عبدالرزاق برق
دنیا کی دفاعی لحاظ سے طاقتوراتحاد نیٹواوراس کے مشرق وسطیٰ میں ایک اہم اتحادی ملک ترکیئے نے پہلی بارمشرق وسطی کی خطے میں موجودملک شام میں پاکستان کی طرح کابل میں چائے کی پیالی کو ہاتھ میں رکھ کرچائے کی پیالی کے نام سے نئی سیاست شروع کردی یہ نئی سیاست ترکی کے وزیرخارجہ ہاکان فیدان اوراس کے خفیہ ادارے کے سربراہ ابراھیم گالین کے طرف سے منظر عوام کے سامنے اس وقت نظرآنے لگا جب وہ سقوط دمشق کے پانچ روزبعد 11دسمبردمشق کو پہنچے ان دونوں نے بظاہرشام کے قاسمون پہاڑ میں چائے کی پیالے ہاتھوں میں رکھ کردنیا کویہ دیکھایاگیا کہ وہ توصرف پہاڑپرچائے پینے کیلئے آئے ہیں لیکن ترکیئے کے ان دونوں شخصیات کی شام کے پہاڑ پرچائے پینے کی یہ۔منظربہت سے لوگوں کی توجہ کا مرکز بن گئے ہیں اہم سوال یہ ہے کیا ترکیہ کے خفیہ ادارے کے سربراہ اوروزیرخارجہ وہ شام کے پہاڑ پرچائے پینے کیلئے گئے تھے ؟ یا چائے کے نام پرکسی اورمقصدکو پوراکرنے کے لئے گئے تھے توکیا جس مقصدکے لئے وہ دمشق گئے تھے وہ اس میں کامیاب ہوں گے یاناکام ؟ ایک سوال یہ بھی بنتا ہیے کہ ترکی کی شام میں اتنی دلچسپی کیوں ہیے؟ اورترکی نے شام کے عبوری حکومت کو فوجی تربیت فراہم کرنے کی پیشکش بھی کی ہیے ترکی کے دونوں شخصیات دمشق جانے سے قبل پاکستان کے خفیہ ایجنسی کے سابق سربراہ فیض حمید15اگست 2021کوجب سقوط کابل ہواتھا اورکابل کو افغان طالبان کے قبضے میں ایک سپرپاورملک امریکہ کے ساتھ دوحہ میں ہونے والے معاہدہ کرنے کے تحت دیاگیاتھا پاکستان کے طاقتورخفیہ ادارے کے سابق سربراہ فیض حمیدکو کابل میں ایک تصویرمیں دیکھے گئے تھے اوروہ کابل کے پائیوسٹارہوٹل کے لابی میں کھڑے ہیں اس کے ہاتھ میں چائے کاکپ تھا اوروہ مسکراتے ہوئے صحافیوں کے سوالات کامختصرجواب انگریزی زبان میں کہاتھا Don،tworry every thing will یعنی پریشان نہ ہو ہرشے ٹھیک ہوجائے گی فیض حمیدکے اس مختصر جملے کے تین سال ہوگئے کہ ان کی یہ توقع پوری نہیں ہوسکی ادھرکابل میں موجود طالبان نے اس چائے والی تصویر کو وائیرل ہوتے ہوئے جب دیکھا تھا تواس وقت بولے ھم ہرمہمان کوچائے کا ناشتہ کرواتے ہیں لیکن اگرمہمان اس ناشتے کوغلط رنگ دے توایک گھونٹ کابہت بڑاقیمت اداکرنا پڑے گا لیکن دوسری طرف آج کابل پرجن قوتوں نے افغان طالبان کوقبضہ کرنے دیاگیا بقول پاکستان کے آج کل افغان طالبان اس لئے پاکستان کے دشمن بن گئے کہ افغان طالبان پاکستان کے نمبرون دشمن ttp کو وہاں افغانستان میں پناہ دی ہوئی ہیں اوروہ وہاں سے پاکستان کے مظلوم اورنہتے لوگوں کو اسلام کے نام سے مارتے ہیں اورپاکستان حکومت کے لئے سب سے بڑادرسرد بھی بن گئی ہیے اسی طرح ترکیئے کے وزیرخارجہ اوراس کے خفیہ ایجنسی کے سربراہ شام کے پہاڑ پر چائے پینے کے بہانے نہیں گئے تھے بلکہ وہ شام میں مبینہ طورپران متحارف گروہوں سے خاص طور پرملاقات کی جنہیں ترکئیے کی پشت پنائی حاصل ہیے ترکیِئے کیخفیہ ایجنسی کے سربراہ کے اس دورے کے بارے میں کہاجارہا ہیے کہ وہ نئے شامی باغیوں اورقابض فورسزhtsیاحیات تحریرالشام سے ملکر دراصل شام کے سرحدی علاقوں میں ترکیئے کے خلاف بروِئے کارکردوں کے مسلح گروہوں sdf کودبانے کاپروگرام بنارہیے ہیں کیونکہ امریکہ کے نیٹوکے اتحادی ترکیہ۔شام میں کردقوتوں کے ابھرنے کوبراہ راست ایک خطرہ سمجھتے ہییترکیہ کے مطابق ypg ممنوعہ دہشت گردگروپ کردستان ورکرزpkk کی شاخ ہیے جوکہ ترکیہ میں ترکی کے خلاف برسرپیکارہیے pkk کے ساتھ چالیس سالہ جنگ میں۔چالیس۔ہزارہلاکتیں ہوئی ہیں لیکن سوال یہ پیداہوتا کہ کیا کہ ترکیہ مسلح کردوں کودبانے میں کامیاب ہوں گے یاناکام ہوں گے ؟کیونکہ ترکیہ کومسلح کردوں کودبانے میں سب سے بڑی مشکل یہ درپیش ہیے کہ۔sdfیاکردوں کو دنیا کی سپرپاورملک اورنیٹو کے اہم اتحادی امریکہ کی حمایت حاصل ہیے اورکرد مسلح گروپیں امریکہ کااتحادی بھی ہیے امریکہ نے sdf سے مل کر شام میں داعش اورالقاعدہ کے خلاف کامیاب جنگ لڑی ہیے اب سقوط دمشق کے بعدsdf کاحمایت کرنا یامخالفت کرنا امریکہ کے لئے مشکل ہورہاہیے سرئین ڈیموکرٹیک فورسزsdfکوامریکہ کے پینٹاگان نے مسلح کرنے کااعلان کیاتھا ترکی نے کئی باراتحادی افواج کی جانب سے سریئن ڈیموکرٹیک فورس کی مددکی مخالفت کی ہیے کیونکہ ایس ڈی ایف کی اکثریت کردملیشاypg کے جنگجوں پرمشتمل ہیے ترکی کردملیشاypg کوکالعدم جماعت کردستان ورکرزپارٹی کاحصہ سمجھتاہیے جوگزشتہ تین دہائیوں سے ترکی میں کردعلاقوں کی خودمختاری کے لئے تحریک چلارہی ہیے البتہ واشنگٹن کا کہناہیے کہ کردملیشاypg داعش سے لڑائی کے لئے بہت اہم ہیے ایس ڈی ایف میں تیس ہزارافرادشامل ہیں جن میں نصف کرداورباقی عرب فوجی ہیے جسکا کا مقصدشام کے ترکی کے ساتھ شمالی سرحداورمشرق عراقی سرحدکوکنٹرول کرنا ہیے امریکہ کے سابق صدربارک اوبامہ کی قیادت میں اس وقت کی امریکی انتظامیہ نے کردوں سے وعدہ کیاتھا کہ داعش کے خاتمے کے بعدشمال مشرقی شام میں ان کوایک خودمختار علاقہ عطاکیاجائے گا اس سے قبل ان کوویسا ہی علاقہ امریکی مددسے شمالی عراق میں کردستان ریجنل گورنمنٹ کے نام سے دیاگیا تھا کردوں کے خطریکی سدباب کرنے کے لئے ترک صدرطیب اردگان نے دواہم آپریشن کرکے اپنی سرحدپربفرزون قائم کروائے 2016میں آپریشن فرات شیڈ نے داعش کونشانہ بنایا گیالیکن فرات کے مغرب میں کردپیش قدمی کوبھی روکا2019 میں آپریشن پیس سپرنگ نے براہ راست کردفورسزکوکمزورکرنے کا ھدف بنایا وہاں ایک علاقے پرقبضہ کے بعدفوجی تعنیات کئے کردوں کوروکنے کے لئے ترکیہ نے شامی آپوزیشن ایس این اے کی بھی اعلانیہ مددکرکے انہیں ڈرونزجیٹ فراہم۔کرائے جسکی وجہ سے آپوزیشن نے کردوں سے دواہم۔شہرحمل رفعت قبح ہتھالئے بتایا جاتا ہیے کہ ان علاقوں میں قبائلی عرب خودمختارکردانتظامیہ سے منحرف ہوگئے انہوں نے دمشق کی انتظامیہ۔کے ساتھ الحاق کرکے ایس این اے سے مددمانگی کردعلاقے میں متعددامریکی۔فوجی آڈے ہیں بائیڈن انتظامیہ نے۔شام میں اپنے اتحادیوں کے ساتھ کھڑی رہیے گی کیونکہ کرداس جیل کی بھی حفاظت کررہیے ہیں جس میں داعش کے جنگجوں قیدی ہیں ترکی اس وقت شام کی صورتحال میں سب سے زیادہ دلچسپی لیتاہوانظرآرہاہیے اورثبوت صدرطیب اردگان سمیت سنئیرحکام کی حالیہ بیانات اور شام کے دورے ہیں گزشتہ روزصدراردغان نے کہاتھا کہ شامی باغی جلدہی دمشق پرقبضہ کریں گے خودترکی کے وزیرخارجہ ھاکان فیدان نے۔کہاتھا کہ شام کی صورتحال کوکسی بھی بیرونی دخل اندازی کی نگاہ سے دیکھنا ایک غلطی ہوگی شام میں برسرپیکارباغی گروہوں میں ایسے گروہ بھی شامل ہیے جن کی حمایت ترکی۔کررہاہیے ماضی میں صدراردغان شامی صدربشارالاسد کے لئے مجرم اوردہشت گردجیسے الفاظ استعمال کرتے رہے ہیں ان کاکہنا تھا کہ ماضی میں ہم نے اسدکودعوت دی تھی کہ آئیں ساتھ مل۔کرشام
کامستقبل طے کرتے ہیں لیکن بدقسمتی سے انہوں نے ہمیں کوئی۔مثبت ردعمل نہیں دیا ترکی صدر کے بیانات سے۔ایسا لگتا تھا کہ وہ۔شام کے سابق صدربشارالاسد کی۔حکومت کوکمزورکرنا چاہتاتھا ترکی شام کے جن باغیوں کی۔حمایت کرتے ہیں ان میں شامی باغیوں کے اتحادسرین نیشنل آرمی جیش اسلام سلطان مرادحمزہ اورسیلمان شاہ گروپس بھی شامل ہیں اورترکی کا شامی باغیوں سے مضبوط تعلقات ہیں ترکی عسکری مہمات کازمہ داربھی ہییترکی نے حلب اورادلب کوگھراہواتھا اوروہی مسلح گروہوں کوتربیت دینے اوران کے شہروں پر قبضہ کازمہ۔دارہیے اورمخالف گروہوں کوہتھیاراوراحکامات ترکی سے ہی موصول ہوتے رہیے شام باغی قوتوں کواقتدارملنے سے ترکی کو بھی فائدہ ہوگا خطے میں ان کی اہمیت بڑھے گی اورانہیں ایران سے لاحق خطرات بھی کم ہوجائیں گے کیونکہ۔ترکی کولاحق خدشات کی اصل وجہ ایران ہی ہیے ترکیہ کے وزیرخارجہ اوراس کے خفیہ۔ادارے کے سربراہ شام کے پہاڑ میں چائے پینے کے بہانے سے گئے تھے لیکن وہاں پرانہوں نے شام کے دارلحکومت دمشق میں 2011سے بنداپناسفارت خانہ کھولنے کافیصلہ کیا ترکی نے 26مارچ 2012 کودمشق میں اپنی سفارتی سرگرمیاں معطل کردی تھیں اس وقت شام اورترکی کے تعلقات کشیدہ ہوگئے تھے کیونکہ ترکی نے شامی اپوزیشن کے حمایت کی اورصدربشارالاسدکی حکومت کے خلاف سخت موقف اختیارکیاتھا ترکی کاسفارت خانہ دمشق میں کھولنے سے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں بہتری کی علامت قرادیاجارہاہیے مورطانیہ میں سفیربرہان کھوراوغلو کودمشق میں عبوری ناظم الامورمقررکیا گیا ہیے یہ اقدام شام اورترکی کے۔درمیان تعلقات کی۔بحالی کی طرف ایک اہم قدم سمجھا جارہاہیے یہ سفارتی پیش رفت خطے میں استحکام اورتعاون کی کوششوں کاحصہ ہیے اگرچہ استنبول میں شام کاقونصل خانہ اپنی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے تھے مگراب دمشق میں ترکی کے سفارت خانہ۔کھولنے سے دونوں ممالک کے درمیان سیاسی اوراقتصادی تعلقات بہترہونے کی توقع ہیے اس اقدام کوخطے میں کشیدگی کوکم کرنے کی کوششوں کاحصہ۔سمجھا جارہاہیے لیکن جہاں تک کردوں کودبانے کی بات ہیے انہیں اس لئے دبایا نہیں جاسکتا کہ کردملیشاکو امریکہ کی۔حمایت۔حاصل ہیے امریکہ جیسے سپرپاورملک سے کون لڑسکتا ہیے؟ کردقوم جوکہ ترکی اس خلاف کے خلاف لڑ رہیے ہیں یہ کردقوم 50ملین سے زائدافرادپرمشتمل ہییکردایک ایسا نسل اورگروہ ہیے جن کی اپنی کوئی ریاست نہیں ہیے تاریخی شواہدکے مطابق ترکوں کے برعکس کردمشرق وسطی کے مقامی لوگ ہیں ترک وسطی ایشیا اوردیگرخطوں سے ہجرت کرکے اس علاقے میں آبسے ہیں کردایک وسیع علاقے میں آبادہیں جس میں ایران آزربائجان آرمینیا جارجیا اردن بلقان اورروس شامل ہیں مگران کی نمایاں موجودگی ترکیہ ایران عراق اورشام میں ہی ہیے اس قوم کی تاریخ بغاوتوں دھوکوں جنگ وجدل اورمختصرکامیابیوں سے بھری پڑی ہیے کردوں نے تاریخ میں کئی آزادریاستیں قائم کی ہیں کردقوم نے قابل ذکرشخصیات پیداکی ہیں جیسے صلاح الدین ایوبی جہنوں صلیبوں کوشکست دیکر1187 میں یروشلم کوفتح کرلیاتھا گوکہ کرد90فیصدسنی مسلمان ہیں مگرعلوی کردبھی موجود ہیں مسلمانوں میں زیادہ شافعی مسلک سے تعلق رکھتے ہیں جبکہ ترکوں کی۔غالب اکثریت حنفی مسلک سے منسلک ہیے عرب ممالک کے ساتھ ان کی رسہ کشی اس وقت شروع ہوئی جب ان ممالک میں عرب قوم۔پرستی کے نام پرسوشلسٹ بعث پارٹی نے غلبہ حاصل کرلیا اوراس طرح ترکیہ میں جب سخت گیرسیکولرازم نے مذہبی پابندیاں عائدکیئں توانہوں نے اس کے خلاف بغاوت کی جسکی وجہ سے 1930 کی دہائی میں دوباران کاقتل عام ہوا کردپٹھانوں کی۔طرح مزہبی مانے جاتے ہیں