مسرور احمد مسرور
EOBI نجی اداروں میں ملازمت کرنے والے بوڑھے ملازمین کی خدمت اور انھیں مراعات بہم پہنچانے کا ذمے دار ادارہ ہے جو ملازم اپنی سا ٹھ سال مدت ملا زمت پو ری کر نے اور کسی نجی ادارے میں کم ازکم پندرہ سال ملازمت مکمل کر لیتا ہے اور وہ ادارہ EOBI میں قانون کے مطابق رجسٹرڈ ہوتا ہے تو اس نجی ادارے کے ریٹائرڈ ملازمین کو EOBI پنشن دینے کا پا بند ہوتا ہے لیکن یہاں اداروں کی EOBI ایکٹ 1976 کے تحت رجسٹریشن میں جان بوجھ کر ڈنڈی ماری جاتی ہے اور اداروں کو EOBI میں رجسٹریشن سے گریز کیا جاتا ہے جس کے نتیجے میں بوڑھے ملازمین کو ان کے پنشن کے قانونی حق سے محروم ہونا پڑتا ہے۔ اس حوالے سے میرے زیر نظر EOBI ایڈجوڈیکیٹنگ اتھارٹی III ، اسلام آباد کے محمد ایوب کا ایک فیصلہ موجود ہے جو لاہور کے ایک نجی تعلیمی ادارے سلامت اکیڈمی سے متعلق ہے اس ادارے کو 1982 میں ایکٹ 1976 کے تحت رجسٹرڈ کیا جانا چاہیے تھا لیکن متعلقہ ریجنل آفس کی ملی بھگت سے یہ قانونی ذمے داری پوری نہیں کی گئی البتہ 14 سال کی تاخیر سے رجسٹریشن کا عمل 1996 میں مکمل کیا گیا نجی ادارے کی تاخیر سے رجسٹریشن کی وجہ سے کتنے ہی بوڑھے لوگ جو اولڈ ایج پنشن کے حق دار تھے انھیں 15 سال کی ملازمت پوری نہ ہونے کی وجہ سے پنشن کے قانونی حق سے محروم ہونا پڑا ہوگا۔
ای او بی آئی کی ایڈجوڈیکیٹنگ اتھارٹی III اسلام آباد نے اس کیس میں دیے گئے اپنے فیصلے میں سلامت اکیڈمی اور ای او بی آئی کے متعلقہ ادارے کی کوتاہی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس کوتاہی کے باعث کتنے ہی بوڑھے ملازمین کو اپنے قانونی حق سے محروم ہونا پڑا ہوگا کتنے بوڑھے پنشن کے حق کا فائدہ اٹھانے سے محروم رہ گئے ہوں گے، کئی تو اللہ کو پیارے ہو گئے ہوں گے فیصلہ کرنے والی اتھارٹی نے رسپانڈنٹس کو ہدایت دی کہ وہ سلامت اکیڈمی کو ای او بی آئی کے قانون مجریہ 1976 کے تحت ای او بی آئی میں 1982 سے رجسٹرڈ کریں اور پنشن کے حق دار درخواست گزار کی بیمہ شدہ ملازمت کو اسی تاریخ سے تسلیم کرتے ہوئے اس کا اولڈ ایج پنشن کیس قانون کے مطابق پراسس کریں اسی قسم کا ایک اولڈ ایج پنشن کیس گزشتہ سال سے چل رہا ہے بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ رینگ رہا ہے تو زیادہ مناسب بات ہو گی پنشنر کے لیئے ا پنی زندگی کا ایک ایک دن گزارنا مشکل ہوتا ہے ایسی صورت حال میں متاثرہ پنشنرز کے کیسمیں غیر ضروری تاخیر کا عمل نہایت ہی افسوس ناک ہے یہ کیس ایک اولڈ ایج پنشن کے حق دار شاہد یعقوب کا ہے جن کے حق میں فیصلہ آئے ہوئے دو سالسے زیادہ کا عرصہ گزرنے کے بعد بھی عملدرا مد نہیں کیا گیااور غیر ضروری تاخیر کی جاتی رہی اس کیس کے رسپانڈنٹس ای او بی آئی کے ریجنل ہیڈ راولپنڈی ریجن تھے جن کی جانب سے فیصلے کے خلاف کوئی اپیل نہیں کی گئی جس کا مطلب یہ ہے کہ وہ فیصلے کو تسلیم کرتے ہیں ای او بی آئی کی فیصلہ کرنے کی مجاز اتھارٹی III کے محمد ایوب نے 21 جنوری 2022 کو فیصلہ صادر فرمایا اس فیصلے کو سنانے میں 17 مہینے کے عرصے میں ہونے والی سات سماعتوں کا وقت صرف ہوا۔ شاہد یعقوب نے 2019 میں اولڈ ایج پنشن کی درخواست ریجنل ہیڈ ویسٹ وہارف میں جمع کروائی تھی لیکن پتا یہ چلا کہ وہ فائل ہی دفتر سے غائب ہوگئی، شاہد یعقوب نے اس کے بعد راولپنڈی میں رہائش اختیار کرلی اور راولپنڈی ریجن میں اولڈ ایج پنشن کی درخواست جمع کروائی جس کی ایک ہی سماعت 17 جنوری 2020 کو ہوئی اور 19 جنوری 2020 کو متعلقہ اتھارٹی محمد ایوب نے درخواست مسترد کر دی اور اولڈ ایج گرانٹ کے فیصلے کو صحیح مانا، درخواست مسترد کرنے کی وجہ یہ بتائی گئی کہ ایمپلا ئرنے ریکارڈ پیش نہیں کیا، یہاں تک تو بات ٹھیک ہے، اب ریکارڈ کی با بت بھی یہ بتانا ضروری ہے کہ شاہد یعقوب نے 15 سالہ ملازمت کا ریکارڈ پیش کیا جو تین مختلف نجی یونٹس میں کام کرنے سے متعلق تھا، دو اداروں کے ملازمت کے ریکارڈ کو تسلیم کر لیا گیا جبکہ تیسرے ادارے کراچی ایڈمنسٹریشن سوسائٹی کے ریکارڈ کو اس لیے قابل غور نہ سمجھا گیا کہ یہ ادارہ اس عرصے میں جب شاہد یعقوب وہاں ملازمت کر رہے تھے ای او بی آئی میں رجسٹرڈ نہیں تھا، جس میں شاہد یعقوب کی کوئی غلطی نہیں تھی بلکہ کراچی ایڈمنسٹریشن سوسائٹی اور کورنگی ریجن کے دفتر کی کوتاہی تھی، قانون کے مطابق اس ادارے کو 1994 میں ای او بی آئی میں رجسٹرڈ ہونا تھا لیکن 8 سال بعد 2001 میں اسے ای او بی آئی میں رجسٹرڈ کیا گیا۔ ای او بی آئی کی مجاز اتھارٹی جس نے پہلے ریکارڈ پیش نہ کیے جانے کی وجہ سے اولڈ ایج پنشن کی درخواست مسترد کر دی، نظر ثانی کی اپیل کے بعد 6 سماعتوں کے بعد اس نتیجے پر پہنچے کہ کراچی ایڈمنسٹریشن سوسائٹی اور ای او بی آئی کورنگی ریجن کی ملی بھگت سے 8 سال کی تاخیر واقع ہوئی۔ مذکورہ اتھارٹی نے اپنے فیصلے میں کورنگی ریجن کو ہدایت کی کہ وہ کراچی ایڈمنسٹریشن سوسائٹی کو ای او بی آئی میں 1994 سے رجسٹر کریں اور شاہد یعقوب کی مدت ملازمت کو اس عرصے میں شامل کیا جائے جس کے بعد ان کی اولڈ ایج پنشن کے کیس کو منظور کیا جائے، اس فیصلے میں بھی مجاز اتھارٹی محمد ایوب نے اپنے اس بیان کو دہرایا کہ کراچی ایڈمنسٹریشن سوسائٹی اور کورنگی ریجن کی اس کوتاہی کی وجہ سے کتنے بوڑھے مستحق ملازمین اپنا قانونی حق حاصل کیے بغیر پنشن کے قانونی حق سے محروم ہوئے ہوں گے اور کتنے ہی ریٹائر لوگ اللہ کو پیارے ہو چکے ہوں گے۔
ای او بی آئی کے چیئر پرسن کو ریجنل دفاتر کی کارکردگی پر نظر رکھنی چاہیے اورا نہیں بوڑھے لوگوں کو پریشان نہ کرنے کی ہدایت کرنی چاہیے۔ شاہد یعقوب کی کہانی یہاں ختم نہیں ہوتی بلکہ ادارے کی تاخیری کارروائی کا عمل ان کے لیے سخت اذیت ناک ہے۔
EOBI کی ایڈجوڈیکیٹنگ اتھارٹی کے 21 جنوری 2022 کے فیصلے کے بعد فائل نامعلوم کہاں دبا دی گئی کہ پتا ہی نہیں چل رہا تھا کہ اس فیصلے کا کیا ہوا؟ ایک ذریعے سے یہ بات علم میں آئی کہ EOBI کورنگی ریجن کے ہیڈ علی انور جمالی نے فیصلے کے خلاف کوئی اپیل دائر کر رکھی ہے یہ اپیل انھوں نے فیصلے کے پورے ایک سال گزرنے کے بعد 28 فروری 2023 کو اپیلیٹ بورڈ کو ارسال کی ہے۔
فیصلے کے خلاف اپیل کرنے کا حق تو رسپانڈنٹ راولپنڈی ریجن کو تھا جو انھوں نے ا ستعمال نہیں کیا۔ کورنگی ریجن کے ہیڈ کو تو ان بے قاعدگیوں کو درست کر نے کی ہدایت کی گئی تھی جو کراچی ایڈمنسٹریشن سوسائٹی کی EOBI میں رجسٹریشن کی تاخیر سے متعلق تھیں۔ اس اپیل کو اتنا چھپا کر رکھا گیا کہ کیس کے پٹیشنر کو ہوا تک نہ لگنے دی، جب اسے اپیل کی بابت آگاہ ہی نہ کیا گیا ہو تو وہ سماعت میں اپنا دفاع کیسے کرسکے گا؟چیئر مین ای او بی آئی کو کو ر نگی کے ریجنل ہیڈ سے و ظا حت طلب کر نی چا ہیئے تھی کہ کرا چی ایڈ منسٹریشن سوسائٹی کی ر جسٹریشن میں کو تا ہی کیوں بر تی گئی۔
خدا خدا کر کے اس اپیل کی سماعت 28 دسمبر کو ہونا طے پائی۔ ایک سال کا عرصہ اپیل دائر کرنے میں ضایع کیا گیا اور اپیل کے بعد اسے سننے میں نو دس ماہ کا عرصہ لگ گیا۔ شاہد یعقوب کو سماعت کی تاریخ 28 جنوری کو صبح دس بجے ہونے کا پیغام دیا گیا، اس کے ساتھ ہی TCS سے سماعت میں پیش ہونے کا لیٹر موصول ہوا لیکن 28 تاریخ کو پتا چلا کہ سماعت تو27 جنوری کو ہوچکی ہے اور ٹیلی فون پر اطلاع دے دی گئی تھی لیکن ایسا بالکل نہیں ہوا۔ 21 جنوری 2022 کو کیے گئے فیصلے پر رسپانڈنٹ کا فیصلے کے خلاف اپیل نہ کرنا اور دوسرے ریجنل ہیڈ کا ایک سال کے بعد خاموشی سے اپیل کرنا جبکہ انھیں اپنے معاملات کی درستگی کی ہدایت کی گئی تھی یہ سب ایک سنگین مذاق سے کم نہیں۔ EOBI بوڑھے پنشن کے حق دار لوگوں کے ساتھ جو کھیل، کھیل رہا ہے وہ ختم ہونا چاہیے۔
دسمبر2023 کی تاریخ سماعت کو خاموشی کے ساتھ 27 دسمبر میں تبدیل کر دیا گیا کیونکہ کوئی سیاسی مجبوری چیئرمین صاحبہ کے آڑے آگئی تھی، اس طرح سماعت کے منتظر حق دار پنشنرز ایک بار پھر رل گئے۔ 2024 میں ساڑھے چار ماہ پھر خاموشی اختیار رکھی گئی اور 24 مئی 2024 نئی تاریخ سماعت مقرر کی گئی جس میں EOBI کے ذمے دار حکام نے ایک دلچسپ اور حیرت انگیز فیصلہ دیا کہ 19 فروری 2020 اور 21 جنوری 2022 کے فیصلوں کو مسترد کیا جاتا ہے جب کہ یہ دونوں فیصلے اسی ادارے کی سینئر ترین اور تجربہ کار اتھارٹی محمد ایوب نے دیے تھے پہلے فیصلے کرنے میں سال لگا دیے پھر ان فیصلوں کو مسترد کرنے میں بھی مہینوں اور سال لگ گئے، جواز یہ پیش کیا گیا کہ یہ اتھارٹی اس کیس کو سننے اور فیصلہ کرنے کی مجاز نہیں تھی۔ فیصلے کرنے اور مسترد کرنے میں جو کئی سال لگے اس میں محمد شاہد یعقوب کی کیا غلطی تھی جس کی سزا انھیں دی جا رہی ہے اور چھ سال سے انھیں در بہ در کیا جا رہا ہے، کیا ای او بی آئی کے مقاصد میں حق دار کو اس کی پنشن کا حق دینا بڑا جرم ہے، جس کی سزا شاہد یعقوب کو دی جا رہی ہے؟
24 مئی 2024 کو یہ کیس کراچی میں ایڈجوکیٹنگ اتھارٹی 1 کی طرف بڑھا دیا گیا اور ہدایت دی گئی کہ اس کیس کو Expeditiously نمٹا کر فیصلہ دیا جائے ۔تیز ی سے فیصلہ کر نے کی ہد ا یت پر عمل کرنے کا ا ندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ دس مہینوں سے زیا دہ ہو چکے
ہیںر جسٹرار عا بد ستار صا حب خوا ب خر گو ش کے مزے لوٹ رہے ہیں
چھ سال پرانا یہ کیس کراچی میں اتھارٹی کے پاس آئے ہوئے دس ماہ سے زیدہ کا عرصہ ہو چکا ہے لیکن سماعت کی تاریخ کا دور دور تک پتہ نہیں۔ متعلقہ اتھارٹی کے رجسٹرار ستار عابد سے جب سے جب سماعت سے متعلق پوچھا جاتا ہے اگلے ہفتے، اگلے ہفتے کا کہہ کر خاموشی اختیار کر لیتے ہیں۔
EOBI میں حق دار پنشنروں کے کیسز میں مہینوں اور سالوں کی تاخیر بہت افسوس ناک ہے۔ بے چارے بوڑھے پنشنروں کو پنشن کی سُولی پر لٹکا کر ای او بی آئی کیا مقاصد حاصل کرنا چاہتی ہے؟خدا را پریشان حال بوڑھے حقدار پنشنروں کے کیسز میں غیر ضر و ری تا خیر سے ا جتناب
کیا جائے