حقیقی چوہدری

پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی

رات کا آخری پہر میں جائے نماز پر ہی نماز عبادت مراقبے کے بعد پتہ نہیں کب نیند کی آغوش میں اُتر گیا دن بھر کی تھکاوٹ کے بعد پتہ ہی نہی چلا کب سو گیا ابھی میں نے نرم گداز بستر پر جانے کا فیصلہ کیا تو اپنا آپ موبائل آن کیا تو برخوردارمعید ملک کے میسجز آئے ہوئے تھے وہ اِس طرح رات کو مجھے کال یا میسج نہیں کر تا لہذا میں نے فورا  اُس کو کال کی خیریت ہو سہی میری پہلی بیل پر ہی اُس نے فون اٹھا لیا وہ آتش فشاں کی طرح پھٹ پڑا آہوں سسکیوں میں روتا ہوا بلکتا ہوا چیخیں مارتا ہوا بولا سر میں یتیم ہو گیا میرا باپ چلا گیا وہ بچوں کی طرح بلک بلک کر رو رہا تھا میں پوری طرح جاگا نہیں تھاحیران ہو کر بولا بیٹا تمہار ے والد صاحب تو پہلے ہی دنیا سے جا چکے ہیں آج تم کس کے مرنے کی بات کر رہے ہو تو روتا ہوا بولا سر میرے سسر چوہدری سرفراز احمد صاحب ہم سب کو روتا بلکتا چھوڑ کر اِس دنیا سے چلے گئے مجھے لگا میری سانس کی نالی پر ہمالیہ رکھ دیا گیا ہو دل دماغ اعصاب سن سے ہو گئے ہیں میں خا موش شل سا ہو کر بیٹھ گیا میں یقین کر نے کو بلکل بھی تیار نہیں تھا کہ زندگی سے بھرپور پیکر خدمت خلق دکھی ضرورت مندوں میں خوشیاں بانٹنے والا شخص اس طرح اچانک ہم سب کو چھوڑ کر چلا گیا میرا دل ماننے کو تیار نہیں تھا میں موت کی بے رحمی پر غور کر نے لگا کہ اِس دھرتی پر اربوں انسان بستے ہیں شہر لاہور بھی لاکھوں انسانوں سے اُبل رہا ہے آخر حاجی سرفراز احمد کو ہی کیوں موت نے بے رحمی سے پکڑا ‘ موت کی سفاقیت بے رحمی کہ یہ باغ کے سب سے تر و تازہ دلکش پھول کو ہی کیوں نوچتی ہے جس کے دم سے گلشن کی بہار اور رنگ قائم ہو تے ہیں یہ انسانوں کے اِس ہجوم میں صرف اُس انسان پر ہی کیوں حملہ آور ہوتی ہے جس کے وجود سے انسانیت کی عمارت شان و شوکت سے کھڑی ہو تی ہے اُس چراغ کو ہی کیوں بجھاتی ہے جس کی روشنی سے اندھے گونگے بانجھ معاشرے روشن ہو تے ہیں یہ حلقہ یاراں کے اُس فرد پر ہی کیوں حملہ آور ہو تی ہے جو دوستوں کی جان ہو تا ہے آسمان کے اُس ستارے کو کیوں توڑتی ہے جو ہزاروں ضرورت مند لوگوں کی اندھیری زندگیوں میں آسانی خدمت کی روشنی بانٹ رہا ہو تا ہے مادیت پرستی مارا ماری کے اِس بے رحم زمانے میں موجود کروڑوں جانوروں کو کیوں چھوڑ دیتی ہے جن کے ہونے نہ ہونے سے بلکل بھی فرق نہیں پڑتا یہ گندگی کے ڈھیر پر حملہ آور ہونے کی بجائے روشنی کے مینار پر کیوں حملہ آور ہو تی ہے یہ موت دھرتی کی سچی حقیقت ہے اِس ظالمانہ طریقے سے وار کر تی ہے کہ بادشاہ وقت کو تاج و تخت سمیٹنے اور درویش کو اپنا بوریا سنبھالنے کا موقع نہیں دیتی کوئی شاہی تخت پر آخری ہچکی لے یا سڑک پر آکرآخری آرام گاہ دو گز زمین ہی ہے۔بے رحم موت معاشرے کے اس فرد پر حملہ کرتی ہے جس سے انسانیت کا بھرم قائم ہو جو محفل کی جان ہو آسمان کے اُس ستارے کو توڑتی ہے جو سب سے زیادہ روشن ہو قوس قزح کی اُس لکیر کو مٹاتی ہے جو سب سے زیادہ روشن رنگین ہو اور خاندان کے اُس سر خیل پر حملہ آور ہو تی ہے جو خاندان کی جان ہو دھرتی کے اُس شخص سے محروم کر تی ہے جو معاشرے کو روشن اور خوشبو دار کر رہا ہو ہر گزرتے سیکنڈ کے ساتھ اِس دھرتی پر لاکھوں ایسے انسان گاجر مولی کی طرح کٹ رہے ہیں جو جانوروں کی مانند ہیں ایسے انسانوں کے آنے جانے سے نبض کائنات کی سانسیں نہیں رکتیں جس کے مرنے سے ساتھ والے گھر یا گلی میں بھی کوئی اداس نہیں ہوتا جن کا ہونا نہ ہو نا برابر ہو تا ہے لیکن دکھ اُس وقت ہو تا ہے جب حاجی سرفراز صاحب جیسے لوگ اِس زمانے کو روتا بلکتا چھوڑ کر مٹی کا کمبل اوڑھ کر سو جائیں ایسے لوگوں کے جانے سے رشتہ داروں کے ساتھ ساتھ ان کے جاننے والے دوستوں سے بھی افسوس کرنا چاہیے کیونکہ حاجی صاحب جیسے لوگ کسی خاص خاندان قبیلے کے فرد نہیں بلکہ سارے معاشرے شہر کی آبرو جان عزت ہو تے ہیں ایسے لوگوں کے جانے سے شہر محلے خاندان اُجڑ جاتے ہیں جیسے ہی مٹی کی چادر اوڑتے ہیں نرم جہاں کا رنگ رونقیں پھیکی پڑجاتی ہے ایسے لوگوں کے بارے میں کہا جاتا ہے ۔ 
بھیڑ میں دنیا کی جانے وہ کہاں گم ہو گئے 
کچھ فرشتے بھی رہا کر تے انسانوں کے ساتھ 
میں جب سے کوچہ تصوف کا خادم بنا ہوں اور حق تعالی مجھ سیاہ کار سے خدمت خلق کا تھوڑا بہت کام لے رہا ہے تو دن رات سینکڑوں لوگوں سے ملتا ہوں اِن میں سے ایک سے بڑھ کر ایک انسان ہر رنگ کے لوگ ملتے ہیں زیادہ تر باتوں کے جادوگر کہانیاں قصے باتیں ہی باتیں عملی طو ر پر بلکل مختلف یعنی کہتے کچھ ہیں عمل کچھ اور کرتے ہیں میں ہمیشہ ایسے لوگوں کی تلاش میں رہا جن کے قول و فعل میں فرق نہ ہو ایسے لوگوں میں چوہدری سرفراز صاحب بھی تھے چند سال پہلے ایک دن مجھے کال آئی بولے بھٹی صاحب آپ کو اس سال حج پر نہ بھیج دیا جائے تو میں بولا چوہدری صاحب میں نے حج عمرہ کر لیا ہے اب اگر میرے پاس وسائل ہوںتوکسی یتیم لڑکی کی شادی یا ضرورت پوری کرنا چاہوں گا میری بات سن کر انہوں نے فون بند کر دیا اگلے دن پھر چوہدری صاحب کا فون آیا بھٹی صاحب جن یتیم بچیوں کی شادی ہے ان کی مدد کیسے کریں پھر دو یتیم بچیوں کی شادی کے سارے اخراجات پورے کر دئیے اس طرح چوہدری صاحب نے مجھے بہت حیران کر دیا تو میں نے ان کے بارے میں سوچنا شروع کیا تو پتہ چلا کہ میں جن لوگوں کی تلاش میں رہتا ہوں چوہدری صاحب میں وہ ساری خوبیاں موجود ہیں وہ باتوں کے کھلاڑی نہیں عمل کرنے والے ہیں جوانی میں باپ کا سایا سر سے اٹھا تو اپنے بہن بھائیوں کو اپنی آغوش میں لے لیا اولاد کی طرح پالا‘ شادیاں کرائیں کامیاب کاروبار کرایا ماں اور باپ نے کہا تم بڑے بھائی نہیں اِن کے باپ ہو آخری سانس تک یہ رشتہ نبھایا بطور خاوند بہترین خاوند شریک حیات کو عزت دی خدمت کی ضرورتیں پوری کیں اپنی اولاد کو کامیاب باپ کی طرح پالا ان کو اخلاق سکھائے بزنس سکھایا عزت دی سسر بنے تو دامادوں کو سر پر بٹھایا مالک بنے تو نوکروں کے بچوں کو اپنے بچے سمجھ کر شادیاں کیں عمرے حج کرائے جس دوکاندار سے سودا لیتے تھے اُس کے مرنے پر اُس کے بچوں کو اپنے بچوں کی طرح پالا چوہدری صاحب پارس تھے جو شخص ان کی زندگی میں آیا انہوں نے اُس کو لوہے کو سونا بنا دیا ہمیشہ کہا کرتے تھے حقوق اللہ کے ساتھ حقوق العباد پورے کرو گے تو اللہ کے ہاں کا میابی ملے گی رشتے اور تعلق نبھانا چوہدری صاحب پر آخیر تھا وہ ایک انسان نہیں اکیڈمی تھا جہاں پر اخلاق دوسروں کو خوشی دینے کے طریقے سکھائے جاتے ہیں بہت بڑے سخی بانٹنے والے تھے رمضان کے آنے سے پہلے مجھے فون کر تے اِس بار راشن جو ہم غریب لوگوں کو دینے تھے ڈبل کر دیا ہے ضرورت مند کوئی اُن کے سامنے آیا اور انہوں نے اُس کی ضرورت پوری نہ کی ہو یہ کبھی نہ ہوا جیسے ہی پتہ چلتا فلاں پریشان ہے ضرورت مند ہے تو جب تک اُس کی ضرورت پوری نہیں کر دیتے تھے سکون کی سانسیں نہیں لیتے تھے سخاوت اِس قدر کر تے کہ حیران کر دیتے میں نے جب پوچھا چوہدری صاحب آپ اللہ کے راستے پر بہت دیتے ہیں یہ حوصلہ کہاں سے آتا ہے تو بولتے میں تو ڈاکیہ ہوں اللہ مجھے دیتا ہے میں ضرورت مند وں میں بانٹ دیتا ہوں میںکون سا اپنے پاس سے دیتا ہوں اللہ کامال اللہ کے بندوں میں بانٹ دیتا ہوں تو میں کہتاچوہدری صاحب آپ زیادہ پڑھے لکھے نہیں آپ کو زندگی کے طریقے رشتے نبھانے کا آرٹ کامیاب کاروباری باپ خاوند بھائی مالک سسر کس نے سکھایا لوگوں کی خدمت کا جذبہ کس نے دیا تو کانوں کو ہاتھ لگا کر آسمان کی طرف اشارہ کر کے کہتے بھٹی صاحب یہ سارے طریقے اور خیال اللہ میرے دل میں ڈالتا ہے اللہ میرا مرشد اور استاد ہے تو میں کہتا چوہدری صاحب یہ ولیوں والے کام آپ کرتے ہیں آپ زندہ ولی ہیں تو کہتے نہیں میں تو گناہ گار ہوں یہ سچ ہے کہ چوہدری صاحب میں وہ تمام خوبیاں تھیں جو اللہ کے نیک بندوں میں ہوتی ہیں وہ نیک انسان تھے ۔
بچھڑا کس ادا سے کہ رت ہی بد ل گئی 
اک شخص سارے شہر کو ویراں کر گیا 
آسمان تیری لحد پر شبنم افشانی کرے 
سبزہ نور ستہ اِس گھر کی نگہبانی کرے