ماں کی دوسری شادی بچے کی حوالگی سے محرومی کا سبب نہیں بن سکتی: ہائی کورٹ

ماں کی دوسری شادی بچے کی حوالگی سے محرومی کا سبب نہیں بن سکتی: ہائی کورٹ

لاہور: لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس احسن رضا کاظمی نے بچوں کی حوالگی کے ایک اہم کیس میں ماں کو دوسری شادی کے باوجود بچے کی کسٹڈی کا حقدار قرار دے دیا۔

یہ فیصلہ نازیہ بی بی کی جانب سے دائر کردہ درخواست پر سنایا گیا، جس پر عدالت نے چار صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کیا۔

پس منظر:
نازیہ بی بی اور ان کے سابق شوہر کے درمیان 2016 میں علیحدگی ہوئی۔بچہ تب سے نازیہ بی بی کے ساتھ رہ رہا تھا۔والد نے 2022 میں بچے کی حوالگی کے لیے عدالت میں دعویٰ دائر کیا، جس میں ٹرائل کورٹ نے دوسری شادی کو بنیاد بناتے ہوئے بچہ والد کے حوالے کرنے کا فیصلہ دیا تھا۔
ہائی کورٹ کا فیصلہ:
جسٹس احسن رضا کاظمی نے ٹرائل کورٹ کے فیصلے کو کالعدم قرار دے دیا اور کہا کہ:بچوں کی حوالگی کے معاملات میں بنیادی اصول بچوں کی فلاح و بہبود ہوتا ہے۔ماں کو صرف اس بنیاد پر بچے کی کسٹڈی سے محروم کرنا کہ اس نے دوسری شادی کر لی، درست رویہ نہیں ہے۔یہ کوئی حتمی اصول نہیں کہ دوسری شادی کرنے والی ماں بچوں کی حوالگی سے محروم ہو جائے گی۔عدالت حالات و واقعات کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلہ کرتی ہے۔
عدالت کی مشاہدات:
بچہ ابتدا سے ماں کے ساتھ رہ رہا ہے۔صرف دوسری شادی کو وجہ بنا کر کسٹڈی واپس لینا بچے کی نفسیات پر برا اثر ڈال سکتا ہے۔والد یہ بتانے میں ناکام رہا کہ اس نے چھ سال تک دعویٰ کیوں نہیں کیا۔امکان ہے کہ والد نے بچوں کے خرچے سے بچنے کیلئے حوالگی کا دعویٰ دائر کیا۔ٹرائل کورٹ نے اہم نکات کو نظر انداز کر کے فیصلہ دیا۔
 نتیجہ:
عدالت نے ماں کے حق میں فیصلہ دیتے ہوئے کہا کہ بچے کی بہتری، جذباتی استحکام اور نفسیاتی نشوونما ماں کے پاس رہ کر ہی ممکن ہے، اور ٹرائل کورٹ کا فیصلہ ماں سے زیادتی کے مترادف ہے۔