پنجاب کی ماتحت عدالتوں میں مدعی کی تصویر کے بغیر کیس دائر کرنے پر پابندی

جعلی اور غیر ضروری مقدمات کی روک تھام کیلئے فیصلہ کیا گیا‘مدعی یا درخواست گزار کو عدالت آنا ہو گا، سپیشل کائونٹر پر  بائیو میٹرک تصدیق ہو گی 
ویب کیمرے سے مدعی یا درخواست گزار کی تصویر لی جا سکے گی ‘ تصویر کو  کیس کے پہلے صفحے پر پرنٹ کیا جائے گا جس کے بعد کوئی بھی سائل کیس دائر کر سکے گا
لاہور(کورٹ رپورٹر)مدعی یا درخواست گزار کی بائیو میٹرک اور تصویر کے بغیر پنجاب کی ماتحت عدالتوں میں کسی بھی قسم کے کیس دائر کرنے پر پابندی لگا دی گئی۔چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس مس عالیہ نیلم نے پنجاب کی ماتحت عدالتوں میں جعلی اور غیر ضروری مقدمات کی روک تھام کیلئے تاریخی منصوبے کا آغاز کر دیا، چیف جسٹس مس عالیہ نیلم نے لاہور ہائیکورٹ کی انتظامی کمیٹی کی منظوری کے بعد پنجاب بھر کے سیشن ججز کو مراسلہ ارسال کر دیا جس میں کیسز دائر کرنے سے متعلقہ نئے ایس او پیز طے کر دئیے۔ایس او پیز کے مطابق پورے پنجاب کی ماتحت عدالتوں میں اب کیسز دائر کرنے کیلئے مدعی یا درخواست گزار کو خود عدالت چل کر آنا ہو گا، پھر سپیشل کائونٹر پر مدعی یا درخواست گزار کی بائیو میٹرک تصدیق ہو گی اور ویب کیمرے سے مدعی یا درخواست گزار کی تصویر لی جا سکے گی اور پھر اس تصویر کو درخواست گزار کے کیس کے پہلے صفحے پر پرنٹ کیا جائے گا جس کے بعد کوئی بھی سائل کیس دائر کر سکے گا۔اس سے قبل کیس دائر کرنے کیلئے صرف سائل کے شناختی کارڈ کی کاپی استعمال ہوتی تھی اور کیس دائر ہو جاتا تھا، اس سے بوگس کیسز کی تعداد میں بے شمار اضافہ ہوا جس پر چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس مس عالیہ نیلم نے ایکشن لیا اور پورے پنجاب میں مدعی یا درخواست گزار کے نہ آنے اور بائیو میٹرک نہ کروانے والے سائلین کے کیسز کی ڈائری پر پابندی لگا دی۔