ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے دو ٹوک انداز میں کہا ہے کہ اگر اسرائیل کے حملے جاری رہے تو ایران کسی بھی فریق سے مذاکرات نہیں کرے گا۔
یہ بیان انہوں نے یورپی وزرائے خارجہ سے طے شدہ ملاقات سے قبل دیا ہے۔سرکاری ٹی وی سے گفتگو میں عراقچی کا کہنا تھا:"جب تک اسرائیل ہماری سرزمین پر حملے کرتا رہے گا، ہم کسی بھی فریق سے بات چیت نہیں کریں گے۔"انہوں نے مزید کہا کہ"ایران کی جانب سے مزاحمت کے بعد مجھے یقین ہے کہ دنیا اسرائیلی جارحیت سے خود کو علیحدہ کر لے گی۔"
جنیوا میں اہم سفارتی ملاقات
عباس عراقچی اس وقت سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا میں موجود ہیں جہاں ان کی فرانس، جرمنی اور برطانیہ کے وزرائے خارجہ سے ملاقات متوقع ہے۔ یہ اجلاس ایران کے متنازع جوہری پروگرام پر بات چیت کے لیے منعقد کیا جا رہا ہے۔
اسرائیلی حملے اور یورپی ردعمل
مذاکرات کا یہ عمل ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب پچھلے ہفتے اسرائیل نے ایران پر شدید حملے کیے، جس سے خطے میں کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔برطانوی وزیر خارجہ ڈیوڈ لیمی، جو اس مذاکراتی عمل کا حصہ ہیں، نے واشنگٹن میں امریکی حکام سے ملاقات کے بعد کہا:"آنے والے دو ہفتے سفارتی حل تلاش کرنے کے لیے نہایت اہم ہیں۔"
پس منظر
ایران اور اسرائیل کے درمیان حالیہ کشیدگی میں شدت اس وقت آئی جب اسرائیلی افواج نے ایران کی حساس تنصیبات پر فضائی حملے کیے، جن کے نتیجے میں کئی املاک کو نقصان پہنچا۔ ایران نے اس جارحیت کا بھرپور جواب دینے کا اعلان کیا ہے، اور ممکنہ طور پر سفارتی دروازے بند کرنے کا عندیہ دے دیا ہے۔