جوڈیشل کمیشن سمیت 2مطالبات مانے گئے توکال واپس لے سکتے ہیں:گفتگو
حل مذاکرات ہیں،امیدہے کل تک حکومتی کمیٹی بن جائے گی:بیرسٹرگوہر
اسلام آباد،راولپنڈی (خصوصی رپورٹ)بانی پی ٹی آئی کی ہمشیرہ علیمہ خان نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی نے آج سے اوورسیز پاکستانیوں کو ترسیلات زر روکنے اورپاکستان نہ بھجوانے کی کال دیدی ہے۔ قادر ٹرسٹ کیس ہائی کورٹ جائے گا، بانی پی ٹی آئی مزید تین یا چار ماہ جیل رہ سکتے ہیں۔ بیرسٹر گوہر کا میڈیا سے گفتگو میں کہناتھا کہ امید ہے حکومت جلد مذاکراتی کمیٹی تشکیل دیدے گی ،تمام مسائل کا حل مذاکرات میں پوشیدہ ہے۔تفصیل کے مطابق اڈیالہ جیل میں بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات کے بعد ان کی بہن علیمہ خان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ جب یہاں سے سزا ہوتی ہے تو ہائی کورٹ سے ریلیف مل جاتا ہے۔القادر ٹرسٹ کا کیس ہائی کورٹ جائے گا جس میں چھ مہینے لگ سکتے ہیں۔اگلے تین سے چار مہینے تو بانی پی ٹی آئی پکے جیل میں رہیں گے۔جو 26 نومبر کو احتجاج میں گرفتار ہوئے ان پر مزید مقدمات بنائے جارہے ہیں۔بانی پی ٹی آئی کے دو مطالبات ہیں، لیکن حکومت کی نیت نہیں کہ لوگوں کو رہا کیا جائے۔9 مئی اور 26 نومبر پر جوڈیشل کمیشن بنایا جائے۔اگر دو مطالبات پر ہماری بات مانتے ہیں تو اتوار سے زر مبادلہ نہ بھیجنے کی کال واپس لے لیں گے ۔ پی ٹی آئی رہنما شعیب شاہین نے کہا کہ ہم نے توشہ خانہ کیس میں عدالت کو کہا ہے کہ پہلے دیگر کیسز سنیں۔آصف زرداری اور نواز شریف کے خلاف مقدمات کو نہیں سن رہیلیکن بانی پی ٹی آئی کے خلاف مقدمات فاسٹ ٹریک پر چل رہے ہیں القادر ٹرسٹ میں کوئی نقصان نہیں ہوا۔پاکستان کو 190 ملین پائونڈ ملے اور بانی پی ٹی آئی کو ملزم بنادیا۔ بانی پی ٹی آئی نے واضح کہا ہے ان کا ٹویٹر اکاؤنٹ باہر سے ہی ہینڈل ہوگا ،تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے توقع ظاہر کی ہے کہ کل تک حکومتی مذاکراتی کمیٹی بن جائے گی تاہم انہوں نے کہا کہ سول نافرمانی کی تحریک پر بھی عمل ہوگا لیکن حل مذاکرات میں ہے۔بیرسٹر گوہر نے سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ سپیکر نے مذاکرات کے لیے کمیٹی بنانے کی یقین دہانی کروا دی ہے اور امید ہے کل تک کمیٹی بن جائے گی۔انہوں نے کہا کہ مذاکرات ہی ہوں گے، مذاکرات ہی حل ہیں۔ عمر ایوب خان نے ضلع کچہری پیشی کے موقع پر میڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے کہاکہ حکومت مذاکرات کیلئے سنجیدہ ہی نہیں،مذاکراتی ٹیم کو عمران خان تک اڈیالہ جیل میں رسائی نہیں دی گئی،عمران خان نے مذاکراتی ٹیم بنائی تاکہ کل کو کوئی یہ نہ کہے مذاکراتی ٹیم نہیں بنائی۔