سکیموں کیلئے جدید سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹ کی منظوری

 منصوبہ ہڈیارہ ڈرین کے مقام پر 400 کنال رقبے پر بنے گا،پراجیکٹ سے ماحولیاتی آلودگی پر بھی قابو پانے میں مدد ملے گی
 لاہور (خصوصی رپورٹ )پنجاب حکومت نے فیروزپور روڈ اور ملحقہ نئی ہا ئوسنگ سکیموں کے لیے جدید سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹ قائم کرنے کی منظوری دے دی۔یہ منصوبہ ہڈیارہ ڈرین پر تعمیر ہوگا اور اسے لاہور کا پہلا باقاعدہ سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹ قرار دیا جا رہا ہے۔حکام کے مطابق اس اقدام سے نہ صرف گندے پانی کا مسئلہ کم ہوگا بلکہ ماحولیاتی آلودگی پر بھی قابو پانے میں مدد ملے گی۔تفصیلات کے مطابق پنجاب حکومت نے فیروزپور روڈ، کاہنہ، ایل ڈی اے سٹی اور اس سے ملحقہ ہا ئوسنگ سکیموں کے لیے جدید سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹ کے قیام کا اصولی فیصلہ کر لیا ہے۔منصوبہ ہڈیارہ ڈرین کے مقام پر چار سو کنال سے زائد رقبے پر تعمیر کیا جائے گا۔ یہ لاہور کا پہلا باقاعدہ سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹ ہوگا جو جنوبی پٹی کی نئی آبادیوں سے خارج ہونے والے گندے پانی کو باقاعدہ طور پر ٹریٹ کرے گا۔اس سے قبل ویسٹ واٹر ٹریٹمنٹ منصوبوں کے پی سی ون کی منظوری تو دی جاتی رہی، تاہم عملی طور پر یہ پہلا بڑا اقدام ہوگا جس کے تحت ایک مکمل فعال ٹریٹمنٹ سسٹم تعمیر کیا جائے گا۔ ہڈیارہ ڈرین پر اس سکیم کی ابتدائی منظوری مالی سال 2017-18 میں دی گئی تھی، تاہم اب اسے عملی شکل دینے کی پیش رفت تیز کر دی گئی ہے۔منصوبہ بندی ایل ڈی اے کے شعبہ سی ایم پی، انجینئرنگ ونگ اور نیسپاک کے اشتراک سے تیار کی جائے گی۔ ایل ڈی اے گورننگ باڈی اس منصوبے کی منظوری کی سفارش کر چکی ہے جبکہ اس کی مکمل فنڈنگ پنجاب حکومت فراہم کرے گی۔ منصوبے کی تکمیل کے بعد ہڈیارہ ڈرین میں براہِ راست گرنے والے آلودہ پانی میں نمایاں کمی آئے گی، جس سے نہ صرف ماحولیاتی آلودگی کم ہوگی بلکہ زیرِ زمین پانی کے ذخائر کے تحفظ میں بھی مدد ملے گی۔حکام کا کہنا ہے کہ جنوبی لاہور کی نئی رہائشی بستیوں کو جدید شہری تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا وقت کی ضرورت ہیاور یہ منصوبہ مستقبل کی شہری منصوبہ بندی میں ایک سنگِ میل ثابت ہو سکتا ہے۔