ریاض: یمن کے ایران نواز حوثیوں کی جانب سے سعودی دارالحکومت ریاض پر میزائل اور ڈرون حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جبکہ مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی نے عالمی توانائی کی سپلائی کے حوالے سے خدشات کو بھی بڑھا دیا ہے۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق تیل کی قیمتوں میں اضافے کی ایک بڑی وجہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور امریکا و ایران کے درمیان مذاکراتی تعطل ہے۔ سرمایہ کاروں میں یہ خدشات پیدا ہوئے ہیں کہ خطے میں مزید کشیدگی کی صورت میں تیل کی پیداوار، ترسیل اور عالمی سپلائی متاثر ہوسکتی ہے۔رائٹرز کے مطابق برینٹ خام تیل کے مستقبل کے سودے 81 سینٹ یا 0.78 فیصد اضافے کے بعد 104.68 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئے۔ اسی طرح امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل کی قیمت 76 سینٹ یا 0.76 فیصد بڑھ کر 101.06 ڈالر فی بیرل ہوگئی۔رپورٹس کے مطابق حوثیوں نے 19 ستمبر کو ریاض پر میزائل اور ڈرون حملے کیے تھے، جبکہ سعودی حکام کے مطابق ایک میزائل کو روک لیا گیا۔ حملوں کے بعد ریاض اور دیگر علاقوں میں سکیورٹی الرٹس بھی جاری کیے گئے۔ حوثیوں نے سعودی عرب میں تیل سے متعلق تنصیبات کو نشانہ بنانے کا بھی دعویٰ کیا، تاہم بعض دعووں کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوسکی۔
مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی عالمی توانائی کی منڈی کے لیے اس لیے بھی اہم ہے کہ سعودی عرب خطے کے بڑے تیل پیدا کرنے والے ممالک میں شامل ہے، جبکہ آبنائے ہرمز اور باب المندب سمیت اہم سمندری راستے عالمی توانائی کی ترسیل میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔ حالیہ کشیدگی کے باعث ان راستوں سے تیل کی ترسیل اور شپنگ لاگت کے حوالے سے خدشات میں اضافہ ہوا ہے۔دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایرانی حکام کے درمیان جاری تعطل بھی عالمی منڈیوں کے لیے اہم عنصر بنا ہوا ہے۔ سفارتی پیش رفت یا کشیدگی میں کمی کی اطلاعات تیل کی قیمتوں پر دباؤ کم کرسکتی ہیں، جبکہ مزید فوجی کشیدگی سپلائی کے خدشات میں اضافہ کرسکتی ہے۔عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں حالیہ اتار چڑھاؤ کے باعث سرمایہ کار مشرق وسطیٰ کی صورتحال، تیل کی ترسیل کے راستوں اور امریکا و ایران کے درمیان سفارتی رابطوں میں پیش رفت کو مسلسل مانیٹر کر رہے ہیں۔