’میاں بیوی راضی تو کیا کرے گا قاضی‘ چائلڈ میرج ایکٹ کے تحت گرفتار ملزم کی ضمانت

’میاں بیوی راضی تو کیا کرے گا قاضی‘ چائلڈ میرج ایکٹ کے تحت گرفتار ملزم کی ضمانت

اسلام آباد: سپریم کورٹ نے چائلڈ میرج ایکٹ کے تحت گرفتار ملزم محمد عرفان کی بعد از گرفتاری ضمانت منظور کر دی ہے۔

عدالت کے تین رکنی بینچ جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں سماعت کے دوران ملزم کی ضمانت ایک لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکوں کے عوض منظور کی گئی۔درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ملزم نے لڑکی کو اغوا کیا اور گھر سے سونا و پیسے چوری کیے۔ اغوا ہونے والی لڑکی کی عمر 16 سال ہے۔ملزم کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ لڑکی نے ملزم سے کورٹ میرج کی ہے اور مجسٹریٹ کے سامنے بیان ریکارڈ پر موجود ہے۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ بچی تین بار مجسٹریٹ کے سامنے پیش ہو چکی ہے اور واضح کر چکی ہے کہ وہ شادی کے لیے راضی ہے، لہذا فیملی ٹری نکالنے یا اضافی کارروائی کی ضرورت نہیں۔جسٹس اشتیاق ابراہیم نے پوچھا کہ چائلڈ میرج ایکٹ کے تحت سزا کتنی ہے، جس پر پراسیکیوٹر نے بتایا کہ 16 سال 4 ماہ کی سزا ہے۔عدالت نے دلائل مکمل ہونے کے بعد ملزم کو ایک لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کر دی۔