عالمی یومِ سکائوٹس

مقصود چغتائی
22 فروری کو پاکستان سمیت دنیا کے بیشتر ممالک میں عالمی یومِ سکائوٹس منایا جاتا ہے۔ سکائوٹ تحریک دنیا کے تقریباً 180 ممالک میں پھیلی ہوئی ہے اور یہ نوجوانوں کی سب سے بڑی عالمی تنظیموں میں شمار ہوتی ہے۔ اس کا بنیادی مقصد نسل، رنگ اور مذہب سے بالاتر ہو کر انسانیت کی خدمت اور نوجوانوں کی مثبت کردار سازی ہے۔نوعمری (13 سے 19 سال) انسان کی زندگی کا نہایت حساس دور ہوتا ہے۔ سازگار حالات اور اچھی صحبت نوجوان کو ڈاکٹر، انجینئر، وکیل یا کسی باعزت پیشے کی طرف لے جا سکتی ہے، جبکہ بری صحبت اسے سگریٹ نوشی، منشیات یا دیگر برائیوں کی طرف بھی دھکیل سکتی ہے۔ سکائوٹنگ کا مقصد نوجوانوں کو صحت مند اور تعمیری سرگرمیوں میں مصروف رکھنا ہے۔ کوہ پیمائی، ہائیکنگ، ٹریکنگ، سائیکلنگ، کیمپنگ، تیراکی، کشتی رانی، ابتدائی طبی امداد کی تربیت، گیجٹ ورک، پائنیرنگ اور تقریری مقابلے اسکاو?ٹنگ کے اہم اوزار ہیں۔ اسکاو?ٹنگ میں "پیٹرول سسٹم" متعارف کرایا گیا جس کا مطلب ہے کہ ہر فرد خود عملی طور پر حصہ لے اور ‘‘سیکھو اور کرو’’ کے اصول پر عمل کرے۔سکائوٹ تحریک کا آغاز 1907 میں انگلستان سے ہوا۔ اس کے بانی لارڈ بیڈن پاول تھے جو برطانوی فوج کے ایک جری افسر تھے اور ریٹائرمنٹ کے وقت لیفٹیننٹ جنرل کے عہدے پر فائز تھے۔ افریقہ میں زولو قبیلے کے خلاف جنگ کے دوران ان کی فوج تقریباً سو دن تک محاصرے میں رہی۔ ایک موقع پر انہوں نے چند لڑکوں کو اہم پیغام پہنچانے کی ذمہ داری سونپی جو انہوں نے کامیابی سے انجام دی۔ بعد ازاں کمک پہنچی اور میفکنگ قلعہ فتح ہوا۔ اس واقعے نے بیڈن پاول کو یہ سوچنے پر آمادہ کیا کہ نوجوان امن کے زمانے میں بھی بڑی ذمہ داریاں نبھا سکتے ہیں۔انگلستان واپسی پر انہوں نے اپنی مشہور کتاب Scouting for Boys تحریر کی اور براؤن سی آئی لینڈ پر پہلا سکائوٹ کیمپ منعقد کیا جو کامیاب رہا۔ یوں یہ تحریک یورپ، امریکہ اور برصغیر تک تیزی سے پھیل گئی۔ پنجاب بوائے  سکائوٹس ایسوسی ایشن 1912 میں قائم ہوئی۔ سر ڈگلس ینگ (چیف جسٹس) نے والٹن میں زمین کی خریداری کے لیے چندہ جمع کیا، جہاں چائنا بیرک، جمنازیم، مرکزی دفاتر اور 125 کمروں پر مشتمل ہاسٹل تعمیر ہوا۔ 12 مارچ 1937 کو لارڈ بیڈن پاول نے والٹن میں سوئمنگ پول کا افتتاح کیا۔ پنجاب کے گورنر سر ہنری کریک، سر والٹن اور نواب بہاولپور سر صادق محمد خان نے بھی مالی تعاون کیا۔
1947 میں قیامِ پاکستان کے بعد والٹن کو مہاجر کیمپ قرار دیا گیا جہاں بھارت سے آنے والے لاکھوں مہاجرین نے قیام کیا۔ اس موقع پر سکائوٹس، گرل گائیڈز اور مسلم لیگ رضاکاروں نے مہاجرین کی بھرپور خدمت کی۔ قائداعظم محمد علی جناح اور فاطمہ جناح نے والٹن کا دورہ کیا اور محدود وسائل کے باوجود سکائوٹس کی خدمات کو سراہا۔ قائداعظم پاکستان کے پہلے چیف سکائوٹ اور محترمہ فاطمہ جناح پہلی چیف گرل گائیڈ مقرر ہوئیں۔
1965 کی جنگ کے ہیروز سرفراز رفیقی , میجر عزیز بھٹی (نشانِ حیدر)، راشد منہاس اور معروف کمپیئر دلدار پرویز بھٹی بھی اپنے بچپن میں 
سکائوٹس سے وابستہ رہے۔سکائوٹنگ کا بنیادی مقصد کردار سازی اور نوجوانوں کی پوشیدہ صلاحیتوں کو نکھارنا ہے تاکہ وہ ایک باکردار، باصلاحیت اور ذمہ دار شہری بن سکیں۔