وزیراعظم شہباز شریف نے حالیہ اجلاس میں حکام کو ہدایت دی کہ وہ انسانی اسمگلنگ میں ملوث ایف آئی اے اہلکاروں کے سہولت کاروں کی نشاندہی کریں۔
اجلاس میں 2023 کے یونان کشتی حادثے اور اس کے بعد کی تحقیقات پر بھی گفتگو کی گئی۔ وزیراعظم نے اس حادثے کے بعد ذمہ داروں کے خلاف کارروائی میں سست روی پر افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ یہ پاکستان کی بدنامی کا باعث بن رہا ہے۔وزیراعظم نے تحقیقات جلد مکمل کرنے اور ٹھوس سفارشات پیش کرنے کی ہدایت دی۔ ان کا کہنا تھا کہ انسانی اسمگلنگ نہ صرف پاکستان کی شہرت کو نقصان پہنچا رہی ہے بلکہ یہ ایک سنگین مسئلہ ہے جس کے خلاف بھرپور اقدامات کیے جانے چاہییں۔
اجلاس میں وزیراعظم کو انسانی اسمگلنگ کی روک تھام کے لیے حکومت کے حالیہ اقدامات اور یونان کشتی حادثے کے حوالے سے معلومات فراہم کی گئیں۔اس کے علاوہ وزیراعظم نے ایف آئی اے کے اہلکاروں کی کردار کشی کرنے والی سرگرمیوں کے بارے میں تحقیقات کرنے کی بھی ہدایت کی تاکہ اس غیر قانونی سرگرمی کو روکنے کے لیے ٹھوس قدم اٹھایا جا سکے۔ وزیراعظم نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ان کی حکومت اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے تمام ممکنہ وسائل استعمال کرے گی۔