ریاض: سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض کی جانب داغے گئے بیلسٹک میزائل کو فضا میں ہی تباہ کرنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
سعودی قیادت میں یمن کی حکومت کی حمایت کرنے والے اتحاد کے ترجمان کے مطابق میزائل حوثی باغیوں نے داغا تھا، جسے سعودی فورسز نے روک کر تباہ کردیا۔اتحاد کے ترجمان نے اپنے بیان میں حوثی ملیشیا کو ’’دہشت گرد‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ریاض کی جانب آنے والے بیلسٹک میزائل کو کامیابی سے تباہ کردیا گیا۔ تاہم، ابتدائی رپورٹ میں میزائل کے ممکنہ ہدف، اس کی نوعیت اور واقعے کے نتیجے میں ہونے والے کسی نقصان سے متعلق مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔
ریاض میں شہریوں کے لیے ہنگامی الرٹ جاری
میزائل کو تباہ کیے جانے کے دعوے سے قبل سعودی حکام نے ریاض میں ممکنہ خطرے کے پیش نظر شہریوں کو خبردار کرنے کے لیے الرٹ جاری کیا تھا۔سعودی سول ڈیفنس نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ نیشنل ارلی وارننگ پلیٹ فارم کے ذریعے دارالحکومت میں ممکنہ خطرے سے متعلق انتباہ دیا گیا۔ اس اقدام کا مقصد شہریوں کو صورت حال سے آگاہ کرنا اور ممکنہ خطرے کے پیش نظر محتاط رہنے کی ہدایت دینا تھا۔
شہر میں دو دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے صحافیوں کے مطابق ریاض میں دو دھماکوں کی آوازیں بھی سنی گئیں۔ تاہم، فوری طور پر یہ واضح نہیں ہوسکا کہ ان آوازوں کا تعلق میزائل کو فضا میں تباہ کیے جانے سے تھا یا وہ کسی دوسرے واقعے کے نتیجے میں سنائی دیں۔تاحال فراہم کردہ رپورٹ میں دھماکوں کے مقام، ممکنہ جانی یا مالی نقصان اور میزائل کو تباہ کرنے کے طریقۂ کار سے متعلق تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔
خطے میں سکیورٹی کشیدگی برقرار
ریاض کی جانب میزائل داغے جانے کا واقعہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب خطے میں سکیورٹی صورت حال کشیدہ ہے۔ سعودی قیادت میں اتحاد نے میزائل حملے کا الزام حوثی باغیوں پر عائد کیا ہے، تاہم دستیاب رپورٹ میں حوثی حکام کا مؤقف شامل نہیں ہے۔