سمیع اللہ ملک(آخری قسط)
2011میں امریکی جدید سٹیلتھ ہیلی کاپٹر ایبٹ آبادمیں گرایاگیا،امریکی حکمت عملی مکمل طورپرناکام ہوئی۔ ایبٹ آبادمیں گرایاگیاسٹیلتھ ہیلی کاپٹرامریکی ٹیکنالوجی کانازتھا۔اس
کی واپسی کیلئے ہرکوشش کی گئی،مگرتاریخ نے مسکراکرلکھ دیا:ہیلی کاپٹرغائب ہوگیااور سراغ آج تک نہ ملا۔ہیلی کاپٹرکی واپسی کیلئے امریکانے ہرحربہ آزمایا،مگر پاکستان کی داخلی نگرانی نے اسے روک دیا۔مگرپاکستان نے اپنی حکمت عملی سے اس کی ٹیکنالوجی محفوظ کرلی۔یہ واقعہ عالمی طاقتوں کیلئے ایک سبق بن گیاکہ جدیدترین ٹیکنالوجی بھی داخلی نظام کے بغیر کامیاب نہیں ہوسکتی۔امریکی حکمت عملی کوشکست کے طورپردیکھاگیااورپاکستان نے عالمی منظرنامے میں اپنی سٹریٹجک اہمیت دوبارہ ثابت کی۔عالمی میڈیانے بھی اس واقعہ کو ’’ٹیکنالوجی کاسبق اورپاکستان کی عظیم کامیابی‘‘قراردیاگویادشمن کی چالوں کوسرنگوں کرنے میں پاکستان نے اپنے ہاتھ کی چالوں کوروشن رکھاجیسے ایک مضبوط قلعہ اپنے دیواروں میں چھپی حکمت عملی سے دشمن کے حملوں کوناکام بنادے،پاکستان نے بھی اپنی داخلی نظم وضبط سے عالمی طاقتوں کوحیران کردیا۔
پاکستان نہ شام،نہ عراق اورنہ لیبیااورنہ ہی وینزویلاہے،اس کے پاس ایٹمی صلاحیت بھی ہے،میزائل ٹیکنالوجی بھی اورحوصلہ بھی؛ اوراگرکبھی وقت نے پکاراتوہزاروں میل تک مارکرنے والے میزائل کاتجربہ بھی کوئی بعیدامکان نہیں۔ایک ہفتے کے اندردس ہزار کلومیٹرتک مارکرنے والے میزائل کاتجربہ کرنے کی صلاحیت موجودہے۔افغانستان،عراق یا شام کی طرح پاکستان کوتباہ کرناممکن نہیں، کیونکہ یہاں داخلی نظم،مضبوط قیادت اورعوامی حمایت موجودہے۔گویاایک مضبوط درخت کی جڑیں زمین میں گہری اورمضبوط ہوں، طوفان کتنے ہی شدید ہوں،وہ درخت نہ ہل سکے گا۔
خلاصہ یہ ہے کہ پاکستان نے افغانستان میں امریکاکی کامیابی کو مسلسل ناممکن بنایا۔امریکی جدیدہتھیارراستے میں روک لیے گئے،فوجی قافلے لوٹ لیے گئے،اورداخلی نگرانی نے منصوبے ناکام کیے۔امریکی عوام اورتجزیہ نگارحیران رہ گئے کہ اتنے بڑے اورفول پروف منصوبے ناکام کیسے ہوئے۔عالمی سطح پریہ عسکری اورٹیکنیکل قوت پاکستان کی سٹریٹجک مہارت کی علامت تصورکیے جاتے ہیں۔گویادشمن کی ہر حرکت پرایک نامرئی ہاتھ نے راہ میں رکاوٹیں ڈالیں اورمنصوبوں کوناکام بنایاجس کومغرب اورامریکاکے دفاعی ماہرین بھی تسلیم کرتے ہیں۔
پاکستان نے نہ صرف ایٹمی ہتھیارمحفوظ رکھے بلکہ اپنی ٹیکنالوجی اورمیزائل پروگرام کوبھی مستحکم کیا۔اگرشمالی کوریاسے حاصل شدہ میزائل ڈرائنگزاورٹیکنالوجی نے پاکستان کی دفاعی قابلیت کوبڑھایاتووہاں شمالی کوریابھی پاکستان کی ان خدمات کوتحسین کی نگاہوں سے دیکھتاہے جہاں وہ آج امریکاکی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کربات کرنے کی صلاحیت رکھتاہے۔عالمی طاقتیں،خاص طورپر امریکا،پاکستان کے اس سٹریٹجک مؤقف پرحیران رہ گئیں۔پاکستان نے ثابت کیاکہ داخلی نظم اورحکمت عملی کے بغیرطاقت کااستعمال ناکام ہوجاتاہے۔جیسے خزانے کومضبوط قلعے میں رکھاجائے،چاہے دنیاکے سب چورآجائیں،خزانہ محفوظ رہتاہے۔
ڈاکٹرقدیر۔ڈاکٹرشکیل کے تحفظ،ایٹمی دھماکوں کی حکمت عملی،اورشمالی کوریاسے ٹیکنالوجی کاحصول اس بات کاثبوت ہیں کہ داخلی نظم وحکمتِ عملی کے بغیرکوئی طاقت حقیقی اثرنہیں رکھتی ۔امریکاکے کئی ادارے حیران ہیں کہ پاکستان نے اتنے دباؤکے باوجود عالمی فول پروف منصوبوں کوناکام بنایا۔عالمی طاقتیں یہ سبق لے چکی ہیں کہ داخلی نظم،شفافیت اورقیادت کے بغیرطاقت کااستعمال ناکام ہوتاہے۔پاکستان نے امریکاکے دباؤ،بھارت کے ایٹمی منصوبوں،اورعالمی معاشی حکمت عملی کے باوجوداپنی خودمختاری کوقائم رکھا۔گویاایک ماہر کاشت کارنے اپنے کھیت کومضبوط نہریں اورمحفوظ دیواریں بناکردشمن کے طوفانوں کوناکام اورنامرادبنادیاہے۔
پاکستان کے اقدامات یہ واضح کرتے ہیں کہ عالمی قوانین اورریاستی خودمختاری کی پاسداری بنیادی شرط ہے۔کسی بھی طاقت کا یکطرفہ قبضہ یادباؤبین الاقوامی امن کیلئے خطرہ بن سکتاہے۔پاکستان کی یہ حکمت عملی دیگرممالک کیلئے سبق آموزرہی۔عالمی تجزیہ نگاروں نے تسلیم کیاکہ پاکستان نے دکھادیاکہ قانون اوراخلاق کے دائرے میں رہ کربھی طاقت استعمال کی جاسکتی ہے جیسے ایک تجربہ کاربحری کپتان نے طوفانی سمندرمیں اپنی کشتی کیلئے محفوظ راستہ تلاش کیا،پاکستان نے عالمی دباؤکے طوفان میں اپنی پوزیشن محفوظ رکھی۔
حقیقی فتح وہ نہیں جوبیرونی دباؤیاجارحیت سے حاصل ہو،بلکہ وہ ہے جوعوام کااعتماد،قومی اتحاد،اورداخلی قوت مضبوط کرے۔ پاکستان نے تاریخی اورموجودہ تجربات سے یہ سبق دیا کہ طاقت کے مراکزداخلی نظم، شفاف قیادت،اورقانون کی پابندی کے بغیر کامیاب نہیں ہوسکتے۔گویافاتح وہ ہے جوصرف میدان جنگ میں نہیں بلکہ دلوں،اداروں اورقوم کے ایمان میں فتح حاصل کرے۔پاکستان کی حکمت عملی نے دکھایاکہ طاقت صرف ہتھیاراورفوجی قوت نہیں،بلکہ قیادت،داخلی نظم،شفافیت اورقومی اتحادکے ساتھ جڑکرہی واقعی مؤثر ہوتی ہے۔
پاکستان کی ان تدابیرکے بعدیقیناامریکا،بھارت،اسرائیل اوردیگرعالمی طاقتوں نے یہ ضرورسیکھاہوگاکہ اگرداخلی بنیادیں مضبوط نہ ہوں توسب وسائل اورہتھیاربے اثررہ جاتے ہیں۔پاکستان کے اقدامات ثابت کرتے ہیں کہ عالمی قوانین اورریاستوں کی خودمختاری کی پاسداری طاقت کے مراکزکیلئے اولین شرط ہے۔طاقت کاحقیقی استعمال داخلی نظم، قیادت ،شفافیت اورقانون کے دائرے میں رہ کرہی مؤثرہوتاہے۔پاکستان کی مثال یہ واضح کرتی ہے کہ اگرداخلی بنیادیں مضبوط ہوں توعالمی دباؤاورطاقت کے طوفان بھی ناکام رہ جاتے ہیں۔
آخرمیں اتناکہہ دیناہی کافی ہے کہ قومیں حجم سے نہیں،حوصلے سے بڑی ہوتی ہیں اورپاکستان کی داستان ابھی ختم نہیں ہوئی،تاریخ کا قلم ابھی حرکت میں ہے۔یہ تاریخی اورتحقیقی
جائزہ واضح کرتاہے کہ عالمی سلامتی،علاقائی استحکام،اورانسانی حقوق کی حفاظت صرف طاقت یادھمکی سے ممکن نہیں بلکہ داخلی نظم، قائدانہ بصیرت،قانون اوراخلاق کے مضبوط ستونوں کے ساتھ ہی ممکن ہے۔ طاقت صرف ہتھیاریااقتصادی دباؤسے نہیں،بلکہ حکمت،داخلی نظم،قیادت اورشفافیت سے مستحکم ہوتی ہے۔یادرہے کہ ریاستیں توپوں سے نہیں، بلکہ اتحاد،اداروں کی مضبوطی اورعوامی اعتمادسے قائم رہتی ہیں۔پاکستان کی تاریخ،خصوصاً امریکاکے ساتھ تعلقات،ایک ایساتاریخی باب ہے جوآنے والی نسلوں کیلئے سبق آموز ہے کیونکہ تاریخ خاموش نہیں رہتی۔آج کے فاتح کل کے محاسبے میں کھڑے ہوسکتے ہیں،اوراصل طاقت وہ ہے جوعدل وانصاف کے ترازومیں قائم رہ سکے۔پاکستان نے عالمی
منظر نامے پریہ ثابت کیا کہ حقیقی طاقت صرف داخلی استحکام،عوامی وفاداری،اور مضبوط اداروں سے پیداہوتی ہے۔جیسے ایک مضبوط قلعہ اپنی دیواروں اوراندرونی نظام سے ہرحملے کوناکام بناتاہے،اسی طرح ایک قوم کی داخلی طاقت،قیادت،اورعوامی وفاداری ہی اسے عالمی طوفانوں سے محفوظ رکھ سکتی ہے۔
اگرغیرجانبداری کی عینک لگائی جائے تویہ نتیجہ ناگزیرہے کہ نائن الیون کے بعدپاکستان ہی وہ واحدملک ہے جس نے اپنی حکمت عملی سے نہ صرف پاکستان کوامریکی جنگی تباہی سے محفوظ رکھااورآج بالخصوص مئی کی پاک بھارت جنگ میں اقوام عالم کواپنی صلاحیتوں سے مبہوت کردیااوربھارت جیسامکاردشمن اسرائیل کی مکمل پشت پناہی کے باوجود اپنے زخم چاٹ رہا ہے بلکہ اس نے تاریخ کاوہ باب بھی رقم کیا ہے جوآنے والی صدیوں تک زیرِ بحث رہے گا۔