برائیڈن کارس پر ضابطۂ اخلاق کی خلاف ورزی کا الزام عائد

برائیڈن کارس پر ضابطۂ اخلاق کی خلاف ورزی کا الزام عائد

انگلینڈ کے فاسٹ بولر برائیڈن کارس پر ڈربی میں نائٹ کلب کے ایک واقعے کے بعد انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ (ECB) کے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا گیا ہے۔

کرکٹ ریگولیٹر کی جانب سے یہ کارروائی واقعے کی تحقیقات مکمل ہونے کے بعد کی گئی۔ واقعہ 23 اگست کو ڈربی میں پیش آیا، جہاں کارس ڈرہم کے ساتھی کھلاڑیوں کے ساتھ موجود تھے۔رپورٹس کے مطابق پولیس نے برائیڈن کارس کو واقعے کے دوران حراست میں لیا تھا، تاہم بعد ازاں انہیں رہا کردیا گیا۔ ڈربی شائر پولیس نے مبینہ حملے کے معاملے کی بھی تحقیقات کیں، لیکن ستمبر میں مزید کارروائی نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔کرکٹ ریگولیٹر کے مطابق کارس پر ECB کے پروفیشنل کنڈکٹ ریگولیشن کی شق 3.2 کی خلاف ورزی کا الزام ہے۔ یہ کارروائی ان کے طرزِ عمل سے متعلق تحقیقات کے نتیجے میں سامنے آئی ہے۔

واقعے کے بعد انہیں پاکستان کے خلاف دوسرے ٹیسٹ کے لیے انگلینڈ کے اسکواڈ سے واپس بلا لیا گیا تھا۔ تاہم بعد میں کارس دوبارہ انگلینڈ کی ٹیم میں شامل ہوئے اور جولائی 2026 میں بھارت کے خلاف ون ڈے سیریز کے اسکواڈ کا بھی حصہ تھے۔کرکٹ ریگولیٹر کی جانب سے عائد الزام پر حتمی فیصلہ اور ممکنہ سزا کا معاملہ الگ کارروائی کے تحت طے کیا جائے گا۔