جب ریاست ماں ہو، تو بچے غیر محفوظ کیوں؟

حسن مجتبیٰ
ریاست کو اکثر ماں سے تشبیہ دی جاتی ہے؛ ایسی ماں جو اپنے شہریوں کو تحفظ دے، ان کے حقوق کی حفاظت کرے اور مشکل وقت میں ان کے لیے سہارا بنے۔ یہی تصور ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ اگر ہمارے بچے مختلف نوعیت کے خطرات سے دوچار ہوں تو ہمیں بحیثیت معاشرہ اور ریاست کیا مزید بہتر کرنے کی ضرورت ہے؟بچوں کے حقوق اور تحفظ کی صورتحال کے حوالے سے مختلف عالمی اور ملکی رپورٹس وقتاً فوقتاً اہم اعداد و شمار سامنے لاتی ہیں۔ KidsRights Index 2025 کے مطابق پاکستان 194 ممالک میں 155ویں نمبر پر رہا، جبکہ 2024 میں پاکستان کی پوزیشن 153ویں تھی۔ یہ درجہ بندی بچوں کے حقوق سے متعلق مختلف اشاریوں کو سامنے رکھتی ہے اور اس بات کی طرف توجہ دلاتی ہے کہ بچوں کے تحفظ اور بہبود کے میدان میں مزید کام کی گنجائش موجود ہے۔

UNICEF اور NCRC کی مشترکہ State of Children in Pakistan 2025 رپورٹ کے مطابق، 2025 میں پاکستان کے پانچ بڑے پولیس ڈیٹا ذرائع میں بچوں کے خلاف جنسی جرائم کے 17,348 رپورٹ ہوئے۔ ان میں پنجاب کا حصہ تقریباً 74 فیصد تھا۔یہ اعداد یقیناً تشویش کا باعث ہیں، لیکن ان کے ساتھ ایک اور حقیقت کو بھی سمجھنا ضروری ہے: سرکاری یا میڈیا رپورٹس میں صرف وہی واقعات شامل ہوتے ہیں جو رپورٹ ہو سکیں۔ ایسے واقعات بھی ہو سکتے ہیں جو مختلف سماجی، خاندانی یا نفسیاتی وجوہات کی بنا پر رپورٹ نہ کیے جائیں۔یہی وجہ ہے کہ بچوں کے تحفظ کا مسئلہ صرف اعداد و شمار تک محدود نہیں۔ یہ ایک ایسا معاملہ ہے جس میں آگاہی، تعلیم، والدین کی رہنمائی، ادارہ جاتی نظام اور مؤثر قانون سازی سب اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔

Sahil کی Cruel Numbers 2026 رپورٹ کے مطابق جنوری سے جون 2026 کے دوران اخبارات اور میڈیا میں بچوں سے متعلق 1,914 کیسز رپورٹ ہوئے، جن میں 1,015 کیسز بچوں کے جنسی استحصال سے متعلق تھے۔ رپورٹ میں یہ بھی نشاندہی کی گئی کہ متعدد واقعات میں مبینہ ملزمان بچے کے جاننے والے افراد تھے اور ایک بڑی تعداد ایسے واقعات کی بھی تھی جو گھریلو ماحول میں پیش آئے۔یہ پہلو ہمیں ایک اہم بات سمجھاتا ہے کہ بچوں کو محفوظ رکھنے کے لیے صرف اجنبیوں سے محتاط رہنے کی تعلیم کافی نہیں۔ بچوں کو یہ اعتماد بھی دینا ضروری ہے کہ اگر انہیں کسی بھی شخص کے رویے سے خوف یا بے آرامی محسوس ہو تو وہ بلا خوف کسی قابلِ اعتماد بالغ سے بات کر سکتے ہیں۔

کیا ہمارے تعلیمی ادارے محفوظ ہیں؟

اس سوال کا جواب صرف یہ نہیں ہونا چاہیے کہ اسکول، کالج یا یونیورسٹی کی عمارت کتنی محفوظ ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ وہاں ایسا ماحول موجود ہے یا نہیں جہاں بچے خود کو محفوظ، باعزت اور سنا ہوا محسوس کریں۔تعلیمی اداروں میں واضح safeguarding policies، awareness، شکایات کے محفوظ ذرائع، اساتذہ کی تربیت اور طلبہ میں اس نظام کا اہم حصہ ہیں۔اگر کوئی بچہ کسی نامناسب رویے یا زیادتی کی شکایت کرتا ہے تو سب سے پہلے اس کی بات کو سنجیدگی سے لینا ضروری ہے۔ بچے کو موردِ الزام ٹھہرانے کے بجائے اسے تحفظ اور مناسب مدد فراہم کرنا ایک ذمہ دار معاشرے کی علامت ہے۔

انصاف کے ساتھ آگاہی بھی ضروری ہے

جنوری 2026 میں اقوام متحدہ کے اجلاس میں پاکستانی وفد کی جانب سے بتایا گیا کہ گزشتہ پانچ برسوں میں child sexual abuse cases میں conviction rate پانچ فیصد سے بڑھ کر 17 فیصد ہوا ہے۔یہ اعداد و شمار قانونی نظام میں ہونے والی پیش رفت کی ایک تصویر پیش کرتے ہیں، تاہم بچوں کے تحفظ کے معاملے میں صرف سزا کی شرح ہی کافی نہیں۔ بچاؤ، بروقت رپورٹنگ، مؤثر تفتیش، متاثرہ بچے کی معاونت اور فوری انصاف سب ایک مکمل نظام کا حصہ ہیں۔ہمیں ایسے نظام کی ضرورت ہے جس میں ایک بچہ یہ محسوس کرے کہ اگر اس کے ساتھ کوئی غلط بات ہوتی ہے تو وہ اکیلا نہیں ہے۔

بچوں کا تحفظ یقیناً ریاست کی اہم ذمہ داری ہے، لیکن یہ ذمہ داری صرف حکومت یا قانون نافذ کرنے والے اداروں تک محدود نہیں۔والدین، اساتذہ، تعلیمی ادارے، میڈیا، مذہبی و سماجی رہنما، سول سوسائٹی اور خود بچے— سب اس نظام کا حصہ ہیں۔ والدین کو بچوں کے ساتھ ایسا تعلق قائم کرنا ہوگا جہاں بچہ اپنے مسائل بلا خوف بیان کر سکے۔ تعلیمی اداروں کو واضح حفاظتی پالیسیوں پر عمل کرنا ہوگا۔ میڈیا کو ایسے واقعات رپورٹ کرتے ہوئے متاثرہ بچوں کی شناخت اور عزتِ نفس کا خیال رکھنا ہوگا، اور ریاستی اداروں کو موجودہ قوانین اور تحفظ کے نظام کو مزید مؤثر بنانا ہوگا۔آج ہمیں خود سے یہ سوال ضرور کرنا چاہیے کہ ہم اپنے بچوں کے لیے کیسا معاشرہ تشکیل دے رہے ہیں؟کیا ہم انہیں صرف تعلیم دے رہے ہیں یا انہیں محفوظ رہنے کے طریقے بھی سکھا رہے ہیں؟کیا ہم انہیں اچھا شہری بننے کی تربیت دے رہے ہیں یا یہ اعتماد بھی دے رہے ہیں کہ مشکل وقت میں ان کی بات سنی جائے گی؟
علامہ اقبال نے کہا تھا:

حیا نہیں ہے زمانے کی آنکھ میں باقی
خدا کرے کہ جوانی تری رہے بے داغ

آج اس شعر کو صرف ایک ادبی حوالہ سمجھنے کے بجائے ہمیں اسے بچوں کے محفوظ مستقبل کے تناظر میں بھی دیکھنا چاہیے۔بچوں کا تحفظ کسی ایک ادارے یا فرد کی ذمہ داری نہیں۔ یہ ایک اجتماعی ذمہ داری ہے۔ریاست کو اپنے قوانین اور اداروں کو مزید مؤثر بنانا ہے، تعلیمی اداروں کو محفوظ ماحول فراہم کرنا ہے، والدین کو بچوں کے ساتھ اعتماد کا رشتہ مضبوط کرنا ہے، اور معاشرے کو خاموشی کے بجائے آگاہی اور ذمہ داری کا راستہ اختیار کرنا ہے۔کیونکہ ایک محفوظ بچہ ہی ایک پْراعتماد انسان، ایک بہتر شہری اور ایک مضبوط معاشرے کی بنیاد بن سکتا ہے۔ریاست اگر ماں ہے، تو ہمیں مل کر یہ یقینی بنانا ہوگا کہ اس کے بچے محفوظ بھی ہوں، باعزت بھی اور اپنے مستقبل کے بارے میں پْرامید بھی۔