جیل سپرنٹنڈ نٹ سے عمران خان سے ملاقاتوں کا طریقہ کار طلب

 بانی پی ٹی آئی کی جیل مینوئل کے علاوہ بھی ملاقاتیں کرا رہے ہیں، سپرنٹنڈنٹ 
26 نومبر ،بشریٰ کی ضمانت میں توسیع ، وفد کو بانی سے ملاقات کی اجازت نہ ملی 
 اسلام آباد، راولپنڈی ( خصوصی رپورٹ )اسلام آباد ہائیکورٹ کے لارجر بینچ نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کی جیل ملاقاتوں سے متعلق درخواستوں میں اڈیالہ جیل سپرنٹنڈ نٹ سے ملاقاتوں کا شیڈول اور طریقہ کار طلب کرلیا۔گزشتہ روز قائمقام چیف جسٹس سرفراز ڈوگر کی سربراہی میں جسٹس ارباب محمد طاہر اور جسٹس محمد اعظم خان لارجر بینچ میں سماعت کے دوران سپرنٹنڈ نٹ اڈیالہ جیل عبدالغفور انجم عدالت کے سامنے پیش ہوئے اور موقف اختیار کیاکہ بانی پی ٹی آئی کی آئوٹ آف شیڈول اور جیل مینوئل کے علاوہ بھی ملاقاتیں کرا رہے ہیں، عدالت نے جیل سپرنٹنڈنٹ سے بانی سے ملاقاتیں کرنے والوں کا ریکارڈ اور جیل ملاقاتوں کا طریقہ کار دریافت کیا، جیل سپرنٹنڈنٹ سے رپورٹ طلب کرتے ہوئیسماعت 24مارچ تک کیلئے ملتوی کر دی۔ادھر انسداددہشتگردی عدالت کیجج ابوالحسنات ذوالقرنین کی عدالت نے26 نومبر احتجاج پر درج مقدمات میں بشریٰ بی بی کی عبوری ضمانت میں توسیع کردی۔گزشتہ روز درخواست ضمانت پر سماعت کے دوران بشریٰ کیجانب سے حاضری سے استثنیٰ اور شامل تفتیش ہونے کی درخواست دائرکی گئی ، عدالت نے بشریٰ کی عبوری ضمانت میں پانچ مئی تک توسیع کردی اور عدالت نے کیس کی مزید سماعت 5 مئی تک ملتوی کردی۔ ادھر اڈیالہ جیل میں بانی سے دوستوں کی ملاقات نہ ہو سکی ، وفد واپس آگیا۔ جمعرات کو فرینڈز میٹنگ ڈے پر بانی سے ملاقات کے لئے علامہ ناصر عباس ،صاحبزادہ حامد رضا ، وکیل بانی پی ٹی آئی خالد یوسف چودھری اور اعظم سواتی ملاقات کے لئے جیل پہنچے جبکہ عمر ایوب ، جنید اکبر اور اسد قیصر نہ آ سکے۔ملاقات کا وقت ختم ہونے تک ان رہنمائوں کو بانی سے ملاقات کی اجازت نہ ملی۔ اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے علامہ راجہ ناصر عباس نے کہا کہ کئی کئی گھنٹے انتظار کرواکے پھر واپس بھیج دیا جاتا ہے۔پتہ نہیں حکومت کو کس بات کا خوف ہے۔عید کے بعد اپوزیشن کا اتحاد پوری طرح سامنے آئے گا۔