دادی کے بینک اکاؤنٹ کی اصل سٹیٹمنٹ‘ نادر شاہ افغان کی جانب سے ملنے والی ایش ٹرے بھی شامل‘ پوتے منیب اقبال نے نشاندہی کردی
2006میں صدر پرویز مشرف نے94 اشیاء اسلام آبادمنتقل کرنے کاحکم دیا‘ صرف 54 اشیا ء کو ہی منتقل کیا گیا :ڈائریکٹر جاوید اقبال میوزیم حامد وزیر
لاہور(رپورٹ:عدنان ملک)علامہ اقبال کے زیر استعمال رہنے والی متعدد اشیا ء مبینہ طور پر چوری ہوگئیں‘ چوری ہونے والی اشیاء کی نشاندہی ان کے پوتے منیب اقبال نے عجائب گھر کے دورے کے دوران کی۔منیب اقبال کے مطابق عجائب گھر سے علامہ اقبال کی ٹوپی ، قالین اور سونے کی انگوٹھی سمیت دیگر اشیا ء چوری ہوئی ہیں۔ ڈائریکٹر جاوید اقبال میوزیم کا کہنا ہے تمام اشیا 2006 میں منسٹری آف کلچر میں منتقل کی گئی تھیں‘جاوید منزل میوزیم سے شاعر مشرق علامہ اقبال کے زیر استعمال رہنے والی اشیا ء کی مبینہ چوری اس وقت سامنے آئی جب علامہ اقبال کے پوتے منیب اقبال نے عجائب گھر کے دورے کے دوران اس کی نشاندہی کی۔ منیب اقبال نے ویڈیو میں بتایا عجائب گھر سے علامہ اقبال کی ٹوپی ، قالین ، دادی کے بینک اکاؤنٹ کی اصل سٹیٹمنٹ نادر شاہ افغان کی جانب سے ملنے والی ایش ٹرے اور سونے کی انگوٹھی سمیت کئی اشیاعجائب گھر سے غائب ہو چکی ہیں۔ علامہ اقبال کے پوتے منیب اقبال نے چیف سیکرٹری پنجاب کو خط لکھ کر تحقیقات کا مطالبہ کیا جس پر چیف سیکرٹری پنجاب نے ڈی سی لاہور کو انکوائری کا حکم دیا‘ انکوائری میں یہ بات سامنے آئی علامہ اقبال کی تاریخی چیزیں چوری نہیں بلکہ 2006 میں اس وقت کے صدر پاکستان پرویز مشرف کے حکم پر علامہ اقبال آڈیٹوریم اسلام آباد منتقل کیا گیا تھا۔ ڈائریکٹر جاوید اقبال میوزیم حامد وزیر کے مطابق اس وقت 94 اشیا اسلام آباد منتقل کرنے کا کہا گیا تھا مگر 54 اشیا کو ہی اسلام آباد منتقل کیا گیا تھا۔ جبکہ کراچی سے قائد اعظم کے زیر استعمال رہنے والی اشیا ء کو بھی اسی دور میں اسلام آباد منتقل کیا گیا تھا۔ جن میں نوٹ بکس ، بال جبریل ، 4 خطوط ، قرآن مجید ، پی ایچ ڈی کی ڈگری سمیت دیگر اشیا شامل تھیں۔