شمالی کوریا کا جنوبی سرحد پر فوجی تعیناتی بڑھانے کا عندیہ

شمالی کوریا کا جنوبی سرحد پر فوجی تعیناتی بڑھانے کا عندیہ

شمالی کوریا نے جنوبی کوریا کے ساتھ سرحدی علاقے میں مزید فوجی اور ٹیکٹیکل ہتھیار تعینات کرنے کا عندیہ دیا ہے، جس کے بعد جزیرہ نما کوریا میں سکیورٹی صورتِ حال اور دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کے حوالے سے خدشات بڑھ گئے ہیں۔

شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن کی بہن کم یو جونگ نے کہا ہے کہ پیانگ یانگ جنوبی کوریا کی سرحد کے قریب اپنی ٹیکٹیکل اسٹرائیک صلاحیتوں میں اضافہ کرنے اور جنوبی کوریا کی جانب لاؤڈ اسپیکر نشریات دوبارہ شروع کرنے کے امکانات پر غور کر رہا ہے۔ان بیانات کو دونوں ممالک کے درمیان جاری تناؤ کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے، کیونکہ سرحدی علاقے میں فوجی سرگرمیوں، دفاعی رکاوٹوں اور مبینہ سرحدی خلاف ورزیوں کے معاملات پہلے ہی اختلافات کا سبب بنے ہوئے ہیں۔

سرحد پر فوجیوں کی تعداد واضح نہیں
سرحد پر شمالی کوریا کی جانب سے مستقل طور پر تعینات فوجیوں کی درست تعداد سرکاری طور پر ظاہر نہیں کی گئی۔ جنوبی کوریا کے مطابق، شمالی کوریا نے رواں سال سرحدی علاقے میں بارودی سرنگیں بچھانے، باڑ لگانے اور دیگر دفاعی رکاوٹیں تعمیر کرنے کے لیے روزانہ تقریباً 7 ہزار اہلکاروں تک کو متحرک کیا تھا۔تاہم، یہ تعداد سرحد پر مستقل تعینات فوجیوں کی نہیں بلکہ سرحدی تعمیراتی اور عسکری سرگرمیوں میں حصہ لینے والے اہلکاروں کی ہے۔ اس لیے اسے شمالی کوریا کی مجموعی سرحدی فوجی تعیناتی کا عدد قرار دینا درست نہیں ہوگا۔

جنوبی کوریا کا سخت ردعمل
جنوبی کوریا نے شمالی کوریا کی جانب سے مزید ہتھیار تعینات کرنے کے عندیے پر سخت ردعمل دینے کا اعلان کیا ہے۔ سیول کے مطابق، رواں سال شمالی کوریائی اہلکاروں کی جانب سے دونوں ممالک کے درمیان فوجی حدِ فاصل عبور کرنے کے تقریباً 50 واقعات بھی رپورٹ ہوئے ہیں۔ایسے واقعات سرحدی علاقے میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں، خصوصاً اس وقت جب دونوں ممالک ایک دوسرے کی عسکری سرگرمیوں کو سکیورٹی خطرے کے طور پر دیکھتے ہیں۔

ڈی ایم زیڈ میں بڑھتی سرگرمیاں
دونوں کوریا کے درمیان غیر فوجی علاقہ (ڈی ایم زیڈ) طویل عرصے سے حساس سرحدی خطہ چلا آ رہا ہے۔ جنوبی کوریا کا کہنا ہے کہ شمالی کوریا نے اس علاقے کے قریب بارودی سرنگیں بچھانے اور دفاعی رکاوٹیں تعمیر کرنے کا سلسلہ تیز کیا ہے۔دوسری جانب، پیانگ یانگ جنوبی کوریا پر اشتعال انگیزی کے الزامات عائد کرتا ہے۔ ایسے میں اضافی ٹیکٹیکل ہتھیاروں کی ممکنہ تعیناتی اور لاؤڈ اسپیکر نشریات کی بحالی سے دونوں ممالک کے درمیان محاذ آرائی میں مزید اضافہ ہونے کا خدشہ ہے۔فی الحال شمالی کوریا کی جانب سے اضافی فوجیوں اور ہتھیاروں کی تعیناتی کے حجم اور وقت کے بارے میں واضح تفصیلات سامنے نہیں آئی ہیں۔ آئندہ دنوں میں دونوں ممالک کے سرکاری بیانات اور سرحدی سرگرمیاں اس صورتِ حال کے ممکنہ رخ کا تعین کرنے میں اہم ہوں گی۔