تحریر:آغا سفیرحسین کاظمی
آزادکشمیرہی نہیں بلکہ پورے ملک میں ’’پلٹنا ،جھپٹنا ،جھپٹ کر پلٹنا ،لہو گرم رکھنے کا ہے اک بہانہ ‘‘کی مصداق صورتحال ہے ۔اب اس صورتحال کے تناظرمیں اگر غور کیا جائے تو اسے کسی ایک حکومت کے کھاتے میں نہیں ڈالا جاسکتا ۔کیونکہ طویل عرصہ تک ’’کشمیریوں اور پاکستان ‘‘کیساتھ کئے گئے مکرو فریب کا نتیجہ ہے کہ ایک آزاداسمبلی موجود ،منتخب عوامی نمائندے حکومت و اپوزیشن میں بیٹھے ہیں ،وہ تمام ادارے قائم ہیں جو کسی بھی آزاد ریاست کی ضرورت ہوسکتے ہیں ۔لیکن اسکے باوجود ریاست کے شہریوں کو اپنے مفادات کی خاطر بے چینی و اضطراب کا سامنا ہے ۔اور ان میں ایک ردعمل ہے ۔جسے کوئی بھی ’’بطور ہتھیار‘‘ استعمال کرسکتا ہے ۔اور اسوقت یہی ہورہا ہے ۔یہاں کسی کو الزام دینے کے بجائے دیکھنا ہوگا کہ موجودہ مرحلہ میں ’’پیس فل اسمبلی اور پبلک آرڈر آرڈیننس‘‘ کو لیکر ردعمل دیا جارہا ہے ۔وہ کیا ہے ۔؎؟؟اور کیا یہ اقدام صرف آزادکشمیرمیں ہوا ہے ؟اور کسی کو دبانا مقصود ہے؟؟؟
قارئن محترم ! ’’پیس فل اسمبلی اور پبلک آرڈر آرڈیننس‘‘ عوامی اجتماعات، مظاہروں اور اجتماعات کو منظم کرنے کے لیے بنائے گئے قوانین اور ضوابط کا مجموعہ ہوتا ہے۔ ان قوانین کا مقصد عوامی اجتماعات میں امن و امان برقرار رکھنا اور کسی بھی قسم کے انتشار یا بدامنی کو روکنا ہوتا ہے۔ اس حوالے سے عموماََ اس طرز کے اقدامات کئے جاتے ہیں ۔اور یہ کوئی انہونی بات نہیں ہے ۔
٭کئی ممالک میں کسی بڑے عوامی اجتماع یا ریلی کے انعقاد سے قبل حکومت یا متعلقہ حکام سے اجازت حاصل کرنا ضروری ہوتا ہے۔ اس کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ انتظامیہ اس اجتماع کی نگرانی کر سکے اور شرکاء کے لیے حفاظتی انتظامات کر سکے۔ویسے بھی اب تک کئی مواقع پردرجنوں افراد نے امن و امان کا مسئلہ پیدا کرکے ’’سوشل میڈیا‘‘کے ذریعے اہداف حاصل کرنے کی کوشش میں عوامی صفوں میں تشویش پیدا کرنے چکے ۔جس سے ریاست پر اعتماد مجروع ہوسکتا ہے ۔چنانچہ باور کیا جاتا ہے کہ لوگوں سے احتجاج کا حق متاثرنہ ہوا اور وہ اپنے جائز موقف پر پُرامن احتجاج کرسکیں ۔اس کیلئے ضروری ہے کہ ماھول بھی فراہم ہو ۔اب یہ ماحول ریاست فراہم کرنے کیلئے ’’پیس فل اسمبلی اور پبلک آرڈر آرڈیننس‘‘ لائی ہے تو اس میں کیا مضائقہ ہے ؟
٭بعض آرڈیننس یا قوانین میں اجتماعات کے لیے مخصوص جگہیں مختص کی جاتی ہیں تاکہ یہ اجتماعات عوام کے روزمرہ کے معمولات میں مداخلت نہ کریں۔
٭عوامی اجتماعات میں پولیس یا قانون نافذ کرنے والے ادارے موجود رہتے ہیں تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے کی صورت میں فوری کارروائی کی جا سکے۔
٭اگر کسی اجتماع میں شریک افراد کے عمل سے پبلک آرڈر کی خلاف ورزی ہو یا امن و امان کو خطرہ ہو تو حکام کو قانونی کارروائی کا حق ہوتا ہے۔ اس میں اجتماع کو ختم کرنا یا پرتشدد عناصر کو گرفتار کرنا شامل ہوتا ہے۔
٭ اگرچہ عوامی اجتماعات کا مقصد آزادی اظہار ہوتا ہے، لیکن یہ قوانین اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ اس آزادی کے استعمال میں دوسرے افراد یا املاک کو نقصان نہ پہنچے۔
٭آرڈیننس کے تحت اگر کسی فرد یا گروہ کی طرف سے پبلک آرڈر کی خلاف ورزی کی جاتی ہے تو انہیں قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جس میں جرمانہ، قید یا دونوں سزائیں ہو سکتی ہیں۔
پاکستان میں پبلک آرڈر آرڈیننس جیسے قوانین عوامی نظم و ضبط قائم رکھنے میں مدد فراہم کرتے ہیں، جبکہ شرکاء کے بنیادی حقوق جیسے کہ آزادی اظہار کا بھی تحفظ کرتے ہیں۔
تاہم تقسیم در تقسیم کی سیاست میں عمومی طورپرایسے قاعدے و ضابطے ’’ٹھنڈے پیٹوں ‘‘برداشت نہیں کئے جاتے ۔جسکی وجہ سے سیاسی قوتوں کی طرف سے عام طور پر سیاسی تحریک یا حکومت کی پالیسیوں اور فیصلوں کے خلاف ردعمل کے طور پر سامنے آتی ہے۔ یہ مخالفت مختلف عوامل کی بنیاد پر ہوتی ہے اور اس کا مقصد عوامی اور سماجی تبدیلی لانا، حکومتی پالیسیوں کو تبدیل کرانا، یا کسی سیاسی جماعت یا رہنما کے خلاف احتجاج کرنا ہوتا ہے۔اب تک ہمارے ہاں یہی ہوتا آرہا ہے ۔ اس میں عام طور پر مندرجہ ذیل عوامل شامل ہوتے ہیں:
٭جب عوام کسی حکومتی فیصلے یا پالیسی کو ناپسند کرتے ہیں اور اس سے متاثر ہو رہے ہوتے ہیں، تو عوامی سطح پر مخالفت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ عوامی مظاہرے، ریلیاں، اور احتجاجات اس کا حصہ ہیں۔
٭اگر عوام کو لگتا ہے کہ حکومت بدعنوانی میں ملوث ہے یا اس کی پالیسیوں میں خامیاں ہیں، تو وہ ان کے خلاف اٹھ کھڑے ہوتے ہیں۔
٭بعض اوقات سیاسی قوتوں کی مخالفت اس وقت بھی ہوتی ہے جب عوام یا اپوزیشن کو لگتا ہے کہ عدلیہ یا انصاف کے ادارے آزاد نہیں ہیں اور حکومت انہیں دبانے کی کوشش کر رہی ہے۔
٭مختلف مذہبی یا سماجی گروہ بھی اپنی مخصوص نظریات اور عقائد کی بنیاد پر حکومت کی پالیسیوں کے خلاف ہو سکتے ہیں، جو سیاسی مخالفت میں بدل جاتی ہے۔
٭ آزاد میڈیا اور سوشل میڈیا کے ذریعے عوامی شعور میں اضافے سے بھی عوامی مخالفت کو بڑھاوا ملتا ہے۔ میڈیا کے ذریعے حکومت کے غلط اقدامات کو سامنے لانا اور عوامی رائے کو آگاہ کرنا اس مخالفت کو مزید تقویت دیتا ہے۔
٭ بعض اوقات عالمی قوتیں یا بین الاقوامی تنظیمیں بھی کسی ملک کی سیاسی پالیسیوں کے خلاف ہوتی ہیں، اور ایسی مخالفت اندرون ملک سیاسی قوتوں کو بھی متاثر کرتی ہے۔
٭ جب کسی ملک میں جمہوری آزادیوں کو محدود کیا جاتا ہے، تو اس سے عوام یا اپوزیشن جماعتیں حکومت کے خلاف متحد ہوتی ہیں۔
سیاسی مخالفت جمہوری معاشروں میں تبدیلی لانے کا ایک اہم ذریعہ ہے۔ اس کے ذریعے عوام اپنی حکومت کو جوابدہ بنا سکتے ہیں اور تبدیلی کے لیے آواز بلند کر سکتے ہیں۔
احتجاج اور سوشل میڈیا پر پروپیگنڈہ کا حل نکالنے کے لیے ایک متوازن اور مؤثر حکمت عملی اپنانا ضروری ہے تاکہ عوامی مسائل حل کیے جا سکیں اور افواہوں یا غیرضروری تنازعات کو کم کیا جا سکے۔ درج ذیل اقدامات اس سلسلے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں:
٭عوامی مطالبات کو سمجھنے اور ان پر سنجیدگی سے غور کرنے کے لیے حکومت اور حکام کو فوری اقدامات کرنے چاہئیں۔ایک شفاف اور بروقت مذاکرات کا عمل شروع کیا جائے تاکہ احتجاج کرنے والے مطمئن ہوں۔
٭عوامی اور اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے مسائل حل کیے جائیں۔مظاہرین کے نمائندوں سے ملاقاتیں کرکے ان کے خدشات اور مطالبات پر بات کی جائے۔
پرامن ماحول قائم کریں:قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ہدایت دی جائے کہ وہ مظاہرین کے ساتھ نرم رویہ اپنائیں تاکہ پرتشدد واقعات نہ ہوں۔امن و امان کی خلاف ورزی کرنے والوں اور پرتشدد عناصر کو الگ کیا جائے۔
٭حکومت اور متعلقہ ادارے درست اور مصدقہ معلومات کو عوام تک پہنچانے کے لیے فعال کردار ادا کریں۔سرکاری بیانات، ویب سائٹس، اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ذریعے فوری ردعمل دیا جائے تاکہ افواہیں ختم ہوں۔
٭جھوٹی خبروں اور نفرت انگیز مواد پھیلانے والوں کے خلاف سخت سائبر قوانین نافذ کیے جائیں۔ایسے افراد اور گروہوں پر پابندیاں لگائی جائیں جو منظم طریقے سے پروپیگنڈہ کر رہے ہوں۔عوامی شعور اجاگر کریں:عوام کو آگاہی فراہم کی جائے کہ وہ معلومات کی تصدیق کیے بغیر کسی خبر پر یقین نہ کریں۔تعلیمی اور میڈیا مہمات کے ذریعے سوشل میڈیا کے مثبت اور منفی پہلوؤں کے بارے میں شعور پیدا کیا جائے۔
٭حکومت ایک مضبوط اور تربیت یافتہ ڈیجیٹل میڈیا ٹیم تشکیل دے جو پروپیگنڈے کے خلاف فوری اور مؤثر جواب دے سکے۔سوشل میڈیا پر مثبت بیانیہ قائم کرنے کے لیے سرگرم رہیں۔
٭ حکومت کو چاہیے کہ عوامی مطالبات اور اپنی پالیسیوں کے درمیان توازن قائم کرے۔سوشل میڈیا کو اظہارِ رائے کی آزادی کا ذریعہ بننے دیا جائے، لیکن اس کا غلط استعمال روکنے کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں۔احتجاج اور سوشل میڈیا پروپیگنڈہ کے مسائل کا حل ایک شفاف، عوامی رابطے پر مبنی اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے نکالا جا سکتا ہے۔ عوامی اعتماد حاصل کرکے اور جھوٹی معلومات کے سدباب کے لیے مؤثر حکمت عملی اپنانا ہی دیرپا حل ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ گروہی ،لسانی ،علاقائی ،سیاسی ودیگرتعصبات و تنگ نظری کے اظہار کیلئے منفی رحجان سے گریز کیا جائے ۔کیونکہ یہ سوال ہنوز موجود ہے کہ 5 اگست2019کے بعد تو ایسا کوئی ردعمل نہیں آیا جس سے انڈیا کو خبردار کیا جاسکتا ،عالمی سطع پر’’کشمیرایشو‘‘پرآزادکشمیرکے مکینوں کی جانب سے توجہ حاصل کی جاسکتی ۔اور اُس پار مقبوضہ وادی میں طویل جدوجہد آزادی میں اپنا مال جانیں خرچ کرنیوالوں تک بھی اس خطہ سے اچھا پیغام جاتا ۔اُنھیں معلوم ہوتا کہ ہاں واقعی ہی آزادکشمیر ،بیس کیمپ ہے ۔۔۔۔تب تو یہاں سکوت ہی سکوت تھا ،ماسوائے توقیرگیلانی کی جماعت کے ۔جنہوں نے پھر پندرہ ہزار کے لگ بھگ لوگوں کیساتھ چکوٹھی کی جانب پُرامن مارچ تو کیا ۔اب اگر عوامی مسائل کے لئے احتجاج شروع ہوئے ہیں تو کیا یہ مسائل اب اچانک پیدا ہوئے ؟؟اگر پہلے سے تھے ۔تو ذمہ دار کوئی ایک حکمران تو نہیں ہوسکتا ۔چوہدری انوارالحق پرہی طنز و تنقید کیوں ؟؟مطالبات بھی بتدریج بڑھتے جارہے ہیں ۔تو کیا موجودہ نظام کی جگہ کوئی اور تجربہ ہونا چاہیے؟؟؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔