رکن قومی اسمبلی شیر افضل مروت نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ سیاست سے کنارہ کشی نہیں کر رہے بلکہ فی الحال اپنے کام پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ جب تک وہ پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان سے ملاقات نہیں کرتے، وہ کسی جلسے یا سیاسی اجتماع میں حصہ نہیں لیں گے۔شیر افضل مروت نے کہا کہ ان کا پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کے چیئرمین ایمل ولی کے ساتھ اختلافات اپنی جگہ ہیں، لیکن انہوں نے ایمل ولی کی جانب سے کمیٹی کے اجلاس میں کیے گئے الزامات کی سخت مذمت کی۔ ان کے بقول، پی ٹی اے کے چیئرمین نے کمیٹی کی بے توقیری کی اور ایسا رویہ قابل قبول نہیں ہے، لہٰذا وزیر اعظم کو چاہیے کہ اس معاملے پر فوری نوٹس لے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایسے رویے کے حامل افراد پی ٹی اے کے چیئرمین کے منصب کے لیے نااہل ہیں۔ اس لیے وہ ایمل ولی کے مطالبے کی تائید کرتے ہیں کہ چیئرمین پی ٹی اے کو اس عہدے سے ہٹایا جائے۔یہ بیان سیاسی اور ادارہ جاتی معاملات میں جاری کشیدگی کی عکاسی کرتا ہے، خاص طور پر پی ٹی اے کے چیئرمین کی کارکردگی اور رویے کے حوالے سے پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس میں تنازعہ کے تناظر میں۔ شیر افضل مروت کا موقف ہے کہ سیاسی اور ادارہ جاتی معاملات کو شفاف اور ذمہ داری کے ساتھ نمٹایا جانا چاہیے۔