سوتیلی بیٹی سے زیادتی کے مجرم کو سزائے موت کا حکم

سوتیلی بیٹی سے زیادتی کے مجرم کو سزائے موت کا حکم

اسلام آباد: ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد نے سوتیلی بیٹی کو زیادتی کا نشانہ بنانے کے مقدمے میں جرم ثابت ہونے پر ملزم افتخار کو سزائے موت سنا دی۔

 عدالت نے مجرم کو 5 لاکھ روپے جرمانہ ادا کرنے کا حکم بھی دیا، جبکہ متاثرہ لڑکی اور زیادتی کے نتیجے میں پیدا ہونے والے بچے کے لیے مجموعی طور پر 30 لاکھ روپے کی ادائیگی کا حکم جاری کیا گیا ہے۔ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج محمد سہیل نے مقدمے کا محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے مجرم افتخار کو پھانسی کی سزا سنائی۔ عدالتی حکم کے مطابق مجرم کو 5 لاکھ روپے جرمانہ ادا کرنا ہوگا، جبکہ متاثرہ لڑکی کو 10 لاکھ روپے بطور معاوضہ دینے کا حکم دیا گیا ہے۔عدالت نے زیادتی کے نتیجے میں پیدا ہونے والے بچے کی کفالت کے لیے بھی مجرم کو 20 لاکھ روپے ادا کرنے کا حکم دیا۔ یوں جرمانے اور متاثرہ لڑکی و بچے کے لیے مقرر کردہ رقوم کی مجموعی مالیت 35 لاکھ روپے بنتی ہے۔

عدالتی فیصلے میں کیا کہا گیا؟

عدالتی فیصلے کے مطابق مجرم افتخار اپنی سوتیلی بیٹی کو اس کی والدہ کی عدم موجودگی میں تقریباً ایک سال تک مسلسل زیادتی کا نشانہ بناتا رہا۔ مقدمے کی سماعت کے دوران پیش کیے گئے شواہد اور فرانزک رپورٹ نے جرم ثابت کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔فیصلے میں پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی کی ڈی این اے رپورٹ کا بھی حوالہ دیا گیا، جس کے مطابق زیادتی کے نتیجے میں پیدا ہونے والے بچے کا ڈی این اے مجرم افتخار کے ڈی این اے سے میچ کرگیا تھا۔ یہ شواہد مقدمے میں اہمیت کے حامل قرار دیے گئے۔

مقدمہ کب درج ہوا؟

پولیس کے مطابق واقعے کا مقدمہ فروری 2025 میں متاثرہ لڑکی کی والدہ کی مدعیت میں تھانہ شہزاد ٹاؤن اسلام آباد میں درج کیا گیا تھا۔ مقدمے میں لگائے گئے الزامات کی تحقیقات اور عدالتی کارروائی کے بعد عدالت نے مجرم کو سزا سنائی۔

متاثرہ لڑکی اور بچے کے لیے مالی معاوضہ

عدالت نے سزا کے ساتھ متاثرہ لڑکی کے لیے 10 لاکھ روپے اور بچے کی کفالت کے لیے 20 لاکھ روپے کی ادائیگی کا حکم بھی دیا۔ اس اقدام کا مقصد متاثرہ فریق کو مالی معاوضے کی فراہمی اور بچے کی کفالت کے لیے رقم مختص کرنا ہے۔بچوں کے خلاف جنسی جرائم کے مقدمات میں فرانزک شواہد، متاثرہ فرد کے بیان اور دیگر دستیاب ثبوتوں کی اہمیت نمایاں ہوتی ہے۔ اس مقدمے میں بھی ڈی این اے رپورٹ کو عدالتی فیصلے میں اہم ثبوت کے طور پر شامل کیا گیا۔