وفاقی وزارتوں اور ڈویژنوں نے 265 ارب 45 کروڑ کے فنڈز ضائع کر دیئے

ہر سال 15 مئی سے قبل غیر استعمال شدہ فنڈز حکومت کو واپس کرنا لازمی ہیں،15مئی سے قبل واپس کی گئی رقم پر بچت بھی 30 جون تک واپس کرنا ضروری ہے
 فنڈز بروقت حکومت کو واپس کر دیئے  جاتے تو رقم ضائع ہونے سے بچ جاتی،  نہ  رقم خود استعمال کی گئی نہ دیگر وزارتیں اور ڈویژن اس سے استفادہ کر سکے:آڈٹ رپورٹ
فنڈز بروقت واپس کر دیے جاتے تو رقم ضائع ہونے سے بچ جاتی، نہ یہ رقم خود استعمال کی نہ دیگر وزارتیں کر سکیں‘آڈٹ رپورٹ
اسلام آباد(آن لائن)وفاقی وزارتوں اور ڈویژنز نے 265 ارب 45 کروڑ روپے سے زائد فنڈز ضائع کر دیے سال 2023-24 کیلئے پارلیمان نے وزارتوں اور ڈویژنز کیلئے بجٹ کی منظوری دی تھی265 ارب روپے سے زائد کے فنڈز وزارتوں نے استعمال کرنے کی بجائے روکے رکھے۔ آڈٹ رپورٹ کے مطابق175 لاگت مراکز کی جانب سے فنڈز کے عدم استعمال کے باعث رقم ضائع ہوگئی، وزارتوں اور ڈویژن کی جانب سے رقم بروقت حکومت کو واپس نہ کرنے کا بھی انکشا ف ہوا ہے ۔رپورٹ کے مطابق ہر سال 15 مئی سے قبل غیر استعمال شدہ فنڈز حکومت کو واپس کرنا لازمی ہیں،15مئی سے قبل واپس کی گئی رقم پر بچت بھی 30 جون تک واپس کرنا ضروری ہے۔ آڈٹ کے مطابق اگر فنڈز بروقت حکومت کو واپس کر دیے جاتے تو رقم ضائع ہونے سے بچ جاتی،  نہ یہ رقم خود استعمال کی گئی نہ دیگر وزارتیں اور ڈویژنز اس سے استفادہ کر سکیں۔آڈٹ رپورٹ کے مطابق رقم بروقت واپس کر دی جاتی تو دیگر وزارتوں اور ڈویژنز میں استعمال ہو سکتی تھیں۔کہا گیا ہے کہ 265ارب سے زائد فنڈز سے متعلق ریکارڈ تصدیق کے لیے آڈٹ کو فراہم کیا جائے۔