مون سون کی پہلی بارش‘آدھا لاہور ڈوب گیا‘وادی نیلم میں بادل پھٹنے سے سیلاب 4افراد جاں بحق

 واسا انتظامیہ کی جانب سے دعویٰ کیا گیا تھا  مون سون  سے نمٹنے کیلئے تمام ڈسپوزل سٹیشنز، ہیوی مشینری، ڈی واٹرنگ سیٹس اور  عملہ الرٹ ہے‘دعوئوں کے برعکس کئی گھنٹے پانی نہ نکالا جاسکا
غیر معمولی بارش کے باعث بعض علاقوں میں پانی جمع ہواجس کو نکال دیا گیا:واسا حکام‘خیبر میں سیلابی ریلوں میں دو گاڑیاں بہہ گئیں‘لاہور سمیت مختلف شہروں میں مزید بارش کا امکان
لاہور (رپورٹ:شہزاد راجپوت)  لاہور میں مون سون کی حالیہ بارش نے واسا کی تیاریوں اور کارکردگی پر ایک بار پھر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ شہر کے متعدد نشیبی علاقے گھنٹوں پانی میں ڈوبے رہے، اہم شاہراہیں اور سڑکیں تالاب کا منظر پیش کرتی رہیں جبکہ شہریوں کو آمدورفت، کاروباری سرگرمیوں اور روزمرہ معمولات کی انجام دہی میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔بارش سے قبل واسا انتظامیہ کی جانب سے دعویٰ کیا گیا تھا  مون سون سیزن سے نمٹنے کے لیے تمام ڈسپوزل اسٹیشنز، ہیوی مشینری، ڈی واٹرنگ سیٹس اور فیلڈ عملے کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے اور نکاسی آب کے تمام انتظامات مکمل ہیں۔ لاہور میں چند گھنٹوں کی بارش نے ان دعوؤں کی نفی کر دی۔بارش کے بعد داتانگر،بادامی باغ،سبزی منڈی،فرخ آباد،اقبال ٹائون،سکیم موڑ،سمن آباد،رسول پارک،گلشن راوی،چوبرجی،سبزہ زار،پنڈی سٹاپ،پیکو روڈ،ہربنس پورہ اور کینال روڈ کے دونوں جانب دیگر نشیبی علاقوں میں کئی کئی گھنٹے تک بارش کا پانی جمع رہا۔ شہر میںمتعدد مقامات پر ٹریفک کی روانی شدید متاثر ہوئی جبکہ گاڑیاں اور موٹر سائیکلیں پانی میں پھنس گئیں۔ ذرائع کے مطابق مالی سال 2025-26 کے لیے لاہور واسا کا مجموعی بجٹ 75.5 ارب روپے تک پہنچ چکا ہے جبکہ شہر میں نکاسی آب اور سیوریج کے چھ بڑے ترقیاتی منصوبوں پر 25.84 ارب روپے لاگت سے کام جاری ہے۔ جن کے لیے رواں مالی سال میں 4.696 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ ان منصوبوں کا مقصد شہری علاقوں میں بارش کے پانی کی فوری نکاسی اور اربن فلڈنگ کے خطرات میں کمی لانا ہے‘ دوسری جانب واسا حکام کا مؤقف ہے  غیر معمولی بارش کے باعث بعض علاقوں میں عارضی طور پر پانی جمع ہوا تھا تاہم ڈسپوزل اسٹیشنز اور فیلڈ ٹیموں نے فوری کارروائی کرتے ہوئے نکاسی آب کا عمل جاری رکھا اور بیشتر علاقوں سے پانی نکال دیا گیا ہے۔دریں اثناء خیبر میں تیز بارش کے باعث مختلف مقامات پر سیلابی ریلوں میں دو گاڑیاں بہہ گئیں، سوار خواتین اور بچوں کو بچا لیا گیا جبکہ پولیس کے مطابق تین افراد لاپتہ ہیں۔لیہ کے موضع سمرانشیب میں دریائے سندھ کی  موجیں بے قابو ہوگئیں، پانی کے تیز بہا میں دو بڑے سرکاری سکول دریا برد ہوگئے، دریائے سندھ کے کٹا سے اب تک سینکڑوں ایکڑ فصلوں اور 300 مکانات کو نقصان پہنچا ہے‘۔کشمیر کی وادی نیلم کے نواحی گائو ں میں کلاووڈ برسٹ کے بعد ندی نالوں میں طغیانی آگئی، جس سے مکانات سمیت متعدد دکانیں سیلاب کی زد میں آگئیں۔مینگل نالے کے قریب متعدد گاڑیاں اور موٹرسائیکل بہہ گئیں۔مری اور گلیات میں بھی موسلا دھار بارش ہوئی، جس سے درجہ حرارت میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی۔نگر میں چھلت کے علاقے بڈہ لس میں لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے 4 مزدور جاں بحق ہوگئے