محمد رضا جاوا
انسانی زندگی کا سب سے حسین پہلو تعلقات ہیں۔ رشتے وہ ریشم کے دھاگے ہیں جو انسانوں کے دلوں کو جوڑتے ہیں مگر جب ان میں کھچائو پیدا ہو جائے تو زندگی کا سکون چھن جاتا ہے۔ موجودہ دور میں ہم جس معاشرتی زوال، نفسیاتی دبائو اور اخلاقی انحطاط کا شکار ہیں اس کی ایک بڑی وجہ رشتوں میں بگاڑ ہے۔ والدین اور اولاد کے درمیان فاصلے، بہن بھائیوں میں حسد، شوہر و بیوی کے درمیان اعتماد کی کمی، سسرالی اختلافات اور دوستوں میں مفاد پرستی۔۔یہ سب ہماری روحانی بیماریوں کی علامت بن چکے ہیں۔ ایسے میں قرآنِ کریم، احادیثِ نبوی اور اہلِ بیتِ اطہارکے ارشادات ہمیں وہ راستہ دکھاتے ہیں جو انسانیت، محبت اور صلح و صفا کی طرف لے جاتا ہے۔قرآن مجید نے انسانی تعلقات کو محض سماجی ضرورت نہیں بلکہ عبادت کا درجہ دیا ہے۔ سورۃ الحجرات میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:"بے شک تمام مومن آپس میں بھائی بھائی ہیں، پس اپنے بھائیوں کے درمیان صلح کرائو۔"۔یہ آیتِ مبارکہ ہمیں ایک اصول عطا کرتی ہے کہ مومن کا مومن سے رشتہ صرف خونی یا خاندانی نہیں بلکہ ایمانی بنیاد پر قائم ہوتا ہے۔ اس رشتے میں اگر کوئی بگاڑ پیدا ہو تو اسے درست کرنا ہر مومن پر لازم ہے۔ معاشرے کی اصلاح کا آغاز اسی اصول سے ہوتا ہے کہ دلوں کے درمیان پیدا ہونے والے فاصلے مٹا دیئے جائیں۔نبی اکرم نے فرمایا:"تمہارے درمیان تعلقات کو درست رکھنا صدقے سے بہتر ہے، کیونکہ صدقہ تو انسان کے مال میں سے دیا جاتا ہے اور صلہ رحمی تمہارے دین میں برکت پیدا کرتی ہے۔"۔۔یہ فرمان واضح کرتا ہے کہ رشتوں میں صلح و اصلاح کی کوشش ایک عبادت ہے۔ آج اگر ہم اپنی توانائیاں دوسروں کی برائیاں تلاش کرنے یا ان سے بدگمانی رکھنے میں صرف کرنے کے بجائے ان کے ساتھ تعلق بہتر بنانے میں لگائیں تو ہمارا معاشرہ جنت کا نمونہ بن سکتا ہے۔اسلامی تعلیمات کے مطابق سب سے پہلا اور اہم رشتہ والدین سے ہے۔ قرآن مجید نے بارہا والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کا حکم دیا ہے:"اور تیرے رب نے حکم دیا ہے کہ اسکے سوا کسی کی عبادت نہ کرو اور والدین کے ساتھ اچھا سلوک کرو۔"۔۔آج کا المیہ یہ ہے کہ اولاد اپنی آزادی اور خواہشات کے نشے میں والدین کے جذبات کو نظرانداز کر دیتی ہے۔ گھر کے بڑے بزرگ جنہیں تجربے اور محبت کا خزانہ سمجھا جانا چاہیے وہ تنہائی اور بے قدری کا شکار ہیں۔ قرآن و حدیث ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ والدین کی خدمت نہ صرف دنیاوی سکون کا ذریعہ ہے بلکہ آخرت میں نجات کا سبب بھی ہے۔۔دوسرا اہم رشتہ میاں بیوی کا ہے جو انسانی معاشرت کی بنیاد ہے۔ نبی کریم نے فرمایا:"تم میں سے بہترین وہ ہے جو اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ بہترین ہو اور میں اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ سب سے بہتر ہوں۔"۔۔یہ حدیث ازدواجی زندگی کا بنیادی اصول بیان کرتی ہے کہ بہترین مسلمان وہ نہیں جو صرف عبادت گزار ہو بلکہ وہ ہے جو اپنے گھر والوں کے ساتھ محبت، انصاف اور نرمی سے پیش آئے۔ آج گھروں میں جھگڑے، طلاقوں کی بڑھتی شرح، بداعتمادی اور غصے کی
فضا اسی لئے ہے کہ ہم نے نبی کے اس اسوہ کو فراموش کر دیا ہے۔ قرآن نے بھی مرد و عورت کے تعلق کو لباس سے تشبیہ دی:"وہ تمہارے لیے لباس ہیں اور تم ان کے لیے لباس ہو"۔۔لباس انسان کو تحفظ دیتا ہے، اس کی کمزوریوں کو چھپاتا ہے، اسے زینت بخشتا ہے۔ اسی طرح شوہر اور بیوی ایک دوسرے کے لئے سکون و عزت کا باعث ہوں تو گھر جنت بن جاتا ہے۔اسی طرح بہن بھائیوں، عزیز و اقارب اور دوستوں کے ساتھ تعلقات کی بھی بے پناہ اہمیت ہے۔ قرآن نے رشتہ داری جوڑنے والوں کو رحمت کا وعدہ دیا ہے اور توڑنے والوں کو اللہ کی ناراضی کی وعید سنائی ہے۔ نبی نے فرمایا:"جو شخص چاہتا ہے کہ اس کی عمر میں برکت ہو اور رزق میں وسعت ہو، وہ صلہ رحمی کرے۔"۔صلہ رحمی صرف عید پر فون کرنے یا دعوت میں شرکت کرنے کا نام نہیں بلکہ اس کا مفہوم یہ ہے کہ دلوں میں محبت قائم رکھی جائے، ایک دوسرے کے دکھ سکھ میں شریک ہوا جائے اور اگر کوئی رشتہ دار ناراض ہو جائے تو پہل کر کے صلح کی جائے۔ نبی نے فرمایا:"اصل صلہ رحمی وہ نہیں جو بدلے میں کرے، بلکہ وہ ہے جو رشتہ دار کی بے رخی کے باوجود تعلق قائم رکھے۔"۔اس سے پتہ چلتا ہے کہ اصلاح کا آغاز دوسروں سے نہیں، خود سے ہوتا ہے۔ اگر ہر فرد یہ عہد کر لے کہ وہ نفرت نہیں محبت کو فروغ دے گا تو معاشرہ خود بخود سدھر جائے گا۔۔اہلِ بیتِ اطہار کے ارشادات میں بھی رشتوں کی اصلاح اور تعلقات کی بہتری پر خاص زور دیا گیا ہے۔ حضرت علی نے فرمایا:"تمہارے رشتہ دار تمہارے بازو ہیں، تمہارے لئے پناہ گاہ ہیں، ان کے ساتھ اچھا سلوک کرو تاکہ تم عزت پائو۔"۔امام حسن کا ارشاد ہے:"سب سے بہترین نیکی یہ ہے کہ تم اپنے اس رشتہ دار کے ساتھ اچھا سلوک کرو جو تم سے کٹ چکا ہو۔"۔۔امام جعفر صادق نے فرمایا:"جو شخص اپنے رشتہ داروں سے ناتا توڑتا ہے، اللہ اس کی دعا قبول نہیں کرتا۔"۔۔یہ اقوال ہمیں ایک ایسی اخلاقی بنیاد فراہم کرتے ہیں جس پر انسانیت کا مضبوط قلعہ تعمیر ہو سکتا ہے۔ اگر ہم ان تعلیمات کو اپنی روزمرہ زندگی میں اپنائیں تو دشمنیاں محبت میں، نفرتیں الفت میں بدل سکتی ہیں۔رشتوں میں بگاڑ کی ایک بڑی وجہ غیبت، بدگمانی اور حسد ہے۔ قرآن مجید نے ان عیوب کو سختی سے منع فرمایا ہے:"اے ایمان والو! زیادہ گمان کرنے سے بچو، کیونکہ بعض گمان گناہ ہوتے ہیں، اور ایک دوسرے کی غیبت نہ کرو۔ کیا تم میں سے کوئی پسند کرے گا کہ اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھائے؟"(الحجرات: 12)۔۔یہ آیت بتاتی ہے کہ دوسروں کی برائیاں بیان کرنا صرف اخلاقی خرابی نہیں بلکہ روحانی زوال ہے۔ جب ہم دوسروں کی کمزوریوں پر گفتگو کرتے ہیں تو رشتے ٹوٹ جاتے ہیں۔ اس کے برعکس قرآن کہتا ہے کہ اگر کسی میں خرابی دیکھو تو پردہ پوشی کرو، نصیحت خفیہ طور پر کرو۔ یہی اصل اصلاح کا طریقہ ہے۔آج کے دور میں سوشل میڈیا نے رشتوں کی نوعیت بدل دی ہے۔ ہم ظاہری تصویروں، مصنوعی تاثرات اور لائکس کے پیچھے بھاگ رہے ہیں مگر اپنے قریبی رشتوں سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔ قرآن و سنت ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ تعلقات کی بنیاد اخلاص پر ہونی چاہیے، دکھاوے پر نہیں۔ محبت وہی پائیدار ہے جو خلوص اور قربانی پر قائم ہو۔امام علی نے فرمایا:"جب تمہارے بھائی سے کوئی لغزش ہو جائے تو اس کے لیے معافی کا دروازہ کھول دو کیونکہ تم بھی خطا سے خالی نہیں۔"یہ جملہ انسانیت کا خلاصہ ہے۔ اگر ہم دوسروں کے لیے وہی نرمی اور درگزر اپنائیں جو اپنے لیے چاہتے ہیں تو اختلافات ختم ہو جائیں۔قرآن میں بارہا تاکید کی گئی ہے کہ مومن دوسروں کے لیے رحمت بنے، ان کے عیبوں پر پردہ ڈالے اور ان کی اصلاح کی نیت سے مشورہ دے۔ سورۃالنحل میں فرمایا گیا:"اپنے رب کے راستے کی طرف حکمت اور نرم نصیحت کے ساتھ بلائو۔"۔یہی اصول تعلقات میں بھی لاگو ہوتا
ہے۔ جب ہم نرمی، صبر اور دانائی سے بات کریں گے تو سخت دل بھی پگھل جائیں گے۔رشتوں کی اصلاح کا مفہوم یہ نہیں کہ انسان ہر ظلم برداشت کرے یا خود کو مٹا دے، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ تعلقات میں انصاف، احترام اور محبت کا توازن قائم رکھا جائے۔امام زین العابدین نے دعا میں عرض کیا:"اے خدا! مجھے اپنے رشتہ داروں سے محبت کرنے والا، ان کے ساتھ نرمی کرنے والا اور ان کے ساتھ عدل کرنے والا بنا۔" تعلقات کی اصلاح دراصل نفس کی اصلاح سے شروع ہوتی ہے۔ جب دل صاف ہوگا تو رشتے خود بخود درست ہو جائیں گے۔آج ہمارے معاشرے کو سب سے زیادہ ضرورت اسی پیغام کی ہے۔ گھروں میں نفرت، خاندانی جھگڑے، وراثتی تنازعات اور چھوٹی چھوٹی باتوں پر تعلقات کا ٹوٹ جانا اس بات کی علامت ہے کہ ہم نے دین کی روح کھو دی ہے۔ قرآن و حدیث ہمیں سکھاتے ہیں کہ جوڑنا ایمان ہے اور توڑنا شیطان کا کام۔ نبی نے فرمایا:"شیطان سب سے زیادہ خوش اس وقت ہوتا ہے جب کسی میاں بیوی کے درمیان جدائی ڈالنے میں کامیاب ہو۔"لہٰذا ہمیں چاہیے کہ شیطان کے بجائے رحمن کے پیروکار بنیں، نفرت کے بجائے محبت کے سفیر بنیں۔