اسلام آباد ( بیورو رپورٹ ،مانیٹرنگ ڈیسک ) چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے پارٹی ڈسپلن کی خلاف ورزی پر مشال یوسفزئی کو شوکاز نوٹس جاری کرنے کی ہدایت کردی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی کے اندر کھل کر اظہار رائے کا قائل ہوں، مشال یوسفزئی نے سینئرقیادت پر سوال اٹھایا، جوکہ پارٹی اصولوں کی خلاف ورزی ہے۔انہوں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میں نے عدالت نے استدعا کی ہے کہ ایمرجنسی کو ختم کر کے صوبائی حکومت کو بحال کیا جائے۔دہشتگردی اپنی جگہ ، جس میں کوئی دو رائے نہیں، ہم چاہتے ہیں کہ کوئی ایسا بیان نہیں ہونا چاہئے جس سے دہشتگردی کی جنگ میں کوئی رکاوٹ آئے۔ لیکن اس کے باوجود آپ نے ہماری حکومت لے لی، گورنر راج لگا دیا، سب کچھ ٹیک اوور کرلیا۔آپ نے اگرچہ حکومت ختم کی ہے۔ ہمارے ایم پی ایز کے دفاترز کو مسمار کرنا، ترقیاتی کاموں سے ہماری تختیاں توڑنا، یہ ایک سیاسی جماعت کے خلاف آپریشن ہے، یہ غیرآئینی ہے، اس سے عوام میں نفرت پیدا ہوگی۔عوام میں تناؤ بڑھے گا، یہ ملک کیلئے بہتر نہیں ہے۔بیرسٹر گوہر نے کہا کہ پارٹی میں اس بات کا قائل ہوں کہ ہر کوئی کھل کر بول سکتا ہے، اپنی رائے کا اظہار کرسکتا ہے، مشال یوسفزئی ہماری سینیٹر ہے، میں نے ان کو کہا تھا کہ پارٹی ڈسپلن کا خیال رکھیں، لیکن انہوں نے پارٹی کے قواعدوضوابط کی خلاف ورزی کی ہے، سینئر قیادت پر سوال اٹھائے ہیں، ایڈیشنل سیکرٹری جنرل فردوس شمیم نقوی کو ہدایت کی ہے کہ ان کو وضاحت کیلئے شوکاز نوٹس ایشو کریں۔دوسری جانب پی ٹی آئی کی سینیٹر مشال یوسفزئی نے ایکس پر کہا کہ نا مجھے کوئی شو کاز ملا ہے ،نا ہی مجھے کبھی وارننگ ملی ہے ، اس سے پہلے بھی مجھے شو کاز یہاں تک کہ پارٹی سے نکلوانے والے بیانیے بھی میڈیا پر چلوائے گئے۔ مجھے اور اسد قیصر دونوں کو گوہر بھائی نے میڈیا پر پارٹی کے معاملات پر بات کرنے سے روک دیا ہے۔ ہاں گوہر بھائی نے مجھے یہ ضرور کہا کہ مجھے اسد قیصر کی اڈیالہ جیل میں رات کے 8:30 بجے ہونی والی ملاقات کے بارے میں میڈیا پر بات نہیں کرنی چاہیے تھی۔