولیس نے سابق لارڈ میئر لاہور خواجہ ریاض محمود کے گھر پر چھاپہ مار کر انہیں گرفتار کر لیا،خاندانی ذرائع کے مطابق خواجہ ریاض محمود نے سیاست چھوڑ رکھی ہے اور ان کا کسی سیاسی جماعت سے کوئی تعلق نہیں۔ ادھر گوجرانوالہ میں ایک سو کے قریب کارکنوں کو حراست میں لیا گیا جبکہ پی ٹی آئی کے ایم پی اے چودھری طارق اور دیگر راہنمائوں کے گھروں پر بھی چھاپے مارے گئے لیکن کسی کی گرفتاری عمل میں نہ لائی جا سکی۔علاوہ ازیں وزیر داخلہ محسن نقوی نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کے پی حکومت بتائے کہ ان کی توجہ وہاں دہشت گردی ختم کرنے پر ہونی چاہیے یا اسلام آباد دھاوا بولنا لازمی ہے ، آج ایک طرف جنازے ہورہے ہیں اور دوسری طرف دھاوا بولنے کی تیاری ہورہی ہے۔ احتجاج کو روکنے کی کوشش کے دوران ہونے والے ممکنہ جانی نقصان کا ذمے دار کون ہوگا؟ کے سوال پر وزیر داخلہ نے کہاکہ ذمے دار وہی ہوں گے جو اسلام آباد ہائیکورٹ کے حکم کی خلاف ورزی کرکے آرہے ہیں، اسلام آباد میں کسی کو بھی جلسے، جلوس یا دھرنے کی اجازت نہیں دیں گے،اسلام آباد ہائیکورٹ کے حکم پر من وعن عمل ہوگا۔انہوں نے کہا خیبرپختونخوا میں امن و امان کی ذمے داری صوبائی حکومت کی ہے، کل انہیں دہشت گردی کے پیش نظر ایف سی کی 15 پلاٹون چاہیے تھیں، حالانکہ ہمیں اسلام آباد میں بھی ایف سی کی ضرورت تھی لیکن ہم نے یہاں روک کر نفری وہاں بھجوائی ہے۔