ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے حالیہ پریس بریفنگ میں بھارت پر پاکستان میں ریاستی دہشت گردی کی سرپرستی کا الزام عائد کرتے ہوئے "ناقابل تردید شواہد" پیش کیے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ ایک بھارتی تربیت یافتہ پاکستانی شہری کو 25 اپریل کو گرفتار کیا گیا، جس کے قبضے سے دھماکہ خیز مواد، بھارتی ساختہ ڈرون، موبائل فونز اور نقدی برآمد ہوئی۔ فورینزک تجزیے سے معلوم ہوا کہ اس کے بھارتی فوجی افسران سے روابط تھے، جن میں ایک حاضر سروس میجر بھی شامل ہے۔ لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے بتایا کہ گرفتار دہشت گرد نے اعتراف کیا کہ اس نے بھارتی فوجی افسران کی ہدایات پر پاکستان میں چار بم دھماکے کیے۔ انہوں نے ایک آڈیو کلپ بھی پیش کیا جس میں مبینہ طور پر ایک بھارتی افسر دہشت گرد کو عوامی مقام پر حملہ کرنے کی ہدایت دے رہا ہے تاکہ میڈیا کوریج حاصل کی جا سکے۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے مزید کہا کہ بھارت کی جانب سے پاکستان میں دہشت گردی کے لیے ریاستی سطح پر منصوبہ بندی کی جا رہی ہے، جس کا مقصد خطے میں امن کو سبوتاژ کرنا ہے۔
انہوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ بھارت کی ان کارروائیوں کا سنجیدگی سے نوٹس لے۔اس بریفنگ میں سیکرٹری داخلہ آفتاب درانی بھی موجود تھے، جنہوں نے داخلی سلامتی کے حوالے سے اقدامات پر روشنی ڈالی۔پاکستانی فوج کے ترجمان نے واضح کیا کہ بھارت کی ان کارروائیوں کا مقصد پاکستان کی داخلی سلامتی کو نقصان پہنچانا ہے، اور انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان اپنی خودمختاری اور سلامتی کا ہر قیمت پر دفاع کرے گا۔