اسلام آباد میں اسلامی ممالک کی تنظیم "تنظیمِ تعاون اسلامی" (OIC) کے ذیلی ادارے کامسٹیک کے تحت کنسورشیم آف ایکسیلنس کا 2 روزہ سالانہ اجلاس شروع ہو گیا۔
اجلاس میں 13 اسلامی ممالک اور روس و چین کے سائنسدانوں اور ماہرینِ تعلیم نے شرکت کی۔ اس اجلاس میں ملائشیا، ایران، تنزانیہ، صومالیہ، بنگلا دیش، اومان، اُردن، فلسطین، ماریطانیہ، روس، چین اور دیگر ممالک کے نمائندے شامل ہیں۔کامسٹیک کے کوآرڈینیٹر جنرل پروفیسر ڈاکٹر اقبال چوہدری نے افتتاحی تقریب سے خطاب کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں سائنسدانوں اور ماہرینِ تعلیم کا یہ ایک اہم موقع ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ فلسطین کی 3 جامعات کے سربراہان اس اجلاس میں موجود ہیں اور کامسٹیک فلسطین کی جامعات کی دوبارہ تعمیر کرے گا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ کامسٹیک کے تحت فلسطینی طلبہ کے لیے 500 اسکالرشپس فراہم کی جا رہی ہیں، اور ان کی تعداد میں مزید اضافہ کیا جائے گا۔
پروفیسر اقبال چوہدری نے مزید کہا کہ کامسٹیک کا مقصد OIC کے رکن ممالک کے درمیان سائنس اور ٹیکنالوجی میں تعاون کو فروغ دینا اور اُبھرتی ہوئی اقوام میں سائنسی اور تکنیکی صلاحیتوں میں اضافہ کرنا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ سائنس اور ٹیکنالوجی کو سماجی و اقتصادی ترقی اور تیز رفتار صنعت کاری میں اہم کردار ادا کرنے کے لیے استعمال کیا جائے۔اجلاس میں چینی جامعہ کی چیف سائسندان لی ضیامن، قائدِ اعظم یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر نیاز احمد، فاسٹ کے ریکٹر ڈاکٹر آفتاب، پرائیویٹ انسٹی ٹیوشن ریگولیٹری ادارے کی چیئرپرسن ڈاکٹر ضیاء بتول، اور چینی جامعہ کی ڈائریکٹر ڈاکٹر زاہو یوفن نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔