چاروں صوبوں میں غربت میں اضافہ ، شہری علاقوں میں غربت 11 فیصد سے بڑھ کر 17.4 فیصد ہوگئی‘ پنجاب میں 16.5 فیصد سے بڑھ کر 23.3 فیصد ہوگئی
سندھ میں 24.5 فیصد سے بڑھ کر 32.6 فیصد ہ، خیبرپختوانخواہ میں 28.7 فیصد سے بڑھ کر 35.3 فیصد ، بلوچستان میں 41.8 فیصد سے بڑھ کر 47 فیصد ہوگئی
اسلام آباد(آئی این پی )آئی ایم ایف مشن کی آمد سے قبل انکشاف ہوا ہے کہ پاکستان میں غربت کی شرح بڑھ کر 29.9 فیصد ہوگئی۔ملک میں 7 سال بعد غربت کے اعدادوشمار جاری کردئیے گئے۔تازہ ترین تخمینوں کے مطابق گزشتہ 6 سالوں کے دوران ملک میں غربت کی شرح میں اضافہ ہوا ہے اور مالی سال 25-2024 میں پاکستان کی 29.9فیصد آبادی غربت کے بے رحم شکنجے میں جکڑی ہوئی ہے۔ پاکستان میں غربت کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، سال 2018-19 میں غربت کی شرح 21.9 فیصد تھی، لیکن گزشتہ 6 سالوں کے دوران اس میں تقریبا 6.9 فیصد کا بڑا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ 2024-25 کے حالیہ سروے پر مبنی تخمینوں کے مطابق، اب ملک میں غربت کی شرح 28.8 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔ صوبائی سطح پر بھی غربت کے گراف میں تیزی دیکھی گئی ہے، جس سے خاص طور پر پنجاب اور سندھ شدید متاثر ہوئے ہیں۔اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال نے کہا کہ 2018 کے بعد غربت کے اعدادوشمار جاری نہیں کیے گئے تھے، گزشتہ 7 سال میں چاروں صوبوں میں غربت میں اضافہ ہوا۔ ہم نے پہلی بار کثیر الجہتی غربت کے اعدادوشمار پیش کیے۔احسن اقبال نے کہا کہ شہری علاقوں میں غربت 11 فیصد سے بڑھ کر 17.4 فیصد ہوگئی۔ پنجاب میں غربت 16.5 فیصد سے بڑھ کر 23.3 فیصد ہوگئی، سندھ میں غربت 24.5 فیصد سے بڑھ کر 32.6 فیصد ہوگئی، خیبرپختوانخواہ میں غربت 28.7 فیصد سے بڑھ کر 35.3 فیصد ہوگئی، بلوچستان میں غربت 41.8 فیصد سے بڑھ کر 47 فیصد ہوگئی۔انہوں نے کہا کہ وفاقی ترقیاتی بجٹ کا حجم بہت کم ہوگیا، میکرواکنامک استحکام کیلئے آئی ایم ایف پروگرام نافذ کرنا پڑا، روپے کی قدر گرنے سے مہنگائی نے لوگوں کو بری طرح کچلا، کسی ملک کی ترقی میں غربت کے تخمینوں کا اہم کردار ہوتا ہے، غربت کے خاتمے کے بغیر معیار زندگی بہتر نہیں ہو سکتا۔ معاشی ناہمواری ختم کرنا اہم ہدف ہے۔وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے پالیسی کے عدم تسلسل، کورونا وبا، آئی ایم ایف پروگراموں کو غربت میں اضافے کی وجہ قرار دیا۔