سائنسدانوں نے بغیر ٹرانسپلانٹ بال دوبارہ اگنے کا راز دریافت کرلیا

واشنگٹن (آئی این پی )سائنسدانوں نے جسم میں مالیکیولر نظام تلاش کیا ہے جو بالوں کے اگنے کا کام سنبھالتا ہے۔ اس دریافت کی وجہ سے بالوں کے گرنے کا ایک نیا اورآسان علاج ممکن ہو سکتا ہے، جس کے لیے آپ کو مہنگی دوائیں، سرجری یا بالوں کی پیوند کاری کی ضرورت نہیں پڑے گی۔اس نئی تحقیق کے مطابق بال گرنے کی عام قسم اینڈروجینیٹک ایلوپیسیا مستقل نہیں ہوتی بل کہ بال اگانے کے سگنلز میں خرابی کی وجہ سے بالوں کے فولیکلز عارضی طور پر غیر فعال ہو جاتے ہیں۔ جسم کے وہ پیغام جو بال اگانے کو کہتے ہیں، ایک دوسرے سے صحیح بات نہیں کر پاتے اور اس وجہ سے بالوں کے ننھے ننھے ذرات یا فولیکلز سو جاتے ہیں اور بال گرنا شروع ہو جاتے ہیں۔اب سائنسدان ایسے علاج پر کام کر رہے ہیں جو بالوں کے ان سوئے ہوئے فولیکلز کو جگا سکے۔ اس میں ایسے طریقے شامل ہیں جو مددگار پیغام بھیجیں، نقصان دہ سگنلز کو روکیں، خراب جینز کو ٹھیک کریں یا اسٹیم سیلز کے ذریعے بالوں کی نشوونما کو بڑھائیں۔