پلازہ آتشزدگی، مزید لاشیں ملنے کا خدشہ

 اموات 28ہوگئیں،20ناقابل شناخت عمارت کا 40 فیصد حصہ گر چکا،بائیں جانب زیادہ لاشیں ہوسکتیں، ڈپٹی کمشنر
75 افرادلاپتا ہونیکی تصدیق، ڈی این اے کیلئے48 لواحقین کے نمونے جمع،چھت پرموجودگاڑیاں اتارلیں
کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک) گل پلازہ میں لگنے والی آگ کے بعد چوتھے روز بھی ریسکیو آپریشن جاری رہا۔گرائونڈفلور اورپہلی منزل کلیئر کرنے کے بعد امدادی ٹیموں نے دوسری اور تیسری منزل پر سرچنگ کا عمل شروع کر دیا۔ایم اے جناح روڈ پر واقع شاپنگ مال میں ہفتے کی رات لگنے والی آگ کے سبب عمارت کا 40 فیصد حصہ منہدم ہوگیا،پلازہ سے متصل بلڈنگ کے دو پلر ٹوٹ گئے،عمارت کا باقی ڈھانچہ کسی بھی وقت گرنے کا خدشہ پیدا ہوگیا،ریسکیو اہلکاروں کودھوئیں اور تپش کے باعث امدادی کارروائیوں میں دشواری کا سامنا کرنا پڑ رہا۔ریسکیو آپریشن کے دوران اب تک دم گھٹنے اور جھلس کر جاں بحق ہونے والے 28 افراد کی لاشیں نکالی جا چکی ہیں۔پولیس سرجن کراچی ڈاکٹر سمعیہ نے بتایا کہ 8 افراد کی شناخت ہوگئی ہیجبکہ 20 لاشیں تاحال ناقابل شناخت ہیں،ان کے ڈی این اے سیمپل لے لئے گئیہیں،جبکہ مرنے والوں میں کاشف، عامر، فراز، فاروق، فرقان، محمد علی ،تنویر اور خاتون مصباح شامل ہیں۔ان کے مطابق ایک لاش کی شناخت شناختی کارڈ جبکہ خاتون مصباح کو گلے میں موجود لاکٹ سے پہچانا گیا۔ڈاکٹر سمعیہ کے مطابق اب تک 48 لواحقین کے نمونے جمع کیے گئے ہیں جنھیں سندھ فارنزک ڈی این اے لیبارٹری، آئی سی سی بی ایس بھیجا جا رہا ہے،جیسے جیسے لاشیں موصول ہوتی رہیں گی، کارروائی جاری رہے گی۔پولیس سرجن نے بتایا کہ 33 سالہ مصباح دختر عرفان کی میت ورثاء￿  کے سپر د کی جائے گی، خاتون مصباح کی فیملی کے دیگر4 افراد بھی سانحہ گل پلازہ میں لاپتہ ہیں۔ریسکیو1122کے رضوان احمدکے مطابق مرنے والوں سمیت مجموعی طورپر84افرادلاپتہ رجسٹرکئے گئے ہیں۔پولیس کا کہنا ہے کہ زیادہ تر لاپتہ افراد کے جاں بحق ہونے کا خدشہ ہے اور امدادی کارکن ملبے میں لاشوں کو تلاش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ڈپٹی کمشنر جاوید نبی کھوسو کیمطابق لاپتہ افراد کی فہرست میں 83 نام شامل ہیں، بعض نام دو بار شامل کر لیے گئے اس لیے 75 افراد کے لاپتہ ہونے کی تصدیق ہوئی ہے۔ڈی سی کا مزیدکہنا تھا کہ بلڈنگ کا 40 فیصد حصہ گر چکا ہے، ایس بی سی اے کے ماہرین نے معائنے کے بعد بتایا کہ دیگر حصے بھی انتہائی کمزور ہے، تاجروں سے گزارش ہے کہ ہم سے تعاون کریں اور ریڈ زون سے دور رہیں۔ان کیمطابق عمارت کے اندر داخل ہوکر دوبارہ سرچنگ کی جائے گی، ایس بی سی اے کی ٹیم ساتھ موجود ہے، جو وقتاً فوقتاً ہمیں بتا رہی ہے کہ کس طرح آپریشن کرنا ہے۔انہوں نے مزید بتایا کہ منگل کی صبح اوپرکی منزلوں پر ریسکیو اہلکاروں کو بھیجا گیا، تفصیلی سروے کیا لیکن ہمیں کوئی لاش نہیں ملی البتہ شک ہے کہ عمارت کی بائیں جانب زیادہ لاشیں ہوں گی، وہاں راستہ بنا کر ٹیمیں بھیجیں گے، اللہ کرے ہمیں راستہ مل جائے۔ادہرمیئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب کی ہدایت پر مزید ہیوی مشینری موقع پر پہنچا دی گئی، جبکہ بلدیہ عظمیٰ کراچی کے عملے نے کرینز کے ذریعے مرحلہ وار گاڑیوں کو نیچے اتارنا شروع کر دیا۔انتظامیہ کے مطابق اب تک گل پلازہ کی چھت سے مجموعی طور پر 32 گاڑیاں محفوظ طریقے سے نیچے اتار لی گئی ہیں۔ان میں 16 کاریں، 4 سوزوکی، 12 موٹر سائیکل اور 1 رکشہ شامل ہے۔اتاری جانے والی گاڑیاں محفوظ حالت میں ان کے مالکان کے حوالے کر دی گئیں، جنہوں نے گاڑیاں خود چلا کر محفوظ مقام پر منتقل کیں۔مرتضیٰ وہاب ریسکیو آپریشن کی نگرانی کیلئے رات گئے گل پلازہ پہنچے اورکہاکہ جب تک تمام لاپتہ افراد کا سراغ نہیں مل جاتا اور ریسکیو آپریشن مکمل نہیں ہوتا، بلدیہ عظمیٰ کراچی کے تمام محکمے الرٹ رہیں گے۔دریں اثنا گل پلازہ میں آتشزدگی کی تحقیقات کے لیے وزیر اعلیٰ سید مراد علی شاہ کی جانب سے بنائی گئی کمیٹی کا پہلا اجلاس کمشنر کراچی کی صدارت میں منعقد ہوا جس میں دکانداروں اور متعلقہ حکام کے بیانات قلمبند کرنے کا فیصلہ کیا گیا تاکہ آگ لگنے کا وقت اور وجوہات سامنے آ سکیں۔