سمیع اللہ ملک(آخری قسط)
یہ دلیل دی جاتی ہے کہ انڈیاکی موجودگی گلوبل ساتھ کے خدشات کوتقویت دے گی،مگرسوال یہ ہے کہ کیاوہ آوازواقعی سنی جائے گی؟ناقدین کاکہنا ہے کہ انڈیادرپردہ اسرائیلی مؤقف کاترجمان بن سکتاہے،جواس کی غیرجانبداری پرسوالیہ نشان ہوگا۔یہ اندیشہ محض سیاسی نہیں بلکہ اخلاقی بھی ہے،کیونکہ فلسطین کامسئلہ صرف جغرافیہ نہیں،بلکہ انصاف کاسوال ہے۔اگرانڈیااس بورڈمیں شامل نہیں ہوتا،تب بھی اس کے اثرات سے وہ محفوظ نہیں رہے گا۔کیونکہ مغربی ایشیاکااستحکام انڈین توانائی،تارکینِ وطن اورتجارتی راستوں کیلئے ناگزیر ہے۔
بورڈآف پیسایک ایسے وقت میں وجودمیں آیاہے جب امریکااقوامِ متحدہ سے کنارہ کشی اختیارکررہاہے اوراقوامِ متحدہ کے متعدد اداروں سے دستبردارہورہاہے۔یہ ادارہ ایک یک قطبی عالمی نظام کومضبوط کرسکتاہے،جس کے برعکس بظاہرانڈیاکثیرقطبی دنیاکا داعی ہے لیکن اندرونِ خانہ امریکاکے مفادات کیلئے شب وروزکام بھی کررہاہے۔انڈین میڈیامیں یہ سوال اٹھایاگیاہے کہ کیارکن ممالک بورڈکے چیئرمین کے فیصلوں کوچیلنج کرسکیں گے؟یایہ ادارہ دعوت،سرمایہ اورذاتی اثرورسوخ پرمبنی ایک ماڈل ہوگا؟اگرنہیں،تو یہ ادارہ محض ایک
فردکی خواہشات کاعکس بن جائے گا۔بورڈآف پیس کے چارٹرمیں صدرٹرمپ کوجواختیارات دیے گئے ہیں،وہ کسی جمہوری ادارے سے مطابقت نہیں رکھتے۔ویٹو،تقرری، برطرفی ،تحلیل اورجانشینی،یہ سب اختیارات ادارے کونہیں،فردکومرکز بناتے ہیں،جس کی بناپرچیئرمین ٹرمپ مطلق العنان حیثیت کے طورپراپنے ہرحکم کولاگوکرنے کی پوزیشن میں ہے۔
بورڈآف پیس کے ایگزیکٹوبورڈمیں شامل افراداکثریاتوامریکی شہری ہیں یاٹرمپ کے قریبی سمجھے جاتے ہیں۔ایگزیکٹوبورڈکے ارکان کاپس منظراس بات کی شہادت دیتاہے کہ یہ ادارہ قابلیت سے زیادہ قربت پرقائم ہے۔یہ ایک ایسادائرہ ہے جہاں فیصلے عوام کیلئے نہیں،بلکہ طاقت کے تسلسل کیلئے ہوتے ہیں۔یہ ترکیب غیرجانبداری پرسنجیدہ سوالات اٹھاتی ہے۔
پاکستان نے بورڈ آف پیس میں شمولیت کوجنگ بندی،انسانی امداداورغزہ کی تعمیرِنوسے جوڑاہے۔یہ نیت اپنی جگہ قابلِ فہم ہے،مگر رکنیت کی مدت اورمالی شرائط کے ابہام نے کئی سوالات کوجنم دیاہے۔چارٹرکی مبہم شرائط یہ سوال اٹھاتی ہیں کہ کیانیک نیتی،غیر واضح نظام میں محفوظ رہ سکتی ہے؟کئی ممالک نے اسے اپنی اہمیت کے اعتراف یاامریکی دباکے تحت قبول کیاہے۔ماہرینِ خارجہ امورکے مطابق،بورڈکے چارٹرمیں یہ واضح نہیں کہ رکن ممالک کن شرائط کے پابندہوں گے،چارٹرکی تشریح کااختیارکس کے پاس ہوگااوراختلاف کی صورت میں کیاراستہ اختیارکیاجائے گا۔
یواے ای،سعودی عرب،اسرائیل اورترکی کی شمولیت انڈیاپردبابڑھاسکتی ہے،مگرتاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ دبامیں لیاگیافیصلہ اکثر پائیدارنہیں ہوتا۔انڈیاکیلئے سب سے بڑاخدشہ یہ ہے کہ اگربورڈآف پیس نے مستقبل میں کشمیرجیسے تنازعات کواپنے دائرے میں لیا، توانڈیاکی دیرینہ پالیسی تیسرے فریق کی عدم مداخلت خطرے میں پڑسکتی ہے۔یہ بورڈایک ایسے وقت میں وجودمیں آیاہے جب امریکانیٹوسے غیرمطمئن،اوراقوامِ متحدہ کے کئی اداروں سے دستبرداری خارجہ پالیسی کو سودے بازی میں بدل چکی ہے،یہ سب ایک سامراجی ذہنیت کی نشانیاں ہیں۔انڈیاکے معتبراخباردی ہندوکے مطابق،نہ اصول اورنہ عملی تقاضے اس بات کی اجازت دیتے ہیں کہ ایسافیصلہ عجلت میں کیاجائے،انڈیاکوخوف یاناراضگی کے ڈرسے فیصلہ نہیں کرناچاہیے۔
ادھرلیک شدہ چارٹرکے مطابق،بعدکی ترامیم میں غزہ کاذکرتک ختم کردیاگیااوربورڈکودیگرتنازعات تک پھیلانے کی تجویزشامل کی گئی جواقوامِ متحدہ کے متبادل کاتاثرمضبوط کرتی ہے۔پاکستان کااس بورڈمیں شامل ہوناانڈیاکیلئے ایک واضح اشارہ ہے،خصوصا اس صورت میں اگرمستقبل میں کشمیرجیسے تنازعات کوبھی اس فورم پرلایاگیا۔خصوصاکشمیرکے تناظر میں،جہاں ٹرمپ ثالثی کی خواہش ظاہرکرچکے ہیں۔یہاں سوال امن کانہیں،اطاعت کابنتاجارہاہے۔امن اگرسوال کرنے کی آزادی چھین لے،تووہ امن نہیں،ظلم ہے۔
حضرات!ٹرمپ کی جانب سے نیٹواوراقوامِ متحدہ کے اداروں سے دستبرداری عالمی نظام کوعدم استحکام سے دوچارکررہی ہے۔ قومیں فیصلوں سے پہچانی جاتی ہیں،اورادارے اپنے انجام سے۔بورڈ آف پیس بھی تاریخ کے کٹہرے میں کھڑاہوگا،جہاں اس سے پوچھا جائے گاکہ کیاتم نے امن کو مضبوط کیا،یاطاقت کو؟یہ پس منظربورڈ آف پیس کی نوعیت کو مزید حساس بنادیتاہے۔
ٹرمپ نے کینیڈاکی دعوت منسوخ کرنے کی وجہ واضح نہیں کی،مگریہ حقیقت سامنے ہے کہ مارک کارنی نے چندروزقبل امریکی زیرِ قیادت عالمی نظام پرتنقیدکی تھیاوریہی تنقید شاید ناپسندکی گئی۔کارنی کی دعوت کی منسوخی شایدڈیوس میں امریکی زیر قیادت نظام پرکی گئی ان کی تنقیدکاردعمل تھی۔یہ سوال آنے والی نسلیں ہم سے پوچھیں گی کہ جب امن کوطاقت کے تابع کیاجارہاتھا، تم کہاں کھڑے تھے؟مارک کارنی کی دعوت کی منسوخی اس بات کی علامت ہے کہ بورڈآف پیس اختلافِ رائے کوبرداشت کرنے کیلئے تیارنہیں۔یہ واقعہ ادارے کے مزاج کوعیاں کرتاہییہاں شمولیت اطاعت کے بغیرممکن نہیں۔یہ ادارہ ہم آوازچاہتاہے،ہم خیال نہیں۔یہ وقت ہے کہ دنیافیصلہ کرے،اصول کی سیاست یامصلحت کی سیاست۔دونوں ایک ساتھ نہیں چل سکتیں۔
چارٹرکے مطابق،ٹرمپ کوفیصلے ویٹوکرنے،ارکان کی تقرری وبرطرفی،حتی کہ پورے بورڈکوتحلیل کرنے اورجانشین نامزدکرنے کے اختیارات حاصل ہیںجوکسی بھی کثیرالقومی ادارے میں غیرمعمولی اورجمہوری ادارے کیلئے خطرناک مثال ہیں۔جہاں انصاف نہیں،وہاں امن محض وقفہ ہوتاہے۔بورڈآف پیس اگرانصاف کومرکزنہ بنائے،تووہ محض ایک وقفہ فراہم کرے گاپائیدارحل نہیں۔
یہ بورڈایک ایسے سامراجی وژن کے تحت قائم ہورہاہے جہاں طاقت،قبضہ اورغلبہ خارجہ پالیسی کے اوزاربن چکے ہیں اورامریکی خارجہ پالیسی میں طاقت،غلبے اوروسائل پر کنٹرول کاتصورنمایاں ہوچکاہے۔یہ صرف انڈیایاپاکستان کامسئلہ نہیں،یہ عالمی ضمیرکا امتحان ہے۔کیادنیا اداروں کوافرادکے تابع کردے گی،یاافرادکوقانون کے؟
بورڈآف پیسبظاہرامن کااستعارہ ہے،مگراس کے باطن میں طاقت کی وہی پرانی سیاست سانس لے رہی ہے جس نے دنیاکوبارہازخم دیے ہیں۔تاریخ ہمیں سکھاتی ہے کہ امن وہی پائیدارہوتاہے جوانصاف کی بنیاد پرقائم ہو،نہ کہ طاقت کے سائے میں۔اب سوال یہ ہے کہ تاریخ کس کے حق میں فیصلہ دے گی؟تاریخ ہمیں بارباریہ سبق دیتی ہے کہ وہ ادارے دیرپاہوتے ہیں جوقانون کے تابع ہوں،نہ کہ افرادکے۔انڈیاہویاپاکستان،گلوبل ساؤتھ ہویامغربی دنیایہ فیصلہ سب کوکرناہے کہ وہ امن کواصول کی بنیاد پرچاہتے ہیں یاطاقت کی نگرانی میں۔
آخرمیں،میں یہی عرض کروں گاکہ امن کوئی عطیہ نہیں،کوئی معاہدہ نہیں،کوئی بورڈنہیں،امن ایک اخلاقی عہد ہے۔اورجب تک یہ عہدانصاف،شفافیت اورجواب دہی کے بغیر قائم کیاجائے گا،تاریخ اسے قبول نہیں کرے گی۔امن کوئی ادارہ نہیں،کوئی بورڈ نہیں،کوئی قراردادنہیں،امن ایک اخلاقی عہدہے،جوانصاف،شفافیت اورجواب دہی کے بغیرقائم نہیں رہ سکتا۔اگربورڈآف پیس ان اصولوں کامحافظ بنے،توتاریخ اسے خوش آمدیدکہے گی؛اوراگریہ طاقت کے تسلسل کاذریعہ بنا،تو تاریخ اسے بھی اپنے کٹہرے میں کھڑاکرے گی۔ فیصلہ آج نہیں،مگرفیصلہ ہوگااوروہ فیصلہ تاریخ کرے گی۔