فیسکو کے چار سابق چیف ایگزیکٹو سمیت ستارہ گروپ آف انڈسٹری کے بورڈ ڈایکٹرز کے ممبران اور چیف ایگزیکٹو کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا
فیصل آباد (آن لائن)ایف آئی اے کی بڑی کارروائی، تقریباً 12 ارب روپے کی بجلی فراڈ اسکیم بے نقاب، تحقیقات کا دائرہ کا ر وسیع ، فیسکو کے چار سابق چیف ایگزیکٹو ا سمیت ستارہ کیمیکلز گروپ آف انڈسٹری کے بورڈ ڈایکٹرز کے ممبران اور چیف ایگزیکٹو کے خلاف مقدمہ درج ، فیسکو کے دو سابق چیف ایگزیکٹو افسران گرفتار۔ عدالت نے دونوں ملزمان کا پانچ روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کر لیا جبکہ معروف صنعتکار میاں محمد دریس آف ستارہ کیمیکلز کو گھر جانے کی اجازت دے دی ہے ، تحقیقات مکمل ہونے تک ملک سے باہر جانے پر پابندی عائد،تفصیلات کے مطابق وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے) کمپوزٹ سرکل فیصل آباد نے ایف آئی آر نمبر 35؍2026 بجرم دفعات 5(2)؍47 انسدادِ بدعنوانی ایکٹ بمعہ دفعات 34، 109، 409، 419، 420، 467، 468 اور 471 تعزیراتِ پاکستان کے تحت میسرز ستارہ انرجی لمیٹڈ (SEL) اور میسرز ستارہ کیمیکل انڈسٹریز لمیٹڈ (SCIL) کے میاں ادریس ،میاں جاوید قبل ،میاں عمران سمیت پانچ ڈائریکٹرز؍چیف ایگزیکٹو افسران اور فیسکو کے چار سابق چیف ایگزیکٹو افسران کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے ،ملزمان پر الزام ہے کہ انہوں نے 2007 سے 2015 کے دوران مبینہ طور پر باہمی ملی بھگت سے بجلی کی خرید و فروخت کے نظام میں غیر قانونی رد و بدل کرتے ہوئے قومی خزانے کو تقریباً 12 ارب روپے کا نقصان پہنچایا اور ناجائز مالی فوائد حاصل کیے تحقیقات کے مطابق ستارہ گروپ آف انڈسٹریز نے میسرز SEL اور SCIL کے ذریعے فیسکو کے بعض اعلیٰ حکام کے ساتھ مبینہ ملی بھگت کرتے ہوئے بجلی کی تجارت میں بے ضابطگیاں کیں