راولپنڈی: سی بلاک سیٹلائٹ ٹاؤن میں 10 سالہ گھریلو ملازم بچے پر مبینہ تشدد کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ملزم کو گرفتار کر لیا، جبکہ متاثرہ بچے کو بحفاظت بازیاب کرا لیا گیا۔
پولیس کے مطابق کمسن گھریلو ملازم پر ڈنڈے سے تشدد کی ویڈیو منظر عام پر آنے کے بعد ملزم کی شناخت عادل ساجد کے نام سے ہوئی، جس کے خلاف قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ابتدائی تحقیقات کے مطابق ملزم باغ سرداراں میں واقع ایک پینٹ شاپ پر ملازم ہے، جبکہ متاثرہ بچہ گزشتہ تین ماہ سے اس کے گھر میں گھریلو ملازم کے طور پر کام کر رہا تھا۔واقعے کی اطلاع ملتے ہی سٹی پولیس آفیسر (سی پی او) حسن مشتاق سکھیرا نے فوری نوٹس لیتے ہوئے بچے کی بحفاظت بازیابی اور ملزم کی فوری گرفتاری کے احکامات جاری کیے۔سی پی او کی ہدایت پر تھانہ صادق آباد پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے 10 سالہ بچے، جس کی شناخت علی کے نام سے ہوئی ہے، کو بازیاب کر لیا اور ملزم کو گرفتار کر کے تھانے منتقل کر دیا۔
پولیس کے مطابق متاثرہ بچے کا تعلق ضلع اوکاڑہ سے ہے اور وہ گزشتہ تین ماہ سے 10 ہزار روپے ماہانہ اجرت پر ملزم کے گھر کام کر رہا تھا۔حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کا مقدمہ تھانہ صادق آباد میں درج کیا جا رہا ہے، جبکہ بچے کا طبی معائنہ کرانے کے بعد اسے مزید تحفظ اور نگہداشت کے لیے چائلڈ پروٹیکشن بیورو کے حوالے کیا جائے گا۔سی پی او حسن مشتاق سکھیرا نے کہا کہ بچوں اور خواتین پر تشدد کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ معصوم بچے پر ظلم کرنے والے ملزم کو قانون کے مطابق قرار واقعی سزا دلوائی جائے گی اور واقعے کی شفاف تحقیقات کے ذریعے ذمہ دار کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔