ملائیشیا کی ریاست ترنگگانو میں نئے قانون کے تحت مسلمان مردوں کو بغیر جائز وجہ کے جمعہ کی نماز چھوڑنے پر جرم قرار دیا گیا ہے۔ قانون کے مطابق سزا میں:
دو سال قید،
3 ہزار رنگٹ (تقریباً 2 لاکھ روپے پاکستانی) جرمانہ،
یا دونوں شامل ہو سکتے ہیں۔
نئے قانون کے تحت ایک بار بھی نماز جمعہ چھوڑنا جرم تصور کیا جائے گا، جبکہ پہلے صرف تین جمعے مسلسل چھوڑنے پر سزا دی جاتی تھی۔ یہ قانون شریعت کرمنل آفسنسز ایکٹ کے تحت نافذ کیا گیا ہے اور اس پر عملدرآمد عوامی شکایات یا گشت کے ذریعے ممکن ہوگا۔ریاستی وزیر محمد خلیل عبدالہادی نے کہا کہ یہ اقدام مسلمانوں میں فرمانبرداری اور دینی شعور اجاگر کرنے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔ حکومت مساجد پر آگاہی بینرز بھی آویزاں کرے گی۔
ترنگگانو میں قدامت پسند اسلامی پارٹی کے زیر انتظام یہ قانون نافذ کیا گیا ہے، جو ملائیشیا کی پارلیمنٹ کی سب سے بڑی جماعت اور چار ریاستوں میں برسر اقتدار ہے۔ یہ جماعت اسلامی قوانین کو سخت تر بنانے کی حامی ہے اور ماضی میں حدود قوانین (چوری پر ہاتھ کاٹنا، زنا پر سنگسار) کی تجویز بھی دے چکی ہے۔