ایران کا امریکا سے مذاکرات سے انکار: ارنا کا دعویٰ، میرے نمائندے کل اسلام آباد میں ہونگے : ٹرمپ

 دوسرا دور،ایران ، امریکا کل مذاکرات؟
 ایران امریکا سے تبھی مذاکرات کرے گا جب دشمن ایران پر دوبارہ حملہ نہ کرنے کا وعدہ کرے اور ایران کے بین الاقوامی حقوق تسلیم کرے:رضا محمد عارف،ایرانی مذاکراتی ٹیم منگل کو اسلام آباد پہنچے گی، بدھ کو جنگ بندی میں توسیع متوقع، امریکی میڈیا
اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) دوسرا دور،ایران ، امریکا کل مذاکرات ہونے کا امکان ہے ،ایران نے امریکا سے دوسرے دور کے مذاکرات سے انکار کردیا ہے۔ایرانی سرکاری خبررساں ایجنسی ارنا نے بڑا دعویٰ کیا ہے کہ تہران نے واشنگٹن سے اسلام آباد میں دوسرے دور کے مذاکرات سے انکار کردیا ہے۔ایران نے امریکا سے مذاکرات سے متعلق اپنی رضا مندی کی تردید کی اور اس کی بڑی وجہ واشنگٹن کے بیجا مطالبات کو قرار دیا ہے۔ارنا کی رپورٹ میں کہا گیا کہ ایران نے اسلام آباد میں امن مذاکرات کے دوسرے دور میں شرکت کی تردید کی جو امریکا کے مطابق کل منعقد ہو رہے ہیں۔رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ واشنگٹن کے حد سے زیادہ مطالبات، غیر حقیقت پسندانہ توقعات، موقف میں بار بار تبدیلی، تضادات اور جاری بحری ناکہ بندی قابل تنقید اور جنگ بندی کی خلاف ورزی ہیں۔ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے نے رپورٹ میں یہ بھی کہا کہ اسلام آباد میں مذاکرات سے متعلق خبریں درست نہیں، یہ امریکی میڈیا کا پروپیگنڈا ہیں، اس حکمت عملی کا مقصد ایران پر دبائو ڈالنا ہے۔دوسری طرف ایران کے اول نائب صدر ر:ضا محمد عارف نے کہا کہ ایران امریکا سے تبھی مذاکرات کرے گا جب دشمن ایران پر دوبارہ حملہ نہ کرنے کا وعدہ کرے اور ایران کے بین الاقوامی حقوق تسلیم کرے۔رضا محمد عارف نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ آبنائے ہرمز کی بندش کے بعد ایران کے دشمن اب مذاکرات کے لیے ایران سے بھیک مانگ رہے ہیں۔اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کہہ چکے ہیں کہ میرے نمائندے اسلام آباد جارہے ہیں، وہ کل شام مذاکرات کیلیے موجود ہوں گے۔امریکی صدر نے کہا کہ ایران نے کل آبنائے ہرمز میں گولیاں چلانے کا فیصلہ کیا جو سیزفائر کی خلاف ورزی ہے۔امریکی میڈیا نے ذرائع سے ایرانی مذاکراتی ٹیم کے منگل کو اسلام آباد پہنچنے کی خبر چلادی۔امریکی چینل نے ایرانی ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ ایرانی مذاکراتی ٹیم امریکا سے مذاکرات کیلئے منگل کو پاکستان پہنچے گی۔رپورٹ کے مطابق ایرانی مذاکراتی ٹیم پہلے مرحلے میں شامل ارکان پر ہی مشتمل ہوگی، جو توقع کر رہے ہیں کہ بدھ کو جنگ بندی میں توسیع کا علامتی مشترکہ اعلان ہوگا۔امریکی چینل نے رپورٹ کیا کہ معاملات ٹھیک رہے اور ٹرمپ پاکستان جانے پر راضی ہوئے تو ایرانی صدر بھی پاکستان جائیں گے۔رپورٹ کے مطابق امریکی اور ایرانی صدور پاکستان گئے تو ان کا اجلاس ہوگا، جس کے بعد مشترکہ اعلامیے پر دستخط کیے جائیں گے۔امریکی چینل نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ ایران کی جانب سے باضابطہ طور پر وفد بھیجنے کی تصدیق نہیں کی گئی ہے۔ایرانی مذاکراتی وفد کے سربراہ اور پارلیمنٹ کے اسپیکر ڈاکٹر محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ امریکا سے مذاکرات میں پیشرفت ہوئی ہے لیکن اب بھی بہت فاصلہ ہے۔ایک انٹرویو میں باقر قالیباف نے کہا کہ دشمن ایران پر حملے کے اپنے اہداف حاصل نہیں کرسکا وہ ناکام ہوگیا ہے۔