امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکا ایران کے جواب کا چند روز تک انتظار کرے گا اور کسی حتمی معاہدے تک پہنچنے کے لیے تہران کو کسی قسم کی رعایت نہیں دی جائے گی۔ انہوں نے میڈیا نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن ایران سے واضح اور قابلِ قبول ردعمل چاہتا ہے تاکہ معاملات کو بہتر انداز میں سمجھا جا سکے۔
ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکی حکام کی جن ایرانی شخصیات سے بات چیت جاری ہے، وہ معقول انداز میں معاملات کو دیکھ رہے ہیں۔ انہوں نے ایک بار پھر یہ مؤقف دہرایا کہ ایران معاہدے کے لیے سنجیدہ دکھائی دیتا ہے، مگر خبردار کیا کہ اگر مذاکرات ناکام ہوئے تو امریکا دوبارہ سخت اقدامات اٹھا سکتا ہے۔
امریکی صدر کے مطابق، ایران اس وقت شدید معاشی دباؤ اور اندرونی بے چینی کا سامنا کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایرانی عوام مشکلات سے دوچار ہیں اور یہی صورتحال تہران کو مذاکرات کی طرف لے جا رہی ہے۔ ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ ایران کے ساتھ جاری کشیدگی زیادہ پرانی نہیں ہے اور اس دوران جنگ بندی کا وقت زیادہ رہا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ آبنائے ہرمز کی صورتحال بھی بہتر بنائی جا سکتی ہے، مگر امریکا کسی جلد بازی میں نہیں ہے۔ اپنی گفتگو میں انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران کو سخت نقصان پہنچا ہے اور آنے والے دنوں میں مزید پیش رفت دیکھنے کو مل سکتی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ معاہدے کے معاملے میں امریکا سوچ سمجھ کر آگے بڑھے گا تاکہ کسی بھی فیصلے میں احتیاط برتی جائے۔