فیفا ورلڈ کپ 2026 کے فائنل میں ارجنٹینا کو اسپین کے ہاتھوں شکست کے ساتھ ایک ایسا منفی ریکارڈ بھی اپنے نام کرنا پڑا، جس کی مثال گزشتہ 60 برسوں کے دوران ورلڈ کپ فائنلز میں نہیں ملتی۔
اعداد و شمار کے مطابق ارجنٹینا کی ٹیم میچ کے ابتدائی 90 منٹ میں اسپین کے گول کی جانب ایک بھی شاٹ نہ لگا سکی۔ ورلڈ کپ فائنل جیسے بڑے مقابلے میں کسی ٹیم کا مقررہ وقت کے دوران حریف کے گول پر ایک بھی کوشش نہ کرنا انتہائی غیر معمولی اور نایاب واقعہ قرار دیا جا رہا ہے۔فٹبال ماہرین کے مطابق یہ اعداد و شمار ارجنٹینا کی جارحانہ حکمت عملی پر کئی سوالات اٹھاتے ہیں۔ اگرچہ ٹیم نے دفاعی انداز اپناتے ہوئے اسپین کے حملوں کو کافی حد تک روکے رکھا، تاہم حملہ آور کھلاڑی حریف کے گول پر کوئی مؤثر کوشش نہ کر سکے۔رپورٹس کے مطابق گزشتہ چھ دہائیوں میں ورلڈ کپ فائنل کھیلنے والی کسی بھی ٹیم کے ساتھ ایسا نہیں ہوا کہ وہ مقررہ وقت کے دوران ایک بھی شاٹ گول کی سمت نہ لگا سکے۔ اسی وجہ سے ارجنٹینا کے نام ایک منفرد مگر غیر خوشگوار ریکارڈ درج ہو گیا۔
میچ کا واحد اور فیصلہ کن گول اضافی وقت کے 106ویں منٹ میں اسپین کے فارورڈ فیران ٹوریس نے اسکور کیا، جس کی بدولت اسپین نے 1-0 سے کامیابی حاصل کرتے ہوئے دوسری مرتبہ فیفا ورلڈ کپ کا ٹائٹل اپنے نام کیا۔فٹبال تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ فائنل میں ارجنٹینا کی دفاعی حکمت عملی نے اگرچہ میچ کو طویل وقت تک متوازن رکھا، لیکن جارحانہ کھیل کی کمی ٹیم کے لیے مہنگی ثابت ہوئی اور وہ نہ صرف ٹائٹل سے محروم رہی بلکہ ایک ایسا منفی ریکارڈ بھی اپنے نام کر بیٹھی جو ورلڈ کپ کی تاریخ میں کم ہی دیکھنے کو ملتا ہے۔