ملک میں سالانہ مہنگائی 14.47 فیصد تک پہنچ گئی

ملک میں سالانہ مہنگائی 14.47 فیصد تک پہنچ گئی

ملک میں مہنگائی کی مجموعی صورتحال میں معمولی بہتری کے باوجود سالانہ بنیادوں پر مہنگائی کی شرح اب بھی بلند سطح پر برقرار ہے۔

ادارہ شماریات کی جانب سے جاری ہفتہ وار رپورٹ کے مطابق ملک میں سالانہ مہنگائی کی شرح 14.47 فیصد تک پہنچ گئی ہے، تاہم گزشتہ ہفتے کے دوران مہنگائی میں 0.33 فیصد کی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔رپورٹ کے مطابق ایک ہفتے میں 26 ضروری اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ ہوا، 11 اشیاء سستی ہوئیں جبکہ 14 اشیاء کی قیمتیں مستحکم رہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مارکیٹ میں قیمتوں کا رجحان ملا جلا رہا۔اعداد و شمار کے مطابق حالیہ ہفتے میں ٹماٹر 7.17 فیصد، پیاز 6.08 فیصد، آٹا 1.84 فیصد اور آلو 0.87 فیصد مہنگے ہوئے، جس کے باعث عام صارفین کے روزمرہ اخراجات میں اضافہ دیکھا گیا۔اسی طرح لہسن، دالیں، انڈے اور کیلے سمیت بعض اشیاء کی قیمتوں میں کمی ریکارڈ کی گئی، جس سے جزوی ریلیف ملا ہے۔رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ کوکنگ آئل، چائے اور دہی سمیت متعدد اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں اضافہ ہوا۔ تاہم دوسری جانب چکن کے گوشت کی قیمت میں 8.56 فیصد کمی دیکھی گئی، جو صارفین کے لیے نسبتاً بڑی ریلیف سمجھی جا رہی ہے۔

توانائی کے شعبے میں بھی کچھ کمی سامنے آئی ہے، جہاں پہلی سہ ماہی کے بجلی چارجز میں 6.08 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔ اسی طرح پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں 1.21 فیصد کمی جبکہ ایل پی جی کی قیمت میں 0.87 فیصد کمی دیکھی گئی۔ماہرین کے مطابق اگرچہ ہفتہ وار بنیادوں پر معمولی کمی دیکھی گئی ہے، لیکن سالانہ مہنگائی کی بلند شرح اب بھی معاشی دباؤ کی نشاندہی کرتی ہے، جس کا اثر خاص طور پر کم اور متوسط آمدنی والے طبقے پر زیادہ پڑ رہا ہے۔