اپوزیشن لیڈر اور پیپلز پارٹی رہنمائوں سے بات کرکے معاملے کو حل کریں :چیئرمین سینیٹ‘ رانا ثناء اللہ نے سندھ حکومت سمیت پیپلز پارٹی کے رہنمائوں سے رابطہ کیا ہے:وزیرقانون
شبلی فراز کی حکومت اور پیپلز پارٹی پر سخت نکتہ چینی، خیبر پختونخوا سے سینیٹر ز کے انتخاب میں تاخیر پر افسوس کا اظہار‘ ایمل ولی خان کا چیئرمین سینیٹ پر جانبداری کا الزام
اسلام آباد(آن لائن‘مانیٹرنگ ڈیسک) ایوان بالا میں اپوزیشن کا دریائے سندھ سے نہریںنکالنے کے معاملے پرشدید احتجاج،پیپلز پارٹی کے اراکین خاموشی سے ایوان سے نکل گئے،اپوزیشن اراکین کی جانب سے حکومت اور پیپلز پارٹی کے خلاف شدید نعرے بازی،حکومت اور پیپلز پارٹی کی جانب سے دو بار کورم کی نشاندھی کی گئی،کورم پورا نہ ہونے پر اجلاس جمعہ تک ملتوی کر دیا گیا۔اپوزیشن لیڈر سینٹر شبلی فراز کی حکومت اور پیپلز پارٹی پر سخت نکتہ چینی،ڈاکٹر ثانیہ نشتر سمیت خیبر پختونخوا سے سینیٹر ز کے انتخاب میں تاخیر پر افسوس کا اظہار،اے این پی کے ایمل ولی خان نے بھی چیئرمین سینیٹ پر جانبداری کا الزام عائد کردیا۔منگل کے روز سینیٹ اجلاس کے آغاز میں وقفہ سوالات سے قبل ہی اپوزیشن نے چیئرمین سینیٹ سے دریائے سے نہریں نکالنے کے معاملے پر بات کرنے کی اجازت طلب کی تاہم چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ اس معاملے پر وقفہ سوالات کے بعد بات کریں گے مگر اپوزیشن نے ایوان بالا میں احتجا ج شروع کیا اس موقع پر وفاقی وزیر قانون و پارلیمانی امور سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے کہاکہ اپوزیشن ایک نیا محاذ کھولنا چاہتی ہے اس معاملے پر وزیر اعظم کے مشیر نے سندھ حکومت سے باضابطہ رابطہ کیا ہے اور بتایا ہے کہ مسئلے کو افہام و تفہیم سے حل کیا جائے گا انہوں نے کہاکہ میں پیپلز پارٹی کے دوستوں سے گزراش کرتا ہوں کہ وہ وفاقی وزیر آبی وسائل کو بلائیں وہ جواب دیں گے انہوں نے کہاکہ پی ٹی آئی کو تھرپارکر کے انتخابات میں شکست ہوئی ہے اس لئے وہ ایوان میں احتجاج کرکے ماحول کو خراب کرنا چاہتی ہے اس موقع پر چیئرمین سینیٹ نے وفاقی وزیر پارلیمانی امور کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ اس معاملے پر اپوزیشن لیڈر اور پیپلز پارٹی کی پارلیمانی لیڈر سے بات کرکے اس معاملے کو حل کریں جس پر وفاقی وزیر نے کہاکہ وزیر اعظم کے سیاسی امور کے مشیر رانا ثناء اللہ نے سندھ حکومت سمیت پیپلز پارٹی کے رہنمائوں سے رابطہ کیا ہے