جہاں بنیادی انسانی حقوق نہ ہوں وہ ریاست خطرے میں پڑ جاتی ہے احسن اقبال

 اسلامی ریاست کی بنیاد فتوحات پر نہیں  سماجی انصاف پر ہے‘انڈونیشیا اور ملائیشیا سمیت کئی ممالک میں اسلام تلوار یا جنگ سے نہیں  تاجروں کے کردار سے پھیلا
ریاست مدینہ میں سماجی انصاف وہ قوت تھی جس نے لوگوں کو مقناطیس کی طرح اپنی طرف کھینچا: وفاقی وزیر منصوبہ بندی کا سیمینارسے خطاب

اسلام آباد(آن لائن ) رحمت ا للعالمین اتھارٹی کے زیر اہتمام اسلام اور اقلیتیں کے موضوع پرمنعقدہ سیمینارسے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیربرائے منصوبہ بندی،ترقی و اصلاحات پروفیسر احسن اقبال نے کہاہے  اسلامی ریاست کی بنیاد فتوحات پر نہیں بلکہ سماجی انصاف پر ہے،انڈونیشیا اور ملائیشیا سمیت کئی ممالک میں اسلام تلوار یا جنگ سے نہیں بلکہ تاجروں کے کردار سے پھیلا، ریاست مدینہ میں سماجی انصاف وہ قوت تھی جس نے لوگوں کو مقناطیس کی طرح اپنی طرف کھینچا۔انہوں نے کہا ریاست مدینہ میں سماجی انصاف وہ قوت تھی جس نے لوگوں کو مقناطیس کی طرح اپنی طرف کھینچا۔انہوں نے کہا کہ ریاست اور شہریت کا معاہدہ ہی معاشرے کی بنیاد ہے اور اسلام میں ریاست کا تصور انصاف سے جدا نہیں ہوسکتا۔ اگر کسی ریاست میں بنیادی انسانی حقوق نہ ہوں تو وہ ریاست خطرے میں پڑ جاتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت میں اقلیتوں پر ظلم ہو تو ہم آواز بلند کرتے ہیں، لیکن اگر اپنے ملک میں زیادتی ہو تو خاموشی کیوں اختیار کی جاتی ہے؟وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان میں اقلیتوں کو غیر محفوظ سمجھنا دو قومی نظریے کی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان بنانے والوں کا تصور قائداعظم اور علامہ اقبال کی ریاست تھا، اور ہمیں میثاق مدینہ جیسے ماڈل کی طرف بڑھنا ہوگا۔چیئرمین رحمت للعالمین اتھارٹی خورشید احمد ندیم نے کہا کہ قائداعظم کی گیارہ اگست کی تقریر میثاق مدینہ کا عکس تھی، جس میں پاکستان کو ریاست مدینہ کی طرح اقلیتوں کے لیے پناہ گاہ قرار دیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اقلیتوں کو یہ یقین ہونا چاہئے  پاکستان جتنا اسلامی ریاست بنے گا، وہ اتنا ہی محفوظ ہوں گی