شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پر قبضے کی کشمکش، تنازعات بڑھنے کا خدشہ

شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پر قبضے کی کشمکش، تنازعات بڑھنے کا خدشہ

اسلام آباد: شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پر کنٹرول، آمدنی کی تقسیم اور مقامی آبادی کے حقوق سے متعلق تنازعات بدامنی اور تشدد میں اضافے کی اہم وجوہات بن رہے ہیں۔

 ایک رپورٹ کے مطابق کان کنی کے شعبے میں شفافیت اور مالی نگرانی کا فقدان بھی مسائل کو مزید پیچیدہ بنا رہا ہے۔پاک ایشیا یوتھ فورم کی رپورٹ ’’سونا، طاقت اور شکایات: افغانستان کا کان کنی کا شعبہ اور بدامنی‘‘ میں کہا گیا ہے کہ معدنی وسائل پر کنٹرول حاصل کرنے کے لیے طالبان کے مختلف دھڑوں کے درمیان اقتدار کی کشمکش شمالی افغانستان میں عدم استحکام کی اہم وجوہات میں شامل ہے۔رپورٹ کے مطابق افغانستان قدرتی وسائل سے مالا مال ملک ہے، جہاں لیتھیم، نایاب ارضی عناصر، تانبا اور کوبالٹ سمیت 30 سے زائد اہم معدنیات کے ذخائر موجود ہیں۔ یہ وسائل ملکی معیشت کو مضبوط بنانے اور آمدنی کے نئے ذرائع پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، تاہم ان سے حاصل ہونے والے فوائد کی تقسیم اور انتظامی معاملات پر اختلافات مسائل پیدا کر رہے ہیں۔

کان کنی کے شعبے میں شفافیت اور نگرانی کا فقدان
رپورٹ میں نشاندہی کی گئی ہے کہ طالبان کے دورِ حکومت میں کان کنی کے شعبے کو محدود قانونی نگرانی اور مالی شفافیت کے مسائل کا سامنا ہے۔ رپورٹ کے مطابق معدنی وسائل کے ٹھیکوں کی تقسیم، آمدنی کی وصولی اور مالی معاملات کی آزادانہ جانچ کے مؤثر نظام کی عدم موجودگی بدعنوانی اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے خدشات کو بڑھا رہی ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ بعض معدنی منصوبوں کے حوالے سے مقامی آبادی کو زمینوں سے محرومی، زرعی اراضی پر قبضوں اور آمدنی کی غیر مساوی تقسیم جیسے مسائل کا سامنا ہے۔ ان شکایات کے باعث بعض علاقوں میں مقامی باشندوں، کان کنی کی کمپنیوں اور مسلح دھڑوں کے درمیان کشیدگی اور جھڑپیں بھی رپورٹ ہوئی ہیں۔

 بدخشاں اور تخار میں معدنی وسائل پر تنازعات
رپورٹ کے مطابق شمالی افغانستان کے صوبے بدخشاں اور تخار معدنی وسائل، خصوصاً سونے اور قیمتی پتھروں کے ذخائر کے حوالے سے اہمیت رکھتے ہیں۔ ان علاقوں میں کان کنی کے ٹھیکوں اور آمدنی پر کنٹرول کے تنازعات بدامنی کو ہوا دے رہے ہیں۔رپورٹ میں طالبان کی قیادت سے وابستہ مختلف دھڑوں کے درمیان کان کنی کے انتظامی اختیارات پر اختلافات کو بھی نمایاں کیا گیا ہے۔ اس کے مطابق معدنی وسائل پر اختیار اور ان سے حاصل ہونے والی آمدنی کی تقسیم سے متعلق کشمکش نے بعض علاقوں میں داخلی تناؤ کو مزید بڑھایا ہے۔

 مقامی آبادی کے حقوق اور معاشی فوائد کا سوال
رپورٹ میں زور دیا گیا ہے کہ افغانستان کے معدنی وسائل سے حاصل ہونے والی آمدنی کی منصفانہ تقسیم اور مقامی آبادی کے حقوق کا تحفظ اہم چیلنجز ہیں۔ کان کنی کے منصوبوں سے مقامی افراد کو محدود فوائد ملنے، زمینوں کے استعمال اور ماحولیاتی نقصانات سے متعلق شکایات نے بھی عدم اطمینان میں اضافہ کیا ہے۔رپورٹ کے مطابق معدنی وسائل سے پائیدار معاشی فوائد حاصل کرنے کے لیے ٹھیکوں کی شفاف تقسیم، مالی معاملات کے آزادانہ آڈٹ، مؤثر قانونی نگرانی اور مقامی آبادی کے حقوق کے تحفظ کی ضرورت ہے۔