انگلش فاسٹ بولر برائیڈن کارس کو پولیس تحقیقات میں ریلیف مل گیا

انگلش فاسٹ بولر برائیڈن کارس کو پولیس تحقیقات میں ریلیف مل گیا

ڈربی: انگلینڈ کے فاسٹ بولر برائیڈن کارس کے خلاف ڈربی میں مبینہ حملے کے معاملے کی پولیس تحقیقات ختم کردی گئی ہیں، جس کے بعد کرکٹر کو اس کیس میں کسی فوجداری مقدمے یا فردِ جرم کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔

 تاہم انگلش کرکٹ کے ریگولیٹری ادارے کی جانب سے ان کے طرزِ عمل سے متعلق الگ تحقیقات جاری رہیں گی۔31 سالہ برائیڈن کارس کو 23 اگست 2026 کی صبح ڈربی سٹی سینٹر میں ایک بار کے باہر پولیس نے نشے کی حالت میں بد نظمی کے شبہے میں حراست میں لیا تھا۔ بعد میں ان کی تفصیلات درج کرنے کے بعد انہیں رہا کردیا گیا۔ واقعے کی ویڈیو اور تصاویر سوشل میڈیا پر سامنے آئیں، جن میں انہیں پولیس اہلکاروں کے درمیان ہتھکڑیوں میں دیکھا گیا تھا۔پولیس کے مطابق اسی واقعے سے متعلق بعد میں ڈربی سٹی سینٹر میں مبینہ حملے کی شکایت سامنے آئی، جس پر الگ تحقیقات شروع کی گئیں۔ پولیس نے اب تصدیق کی ہے کہ مبینہ متاثرہ شخص کی شناخت اور اس سے گفتگو کے بعد مزید کارروائی نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔اہم بات یہ ہے کہ کارس کو مبینہ حملے کے الزام میں گرفتار نہیں کیا گیا تھا۔ ان کی ابتدائی حراست نشے کی حالت میں بد نظمی کے شبہے میں ہوئی تھی، جبکہ حملے سے متعلق تحقیقات بعد میں شروع کی گئی تھیں۔ پولیس کی جانب سے اب اس معاملے کو بھی بند کردیا گیا ہے۔

واقعے کے اثرات برائیڈن کارس کے بین الاقوامی کیریئر پر بھی پڑے۔ انہیں پاکستان کے خلاف انگلینڈ کی ٹیسٹ سیریز کے دوسرے اور تیسرے ٹیسٹ کے اسکواڈ سے باہر رکھا گیا، جبکہ بعد میں سری لنکا کے خلاف وائٹ بال سیریز کے لیے بھی ان کا انتخاب نہیں کیا گیا۔انگلینڈ کے وائٹ بال کوچ برینڈن میک کولم نے اس سے قبل کہا تھا کہ کارس کو اس واقعے سے پیدا ہونے والے معاملات پر توجہ دینے اور مستقبل میں آف دی فیلڈ بہتر فیصلے کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ ان کی عدم شمولیت کسی جاری تحقیقات کے نتیجے کو پہلے سے طے نہیں کرتی۔پولیس کی جانب سے فوجداری تحقیقات ختم کیے جانے کے باوجود معاملہ مکمل طور پر ختم نہیں ہوا، کیونکہ کرکٹ ریگولیٹر اب بھی یہ جائزہ لے گا کہ آیا کارس کے طرزِ عمل نے کرکٹ کے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کی یا نہیں اور ان کے خلاف کسی تادیبی کارروائی کی ضرورت ہے یا نہیں۔

یوں ڈربی کے واقعے میں برائیڈن کارس کے خلاف پولیس کا معاملہ مزید کارروائی کے بغیر ختم ہوگیا ہے، جبکہ ان کے مستقبل کے حوالے سے فیصلہ اب انگلش کرکٹ کے داخلی تادیبی عمل اور سلیکشن پالیسی سے جڑا ہوا ہے۔