سیف علی خان کے خاندان کی جائیدادوں پر حکومت کا قبضہ: قانونی پیچیدگیاں اور پریشانی کا سامنا

سیف علی خان کے خاندان کی جائیدادوں پر حکومت کا قبضہ: قانونی پیچیدگیاں اور پریشانی کا سامنا

بھارتی اداکار سیف علی خان کو اسپتال سے صحت یاب ہونے کے بعد ایک بڑی پریشانی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

 بھارتی میڈیا کے مطابق، سیف علی خان کے خاندان "پٹودی فیملی" کی تاریخی جائیدادوں کو حکومت کے قبضے میں جانے کا خدشہ ہے، جن کی مجموعی مالیت 15 ہزار کروڑ بھارتی روپے ہے۔

مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کا فیصلہ
بھارتی مدھیہ پردیش ہائی کورٹ نے ایک اہم فیصلہ سناتے ہوئے 2015 میں ان جائیدادوں پر عائد حکم امتناع کو ختم کر دیا ہے، جس سے اینمی پراپرٹی ایکٹ 1968 کے تحت ان جائیدادوں پر حکومت کے قبضے کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔ اس ایکٹ کے تحت حکومت ان جائیدادوں پر قبضہ کرسکتی ہے جو پاکستان ہجرت کرنے والے افراد کی ملکیت تھیں۔

پٹودی خاندان کی جائیدادیں
پٹودی خاندان کی تاریخی جائیدادوں میں فلیگ اسٹاف ہاؤس، نورالصباح پیلس، دارالسلام، حبیبی کا بنگلہ، احمد آباد پیلس، کوہیفزہ پراپرٹی اور دیگر اہم مقامات شامل ہیں۔ ان جائیدادوں میں سیف علی خان نے اپنا بچپن گزارا تھا۔

اینمی پراپرٹی ایکٹ 1968
اینمی پراپرٹی ایکٹ مرکزی حکومت کو ان افراد کی ملکیت کا دعویٰ کرنے کی اجازت دیتا ہے جو تقسیم کے بعد پاکستان ہجرت کر گئے تھے۔ اس ایکٹ کے تحت، ان جائیدادوں پر حکومت کا قبضہ ممکن ہے۔

فیصلے کے بعد صورتحال
عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ ترمیم شدہ اینمی پراپرٹی ایکٹ 2017 کے تحت قانونی علاج موجود ہے اور متعلقہ فریقوں کو 30 دنوں کے اندر نمائندگی داخل کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اس فیصلے کے بعد، پٹودی خاندان کے لیے یہ ممکن ہے کہ وہ اپیل کریں اور اس قانونی راستے کو اختیار کریں۔

پٹودی خاندان کے تنازعے کی تاریخ
پٹودی خاندان کی جائیدادوں کے تنازعے کا آغاز اس وقت ہوا جب 1950 میں عابدہ سلطان، جو کہ بھوپال کے آخری نواب کی بیٹی تھیں، پاکستان ہجرت کر گئیں۔ اس کے بعد حکومت نے ان جائیدادوں کو "دشمن کی ملکیت" کے طور پر دعویٰ کرنا شروع کیا۔ 2019 میں عدالت نے ساجدہ سلطان کو قانونی وارث کے طور پر تسلیم کیا تھا، تاہم حالیہ فیصلہ نے تنازعے کو دوبارہ چھیڑ دیا ہے۔

رہائشیوں کی تشویش
بھوپال کے رہائشیوں کو اس صورتحال نے تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ان جائیدادوں پر رہنے والے لوگ کرایہ دار کے طور پر حکومت کی ملکیت میں ہیں اور انہیں بے دخلی کا خوف لاحق ہے۔

آگے کا راستہ
پٹودی خاندان کے لیے قانونی راستے اب بھی کھلے ہیں، اور یہ دیکھنا باقی ہے کہ عدالت میں ان کی اپیلوں کا کیا نتیجہ نکلے گا۔ اس وقت جائیدادوں کی تقدیر غیر یقینی ہے، اور خاندان کو اس پیچیدہ معاملے کا سامنا ہے۔