اسرائیل نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران میں ممکنہ نئی جنگ کے لیے تیاریوں کا سلسلہ جاری ہے، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے پاس معاہدے کے لیے صرف چند دن باقی ہیں، بصورت دیگر امریکا دوبارہ فوجی کارروائی کر سکتا ہے۔
اسرائیلی میڈیا رپورٹس کے مطابق وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو نے اعلیٰ سطحی سیکیورٹی اجلاس طلب کیا، جس میں فوج، فضائیہ اور دیگر دفاعی اداروں کے سربراہان شریک ہوئے۔ اجلاس میں ایران پر ممکنہ امریکی حملے کی صورت میں اسرائیلی تیاریوں کا جائزہ لیا گیا۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ نیتن یاہو نے اپنی عدالتی پیشی بھی منسوخ کر دی، جبکہ صدر اسحاق ہرزوگ نے نیویارک کا دورہ خطے کی حساس صورتحال کے باعث ملتوی کر دیا۔دوسری جانب صدر ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ایران کو مزید دو سے تین دن کی مہلت دی جا رہی ہے، اور اگر معاہدہ نہ ہوا تو امریکا ایک اور بڑا حملہ کر سکتا ہے۔ ان کے مطابق ایران ایٹمی ہتھیار حاصل کر کے اسرائیل اور خلیجی ممالک کو نشانہ بنا سکتا ہے۔ایرانی مؤقف کے مطابق تہران جنگ بندی کے بدلے پابندیوں کے خاتمے، منجمد اثاثوں کی بحالی اور خطے سے امریکی افواج کے انخلاء کا مطالبہ کر رہا ہے، جبکہ ایران نے واضح کیا ہے کہ وہ یورینیئم افزودگی روکنے پر تیار نہیں۔
ادھر امریکی وزارتِ خزانہ نے ایران کے خلاف نئی پابندیاں عائد کرتے ہوئے متعدد کمپنیوں، بحری جہازوں اور مالیاتی نیٹ ورک کو نشانہ بنایا ہے، جبکہ ایک ایرانی تیل بردار جہاز بھی قبضے میں لینے کی اطلاعات ہیں۔خطے میں کشیدگی کے دوران متحدہ عرب امارات نے عراق سے آنے والے ڈرونز کو مار گرانے کا دعویٰ کیا ہے، جن میں سے ایک حملہ براکہ جوہری پلانٹ کے قریب بھی ہوا۔امریکی فوجی حکام کے مطابق ایران میں ایک اسکول پر ہونے والے حملے کی تحقیقات بھی جاری ہیں، جس میں 168 بچوں کی ہلاکت کا دعویٰ سامنے آیا ہے۔