ایشین پیرا گیمز: جنسی ہراسانی کے الزام پر بھارتی ایتھلیٹ جاپان سے ڈی پورٹ

ایشین پیرا گیمز: جنسی ہراسانی کے الزام پر بھارتی ایتھلیٹ جاپان سے ڈی پورٹ

ایشین پیرا گیمز کے دوران جنسی ہراسانی اور دست درازی کے الزامات کا سامنا کرنے والے بھارتی پیرا سوئمر محمد شمس عالم شیخ کو جاپان میں پولیس کارروائی کے بعد بھارت واپس بھیج دیا گیا ہے۔

 بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق 40 سالہ ایتھلیٹ کو ناگویا میں جاری کھیلوں کے دوران ایک خاتون کو مبینہ طور پر ہراساں کرنے کے الزام کا سامنا ہے۔رپورٹس کے مطابق واقعہ پیر کے روز پیش آیا، جب ہوٹل میں صفائی کے لیے آنے والی ایک خاتون ملازمہ نے شمس عالم شیخ کے خلاف ہراسانی کی شکایت کی۔ شکایت مقامی انتظامی کمیٹی اور بھارتی وفد کے حکام تک پہنچائی گئی، جس کے بعد جاپانی پولیس نے معاملے میں کارروائی کرتے ہوئے کھلاڑی کو حراست میں لیا۔

بھارتی پیرا لمپک کمیٹی کی جانب سے کارروائی کا امکان
بھارتی میڈیا کے مطابق بھارتی پیرا لمپک کمیٹی اس معاملے کا جائزہ لے رہی ہے۔ شمس عالم شیخ کے خلاف تادیبی کارروائی اور ممکنہ طور پر تاحیات پابندی عائد کرنے کے معاملے پر بھی غور کیا جا سکتا ہے۔تاہم، اب تک الزامات کے حوالے سے حتمی فیصلہ سامنے نہیں آیا۔ اس لیے الزامات کو جرم ثابت ہونے کے مترادف قرار نہیں دیا جا سکتا۔ بھارتی حکام کھیلوں کے اختتام کے بعد معاملے کا جائزہ لے کر آئندہ کارروائی سے متعلق فیصلہ کر سکتے ہیں۔

شمس عالم شیخ کا کھیلوں میں نمایاں ریکارڈ
بہار سے تعلق رکھنے والے محمد شمس عالم شیخ پیرا سوئمنگ میں بھارت کی نمائندگی کر چکے ہیں۔ فراہم کردہ رپورٹس کے مطابق وہ 2024 میں مردوں کے 100 میٹر بٹر فلائی ایس 5 اور 50 میٹر بریسٹ اسٹروک ایس بی 4 مقابلوں میں عالمی نمبر ایک بھی رہ چکے ہیں۔انہوں نے 2018 کے ایشین پیرا گیمز میں 200 میٹر اور 50 میٹر بریسٹ اسٹروک کے مقابلوں میں طلائی تمغے جیتے تھے۔