بلوچستان میں نئے صوبوں کی ضرورت ہے، تاہم نئے انتظامی یونٹس کے قیام کے لئے وسیع تر اتفاقِ رائے ضروری ہے:وزیراعلی سرفراز بگٹی
میرا مشورہ ہے ڈویژن کی سطح پر نئے یونٹس بنا دیں‘نگریز کے بنائے گئے ڈویژن جغرافیائی لحاظ سے ایک بہترین نظام ہے:شاہد خاقان عباسی
نئے صوبے بنانے میں کوئی حرج نہیں:اسدعمر‘پہلے آبادی پر قابو پانے اور نئے انتظامی ڈھانچے کیلئے ضروری بنیادیں تیار کرنے کی ضرورت ہے:خرم دستگیر
اسلام آباد(آئی این پی) پاکستان میں انتظامی تنظیمِ نو اور نئے صوبوں کے قیام سے متعلق قومی مباحثے میں حکومتی و اپوزیشن رہنمائوں، پالیسی ماہرین اور سینئر صحافیوں نے شرکت کی، مباحثے میں نئے انتظامی یونٹس کے قیام، اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی، وسائل کی منصفانہ تقسیم اور عوام کو بہتر خدمات کی فراہمی پر زور دیا گیا۔وزیراعلی بلوچستان سرفراز بگٹی نے کہا بلوچستان میں نئے صوبوں کی ضرورت ہے، تاہم نئے انتظامی یونٹس کے قیام کے لیے وسیع تر اتفاقِ رائے ضروری ہے، انتظامی یونٹس بڑھانے سے عوامی مسائل فوری حل کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔سرفراز بگٹی نے بتایا کہ بلوچستان میں ڈویژنوں کی تعداد 8 سے بڑھا کر 12 کردی گئی ہے۔قومی مباحثے سے خطاب کرتے ہوئے سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ اس لیے ہمیں نئے صوبوں سے متعلق سوچ سمجھ کر فیصلہ کرنا ہوگا، میرا مشورہ ہے ڈویژن کی سطح پر نئے یونٹس بنا دیں، انگریز کے بنائے گئے ڈویژن جغرافیائی لحاظ سے ایک بہترین نظام ہیں۔سابق وفاقی وزیر اسد عمر نے کہا نئے صوبے بنانے میں کوئی حرج نہیں اور آئین میں اس حوالے سے طریقہ کار موجود ہے، پاکستان کا اصل مسئلہ محض اختیارات کی منتقلی نہیں بلکہ انتظامی نظام کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا بھی ہے۔مسلم لیگ ن کے رہنما خرم دستگیر نے کہا نئے صوبوں کی تشکیل کا عمل انتہائی اہم ہے، تاہم اس سے پہلے آبادی پر قابو پانے اور نئے انتظامی ڈھانچے کے لیے ضروری بنیادیں تیار کرنے کی ضرورت ہے۔مباحثے میں شرکا نے اس امر پر اتفاقِ رائے کی ضرورت پر زور دیا کہ انتظامی اصلاحات اور نئے صوبوں کے قیام سے متعلق فیصلے سوچ سمجھ کر کیے جائیں، تاکہ وسائل کی منصفانہ تقسیم، مقامی حکومتوں کے استحکام اور عوامی مسائل کے مثر حل کو یقینی بنایا جاسکے۔