ضمانت منسوخی، غیر معمولی وجوہات کا ہونا ضروری ہے:ہائی کورٹ

لاہور(خصوصی رپورٹ )لاہور ہائیکورٹ نے شادی کی تقریب گاڑی لیکر واپس نہ کرنے کے الزام میں درج مقدمے میں ملزم کی قبل از گرفتاری ضمانت منسوخ کرنے کی درخواست مسترد کر دی اور قرار دیا کہ ایک بار مجاز عدالت سے ضمانت منظور ہوجائے تو اسے منسوخ کرنے کیلئے مضبوط اور غیر معمولی وجوہات کا ہونا ضروری ہے۔عدالت نے قرار دیا کہ ضمانت منسوخی کے مرحلے پر عدالت اس وقت مداخلت کرسکتی ہے جب ضمانت دینے کا حکم بادی النظر میں غیر قانونی، واضح طور پر غلط یا انصاف کے تقاضوں کے منافی ہو، یا ملزم نے ضمانت کی رعایت کا غلط استعمال کیا ہو۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس محمد امجد پرویز نے شہری مسعود اسلم کی جانب سے دائر فوجداری متفرق درخواست پر4 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کیا، درخواست گزار نے ضابطہ فوجداری کی دفعہ 497(5) کے تحت ملزم کی قبل از گرفتاری ضمانت منسوخ کرنے کی استدعا کی تھی، عدالتی فیصلے کے مطابق معاملہ تھانہ مزنگ لاہور سے متعلق تھا، جو تعزیرات پاکستان کی دفعہ 406 کے تحت درج کی گئی۔ایف آئی آر کے مطابق ملزم نے درخواست گزار سے گاڑی شادی کی تقریب میں شرکت کے لئے28 نومبر 2025 کو دس روز کیلئے حاصل کی، تاہم بعد ازاں گاڑی واپس نہ کی، ملزم ابتدا میں مختلف حیلے بہانے کرتا رہا اور بالآخر گاڑی واپس کرنے سے انکار کردیا، ملزم کو ایڈیشنل سیشن جج لاہور نے 30 جون 2026 کو قبل از گرفتاری ضمانت دے دی تھی